ابنا: ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے آج جنگی بحری جہاز جماران کے عرشے پر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ولایت نوے نامی بحری فوجی مشقوں کا ہدف اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ کے عزم و ارادے اور توانائيوں کا مظاہرہ اور آزاد پانیوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مفادات کا تحفظ کرنے کے عزم سے دنیا کو آگاہ کرنا ہے۔
ایڈمرل سیاری نے کہا کہ ایران نے اپنی بحریہ کی یہ مشقیں انجام دے کر آزاد پانیوں میں اپنےمفادات کے تحفظ کا عزم اور اپنی ڈیٹرینٹ طاقت کا مظاہرہ کیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ان مشقوں کا مقصد یہ بھی ہے کہ علاقائي ممالک کے تعاون سے اوران ملکوں کو امن و صلح کا پیغام دے کر پائیدار امن قائم کیا جاسکتا ہے۔
ایڈمرل سیاری نے کہا کہ ولایت نوے بحری مشقوں میں سرعت عمل، بحریہ کی باریک بینی اور مہارت نیز نشانہ لینےکی توانائیوں پر زور دیا گيا۔
انہوں نے کہا کہ بحریہ کی یہ تمام توانائياں اعلی ترین سطح پر پائي گئيں۔
ایڈمرل سیاری نے جماران تباہ کن بحری جہاز کو بڑے جنگي بحری جہاز بنانے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت اور ٹیکنالوجیکل توانائيوں کا مظہر قرار دیا اور کہا کہ سامراج یہ سمجھ رہا تھا کہ ایران کا یہ بحریہ جہاز آزاد پانیوں میں کاروائياں انجام دینے کے قابل نہیں ہے لیکن جماران بحری جہاز نے ستر دنوں تک خلیج عدن اور بحیرۂ احمر میں اپنا مشن انجام دے کر سامراج کو غلط ثابت کر دیا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ کی عظیم فوجی مشقیں چوبیس دسمبر کو شروع ہوئي تھیں اور تین جنوری تک جاری رہیں گي۔
ایڈمرل سیاری نے کہا کہ ولایت نوے بحری مشقوں کے تیسرے مرحلے کے دوسرے دن زمین سے فضا میں مار کرنے والے مختلف میزائل داغے گئے۔
انہوں نے کہا یہ میزائل ایرانی ماہرین نے بنائے ہیں۔ انہوں نے کہا آج اور کل ان مشقوں میں زمین سے زمین پر اور کندھے پر رکھ کر فائر کئےجانے والے میزائل داغے جائيں گے۔........ /169