25 دسمبر 2011 - 20:30

يمن ميں عوام کي سرکوبي اور قتل عام پر اعتراض کرتے ہوئے نامزد وزير اعظم محمد سالم باسندوہ نے خبردار کيا ہے کہ صنعا ميں مظاہرين پے وحشيانہ حملے اور قتل عام کے ذمہ داروں کي نشاندہي نہ کي گئي تو وہ اپنے عہدے سے استعفي دے ديں گے -

ابنا: يمن کے نئے وزيرا‏عظم محمد سالم باسندوہ نے واضح کيا ہے کہ انہوں نے عبداللہ صالح کےمعاون عبدربہ منصور کو اپنے اس فيصلے سے آگاہ کرديا ہے- مارب پريس کي رپورٹ کے مطابق اسپتال کے ذرائع نے بتايا ہے کہ ہفتے کے روز ڈکٹيٹر عبداللہ صالح کے حامي فوجيوں کي جانب سے مظاہرين پر کي جانے والي فائرنگ ميں چودہ افراد ہلاک اور ڈھائي سو زخمي ہوئے ہيں-

يمن کے ڈکٹيٹر عبداللہ صالح کے حامي سيکورٹي اہلکاروں کي جانب سے شہريوں کے قتل کا يہ واقعہ اس وقت پيش آيا ہے جب رياض سمجھوتے کے تحت عبداللہ صالح کو عدالتي کاروائي سے استثني ديئے جانے کے خلاف مظاہرہ کرنے والے لاکھوں لوگ مارچ کرتے ہوئے جنوبي شہر تعز سے دارلحکومت صنعا پہنچے تھے -

مظاہرين صنعا پہنچنے کے بعد ايوان صدر کي جانب بڑھنا چاہتے تھے کہ سيکورٹي فورس کے اہلکاروں نے ان پر فائرنگ کردي-

ادھر العالم ٹيلي ويژن نے بتايا کہ ہے عوام کے قتل عام کے خلاف صوبہ صعدہ، الجوف، عمران، حجہ، الحديدہ سے لاکھوں کي تعداد ميں لوگ پيدل مارچ کي شکل ميں دارالحکومت صنعا کي طرف روانہ ہوگئے ہيں-

يہ لوگ عبداللہ اور اس کے حاميوں کے خلاف مقدمہ چلائے جانے کا مطالبہ کر رہے ہيں - يمن کے انقلابي عوام کا کہنا ہے کہ ملک کے سيکورٹي اور سياسي حالات کشيدہ ہيں اور موجودہ حکومت غير قانوني ہے لہذا اسے ختم ہوجانا چاہيے-

يمن کے عوام سياسي جماعتوں پر مشتمل ايک عوامي انقلابي حکومت کے قيام کا مطالبہ کررہے ہيں - يمني عوام بارہا اس بات پر زور دے چکے ہيں کہ سعودي عرب کي جانب سے پيش کيا جانے والا خليج فارس تعاون کونسل کا منصوبہ ملک کے آمر اور اسکي آمريت کو بچانے کي کوشش ہے-

دوسري جانب اقوام متحدہ کے انساني حقوق کے ادارے نے بے گناہ يمني شہريوں کے قتل کي مذمت کرتے ہوئے عبداللہ صالح پر عالمي فوجداري عدالت ميں مقدمہ چلائے جانے کا مطالبہ کيا ہے-........

/169