ابنا: شاہ فیصل کالونی میں عزاداران امام زین العابدین علیہ السلام پر ہونے والی فائرنگ اور اس کے بعد کے واقعات کے اصل حقائق در اصل کچھ اور ہیں جسے دہشت گرد ٹولہ جو کہ شاہ فیصل کالونی میں قائم مدرسہ جامعہ فاروقیہ سے دہشت گردانہ کاروائیاں انجام دیتا ہے، نے عزاداروں پر ہونے والی فائرنگ اور دہشت گردانہ حملہ کے اصل حقائق کا رخ موڑنے کے لئے سازشوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
شاہ فیصل کالونی میں ۲۵ محرم الحرام کو امام زین العابدین علیہ السلام کی شہادت کے موقع پر جامعہ فاروقیہ کے دہشت گرد احمد قمر نے عین اس وقت عزاداروں پر فائرنگ کی جب عزاداران امام مظلوم علیہ السلام جلوس عزاء میں شریک ہونے کے لئے آ رہے تھے ،دہشت گرد احمد قمر کہ جس کا تعلق دہشت گردوں کی سب سے بڑی آماجگاہ جامعہ فاروقیہ سے تھا ،نے عزاداران امام حسین علیہ السلام جن میں بچے،جوان اور خواتین شامل تھیں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا اور اپنے دیگر دہشت گرد ساتھیوں کے ہمراہ عزاداروں کی گاڑیوں کو توڑ دیا جس کے بعد جلوس عزاء میں شریک عزاداران امام حسین علیہ السلام نے دہشت گردوں کے خلاف زبر دست احتجاج شروع کرتے ہوئے پولیس انتظامیہ کی نا اہلی کے خلاف نعرے بازی شروع کی۔
کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے احتجاج کے بعد پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کرجامعہ فاروقیہ کے دہشت گرد احمد قمر کو گرفتار کر لیا تاہم رات گئے پولیس انتظامیہ نے دہشت گرد کی ہلاکت کی اطلاع ذرائع ابلاغ پر جاری کر دی۔
واضح رہے کہ شاہ فیصل کالونی میں ہونے والی دہشت گردانہ کاروائی پولیس کی نا اہلی اور دہشت گردوں کے ساتھ ملی بھگت کا نتیجہ تھی۔
اس بات کا انکشاف اس وقت ہوا کہ جب علاقہ مکینوں نے پاکستان میں دہشت گردوں کی سب سے بڑی آماجگاہ جامعہ فاروقیہ سے تعلق رکھنے والے وہابی احمد قمر اور اس کے ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کروانے کے لئے پولیس کو درخواست دی تو علاقہ ایس ایچ او ندیم بیگ نے دہشت گردوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا جبکہ دوسری جانب جامعہ فاروقیہ کے دہشت گردوں کے سرپرستوں قاری عثمان، مولانا راحت علی، مولانا عبید اللہ خالداور دیگر کے کہنے پر علاقہ ایس ایچ او ندیب بیگ نے شیعہ دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے بے گناہ شیعہ نوجوانوں کے خلاف ہی جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔
دوسری جانب پولیس کا شیعہ دشمنی کا ثبوت اس وقت عیاں ہوا کہ جب پولیس انتظامیہ نے جلوس عزاء کے اطراف سیکورٹی کے عنوان سے یہ بیان جاری کیا کہ سیکورٹی کے انتظامات مکمل تھے، جبکہ جلوس عزاء کے اطراف اور جلوس عزاء میں پولیس انتظامیہ کی نا اہلی اور دہشت گردوں سے ملی بھگت کے سبب جامعہ فاروقیہ کے دہشت گردوں نے عزاداروں کو نشانہ بنایا اور بچوں،کواتین سمیت نوجوانوں کو فائرنگ کر کے زخمی کر دیا۔ .................
/169