اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین میں آل سعود کی طرف سے عوام کو کچلنے کا خونی سلسلہ جاری ہے جبکہ انقلابی تحریک منگل 20 دسمبر 2011 کو تین سو گیارہ دنوں کی ہوگئی ہے۔بحرین میں کل کیا واقعات رونما ہوئے:ــ خلیفی غنڈوں کی طرف سے حسینی شعائر کی بے حرمتیآل خلیفہ کے گماشتے اور غنڈے آشاوس نامی گاؤں میں بحرینی عوام کا سامنے کرنے سے عاجز ہونے کے بعد شرمناک اقدام کرتے ہوئے محرم کے سلسلے میں نصب بینرز اور پرچموں پر حملہ آور ہوئے اور علموں کو اکھاڑ کر پھاڑ دیا۔ــ بحرین: خلیفی غنڈوں نے 15 انقلابی نوجوانوں کو گھروں سے گرفتار کرلیاآل خلیفہ خاندان نے حالات پر قابو پانے سے عاجز ہوکر لوگوں کے خلاف انتقامی کاروائیاں تیز کردی ہیں اور ہفتے کے روز عوامی مظاہروں کے انتقام کے طور پر خلیفی فورسز نے کل انقلابی نوجوانوں کے گھروں پر چھاپے مار کر 15 نوجوانوں کو گرفتار کرکے نامعلوم مقامات پر منتقل کردیا ہے۔گرفتار افراد میں سے بعض کے نام مندرجہ ذیل ہیں:1- حسين علي موسى؛2- محمود علي موسی؛3- مرتضى حسن علي المطوع؛4- فاضل عباس مرزق؛5- محمد علي مرزق؛ 6- سيد حسين سيدهادي؛ 7- حسن حسين العشيري؛ 8- عباس علي حسن؛ 9-عيسى عبدالله احمد (ولد ابوعيسى).
ــ بحرین: شہید ہونے والی مسجدوں کی تعمیر نوآل سعود کی دراندازی کے بعد سے اب تک بحرین میں درجنوں مساجد شہید کردی گئی ہیں لیکن موصولہ اطلاعات کے مطابق بحرین کے مخیر اور انقلابی عوام نے ان مساجد کی تعمیر نو کا سلسلہ شروع کررکھا ہے اور کئی مساجد دوبارہ زیر تعمیر ہیں۔یاد رہے کہ آل سعود کے غنڈوں کی دراندازی کے بعد سے اب تک پچاس سے زائد مساجد اور درجنوں امام بارگاہیں شہید کردی گئی ہیں گو کہ آل خلیفہ نے ان مساجد کو شہید کرنے کے بعد رات کی تاریکی میں سنی مسلمانوں کی بھی کئی ایک مساجد کو شہید کردیا ہے تا کہ شیعہ عوام حکومت کو سنی سمجھ کر رد عمل دکھائیں اور سنی باشندے بھی اپنی مسجدوں کی شہادت کی ذمہ داری اہل تشیع پر عائد کریں اور یوں ملک میں فرقہ وارانہ جنگ چھڑ جائے تا کہ آل خلیفہ کی حکومت دنیا والوں سے کہہ سکے کہ بحرین میں عوام جمہوری حقوق کے لئے نہيں اٹھے بلکہ یہ ایک فرقہ وارانہ لڑائی ہے۔ گو کہ شہید ہونے والی مسجدوں کے ویرانوں پر بھی نماز با جماعت کا سلسلہ مسلسل جاری رہا ہے اور اب تو ساری مسجدوں کے ویرانوں پر مسلسل نماز با جماعت کا انعقاد ہورہا ہے کیونکہ آل خلیفہ خاندان نے کئی مساجد کو پارکوں میں تبدیل کردیا ہے۔
ــ بحرین: عالم مجاہد عبدالامیرالجمری کی یاد میں پرامن مظاہرہ دیر نامی بحرینی قصبے میں سینکڑوں افراد نے عالم مجاہد شیخ عبدالامیرالجمری کی یاد میں پر امن جلوس نکالا اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔اطلاعات کے مطابق دیر کے عوام نے اپنے پر امن مظاہرے کے دوران خلیفی مظالم کے نتیجے میں انتقال کرنے والے مجاہد عالم دین مرحوم علامہ شیخ عبدالامیر کا مشن جاری رکھنے کا عہد کرتے ہوئے بحرین میں آن خلیفہ کی ظالم و جابر حکمران خاندان کی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔آل خلیفہ کے غنڈوں نے دیر کے پر امن عوامی مظاہرے پر حملہ کیا لیکن خلیفی غنڈوں کے حملے کے لئے تیار نوجوانوں نے ان کا زبردست مقابلہ کرکے انہيں پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا اور خلیفی مظالم سے اپنے غم و غصے کا بھرپور اظہار کیا۔
ــ بحرین: 14 فروری انقلابی اتحاد کا بیان؛ ظلم کے خلاف جدوجہد عقل و شرع کا تقاضا14 فروری انقلابی نوجوانوں کے اتحاد نے عالم مجاہد شیخ عبدالامیر الجمری مرحوم کے یوم وفات کے حوالے سے ایک بیان جاری کرکے ظلم و ستم کے خلاف جدوجہد کو انسانی عقل کا تقاضا قرار دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق 14 فروری کے اتحاد نوجوانان نے عالم مجاهد شیخ عبدالامیر الجمری کی وفات کی برسی کے سلسلے میں ایک بیان میں کہا ہے کہ شرع مقدس اور عقل انسانی کا تقاضا ہے کہ انسان قوم کے شرف و سیادت پر یلغار کرنے والے دشمن کی جارحیت و تجاوز کے مد مقابل قیام کرے اور ہر ممکن وسائل سے استفادہ کرکے اپنا دفاع کرے۔ بیان میں زور دے کر کہا گیا ہے: بحرین کی غیور اور ہوشیار و بیدار قوم علامہ مجاہد شیخ عبدالامیر الجمری اور شہدائے کرامت کے مشن کو جاری رکھے گی اور ان ہی کی راہ پر گامزن رہے گی؛ نیز وحشیانہ جرائم اور عوام کے قتل عام کے سامنے خاموش تماشائی بن کر نہیں رہے گی۔ بیان کے آخر میں کہا گیا ہے: بحرین کے انقلابی عوام کا ہر فرد طاغی اور ظالم خلیفی حکومت کے سامنے اپنے مقدس دفاع کے فریضے پر بہر قیمت عمل کرے گا اور اس سلسلے میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا۔
ــ بحرین: عوام کو کچلنے کا سلسلہ جاری، اقوام متحدہ توجہ کرےجمعیۃالوفاق الاسلامی نے اپنے بیان میں آل خلیفہ حکومت کی جانب سے عوام کو کچلنے کے خونی سلسلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی طرف سے ان واقعات سے باخبر رہنے کی ضرورت پر زور دیا ہےاطلاعات کے مطابق بحرین کی سب سے بڑی سیاسی جماعت جمعیۃالوفاق الاسلامی نے آل خلیفہ کے مظالم و جرائم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی فیکٹ فائنڈنگ سے مطالبہ کیا کہ بحرین میں جاری واقعات و حادثات، روا رکھے جانے والے مظالم اور جرائم، قتل، ٹارچر اور اجتماعی سزا نیز پر امن شہریوں کی وحشیانہ سرکوبی پر منتج ہونی والی انسانی حقوق کی روزمرہ پامالی کے بارے میں فوری طور پر اپنی تحقیقات کا آغاز کرے اور بحرین کے موجودہ حقائق اور ملت بحرین کو روزمرہ زندگی میں درپیش صورت حال سے آگہی حاصل کرے۔بیان میں کہا گیا ہے: رہائشی علاقوں کو آل خلیفہ کی سیکورٹی اور فوجی فورسز کے ہاتھوں زہریلی گیسوں اور آنسو گیسوں میں ڈبو دیئے جانے کے دائمی عمل سے بحرینی شہریوں کی جانوں کو براہ راست خطرات لاحق ہوچکے ہيں اور ان ہی خطرات میں سے ایک یہ ہے کہ آل خلیفہ حکومت اس روش کو بروئے کار لا کر عوام کو بغیر شور مچائے خاموشی سے قتل کررہی ہے۔الوفاق کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان گیسوں کا بے تحاشا استعمال، خاص طور پر رہائشی علاقوں میں، عوم میں سے بہت سے افراد کی موت اور لوگوں کی علالت اور بیماریوں کے اسباب فراہم کررہا ہے۔
ــ بحرین: امریکہ اور برطانیہ آل خلیفہ کے جرائم میں برابر کے شریکبحرین کی سیاسی جماعت جمعیۃالعمل الاسلامی کے ایک راہنما نے بحرین پر مسلط خاندان آل خلیفہ کے جرائم اور مظالم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور برطانیا آل خلیفہ کے جرائم میں برابر کے شریک ہیں۔اطلاعات کے مطابق جمعیۃ العمل الاسلامی کے راہنما "ہشام الصباغ" نے کہا: جبر و تشدد کی حالیہ کاروائیاں ارادی ہیں اور یہ البسیونی کی رپورٹ کی اشاعت کا نتیجہ ہیں اور امریکہ اور برطانیہ ان تمام واقعات اور قتل و غارت اور ظلم و جور میں بلاواسطہ طور پر ملوث ہیں ہیں؛ کیونکہ انسانی حقوق! اور جمہوریت! کے شعبے میں نائب امریکی وزیر خارجہ (Assistant Secretary of State for Democracy, Human Rights) "مايکل پزنر" (Michael H. Posner) نے حال ہی میں بحرین کا دورہ کیا اور انھوں نے بحرین میں اپنی آنکھوں سے جرائم و مظالم کا قریب سے مشاہدہ کیا لیکن ان کی طرف سے کسی قسم کا کوئي رد عمل دیکھنے میں نہیں آيا۔انھوں نے کہا: برطانیہ بھی ملت بحرین کے قتل کا ذمہ دار ہے کیونکہ بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسی آل خلیفہ نے حال ہی میں برطانیہ کہ خفیہ دورہ کیا لیکن حکومت برطانیہ نے ان سے ہرگز مطالبہ نہیں کیا کہ بحرین میں عوام کے قتل عام اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا سلسلہ بند کریں۔
ــ بحرین: آل خلیفہ بحرینی ملازمین کو کام پر لوٹانے سے انکاری بحرین میں باخبر ذرائع نے بتایا کہ آل خلیفہ حکومت اپنے ہاتھوں بے دخل ہونے والے ملازمین کو بادشاہ کے براہ راست وعدوں کے باوجود کام پر لوٹانے سے عملی طور پر انکاری ہے۔اطلاعات کے مطابق آل خلیفہ کے بادشاہ نے ماہ مبارک رمضان سے اب تک کئی مرتبہ حکومت کے ہاتھوں کام سے برخاست ہونے والے ملازمین کو واپس کام پر لوٹانے کے سلسلے میں کئی بار احکامات جاری کئے ہیں لیکن ان کے ماتحت حکام زبانی احکامات دے کر سرکاری اداروں اور کمپنیوں کو برخاست ملازمین کو لوٹانے سے منع کررہے ہیں۔یادرہے آل خلیفہ حکومت نے بحرین میں ہونے والے مظاہروں میں شرکت کے الزام میں ہزاروں ملازمین کو بے روزگار کرکے گھر بھجوادیا ہے اور ان ملازمین کی اکثریت کا تعلق ملک کی اکثریتی آبادی سے ہے تا ہم ان میں متعدد سنی ملازمین بھی شامل ہيں جو انقلاب بحرین میں اپنے شیعہ برادران کے دوش بدوش شریک رہے ہیں۔ حکومت نے ان افراد پر الزام لگایا تھا کہ وہ ٹریڈ یونین اور اداروں و تنظیموں کی تشکیل، بیان کی آزادی اور پر امن مظاہروں کے انعقاد کا حق مانگ رہے تھے!!!ملازمین پر قابو رکھنے اور انہيں سزا دینے کے لئے آل خلیفہ نے عدالتی نظام سے باہر ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو تأدیبی کمیٹی کہلاتی ہے اور اسی کمیٹی نے ان ملازمین کے ان درخواستوں کو شہری خدمات کے اصولوں سے متصادم قرار دے کر انہيں کام سے بے دخل کردیا تھا۔ ادھر بسیونی کی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ ان ملازمین کی برخاستگی بحرینی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے چنانچہ تمام برخاست شدگان کو اپنے کام کاج پر واپس آنا چاہئے۔آل خلیفہ کی حکومت نے بظاہر بسیونی کی اس سفارش کو منظور کرلیا ہے لیکن عملی طور پر کوئی ملازم اپنے کام پر نہیں جاسکا ہے۔آل خلیفہ کی طرف سے بسیونی رپورٹ کے تمام نکات کی اعلانیہ خلاف ورزیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بسیونی کا مشن اور ان کی رپورٹ صرف ایک نمائش ہے جس کے ذریعے یہ ستمگر خاندان مزید مظالم و جرائم کے لئے راستہ کھولنا چاہتا تھا جبکہ اس کو امریکہ و برطانیہ اور آل سعود کی ہمہ جہت حمایت بھی حاصل ہے لیکن اس کے باوجود یہ حقیقت بھی ناقابل انکار ہے کہ آل خلیفہ خاندان کی عالمی پوزیشن وہ نہیں رہی جو 14 فروری کے عوامی اور اسلامی تحریک کے آغاز سے قبل تھی۔ آس پاس نظریں دوڑا کر آل خلیفہ سمیت آل سعود کی موجودہ پوزیشن نیز علاقے میں امریکہ، برطانیہ اور صہیونی ریاست کی پوزیشن کو عینک لگائے بغیر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
ــ بحرین میں جزیرہ نما شیلڈ کی فورسز کی موجودگی غیرمنطقیاسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے عرب و افریقی ریجن نے کہا: ہماری توقع یہ ہے کہ علاقے کی تبدیلیوں کے بارے میں ـ جو اسلامی بیداری اور علاقے کے امن و استحکام سے تعلق رکھتی ہیں ـ کے بارے میں سب کی نگاہ یکساں ہوجائے اور دوہری پالیسیوں کا سلسلہ ختم ہوجائے۔حسین عبداللہیان نے کہا: بحرین میں عوام کے پر امن مظاہروں کے آغاز سے ہی ہم نے یکطرفہ فوجی اور سیکورٹی حکمت عملی کے مظاہرے دیکھے اور ہم نے دیکھا کہ بحرین کی سڑکوں پر درع الحزیرہ (Peninsula Shield) ک