14 دسمبر 2011 - 20:30

اسلامي جمہوريہ ايران کي پارليمنٹ کے اسپيکر نے کہا ہے کہ امريکا کو اس بات کا جواب دينا ہوگا کہ اس کا جاسوس طيارہ ايران کي فضائي حدود ميں کس مشن پر تھا.

ابنا: پارليمنٹ کے اسپيکر ڈاکٹر علي لاريجاني نے قم شہر ميں بيان ديتے ہوئے امريکي صدر کے اس بيان کے جواب ميں کہ ايران کو چاہئے کہ وہ امريکي ڈرون طيارہ واپس کردے کہا کہ امريکا کو ڈرون واپس کرنے کي درخواست کرنے کے بجائے باضابطہ طور پر اس بات کا جواب دينا چاہئے کہ اس کا جاسوس طيارہ ايران کي فضائي حدود ميں کيا کرنے آيا تھا -

اسلامي جمہوريہ ايران کي پارليمنٹ کے اسپيکر نے کہا کہ ممکن ہے کہ امريکي حکام يہ کہديں کہ يہ طيارہ غلطي سے افغانستان سے ايران کے اندر داخل ہوگيا ليکن ہم جانتے ہيں کہ اس طيارے نے ہمارے کن مراکز اور کن جگہوں کي جاسوسي کي ہے، بنابريں امريکا کو اس سلسلے ميں جواب دہ ہونا ہوگا -

ياد رہے کہ ايران کي مسلح افواج کي الکٹرانک وارفئير يونٹ نے گذشتہ چار دسمبر کو امريکا کا جديدترين آر کيو ايک سو ستر ڈرون طيارہ کاميابي کے ساتھ شکار کرليا اور اسے زمين پر اتارکر اپنے قبضے ميں لے ليا ہے. ...............

/169