13 دسمبر 2011 - 20:30

سپریم کورٹ نے رینٹل پاور کیس کی سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے.

ابنا: آج سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخارچودھری نے ریمارکس میں کہاکہ رینٹل کے ٹیرف کا تعین کرنا ، نیپرا کی ذمہ داری تھی لیکن اس کے ہاتھ باندھ دیئے گئے ۔چیف جسٹس افتخارچودھری کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے رینٹل پاور کیس کی سماعت کی، وزارت پانی و بجلی کے وکیل ، خواجہ طارق رحیم نے حتمی دلائل میں کہاکہ رینٹل معاہدے نیپرا قواعد کے مطابق ہوئے، ان پر ریگولیٹر کے دست خط موجود ہیں،نیپرا کے پاس رینٹل ٹیرف کالعدم قراردینے کا اختیارہے، کابینہ اجلاس میں نیپرا نے اس ٹیرف پر اعتراض نہیں کیا تھا، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہاکہ آئی پی پیز کو ایندھن دے دیا جاتا تو بجلی کا مسئلہ ہی نہ ہوتا، رینٹل سے صرف 500 میگاواٹ بجلی کیلئے نہ جانے کیا کچھ کیا جارہاہے، حکومت رٹ قائم کرنا چاہے تو یہ ہوجاتی ہے،جسٹس خلجی عارف نے ریمارکس میں کہاکہ ٹیرف کو تعین کیلئے نیپرا کو بھیجنے سے قبل ہی منظورکرلیاگیا، نیپرا کے وکیل نے کہاکہ دنیا بھر میں ہے کہ ایندھن فراہمی کی ذمہ دار کمپنی ہوتی ہے،لیکن ہماری حکومت نے یہ ذمہ داری خود لے لی، وزارت پانی و بجلی کے وکیل نے بتایاکہ گلف رینٹل کو 5 برس میں ساڑھے 6 ارب روپے کرایہ ادا کیا جائے گا، ایک اور درخواست گزار خواجہ آصف نے دلائل مکمل کئے، پھر کارکے رینٹل کے وکیل اکرم شیخ نے حتمی دلائل میں کہاکہ رینٹل کو ایندھن کی ذمہ داری حکومت کی ہے، فیول ملے تو یہ 231 میگاواٹ کی مسلسل سپلائی دے سکتاہے، بعد میں عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

.....

/169