12 دسمبر 2011 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے کہا ہے کہ امریکی ڈرون کا ایران کی فضائي حدود کی خلاف ورزی کرنا امن عالم کے خلاف اقدام ہے۔

ابنا: رامین مہمان پرست نے آج ہفتہ وار بریفننگ میں ڈرون واپس لوٹانے پر مبنی امریکی صدر کی درخواست کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ صدر اوباما بھول رہے ہیں کہ ان کے طیارے نے ایران کی فضائي حدود کی خلاف ورزی کی ہے، جاسوسی کی ہے اور عالمی قوانین کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایران کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرکے ایک خود مختار ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کی ہے اور امریکی صدر کا بیان بہانہ بازی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔

اسلامی جہموریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکی صدر کو اپنا جرم تسلیم کرتےہوئے ایران سے باضابطہ طور پر معافی مانگي چاہیے اور اس اقدام کے سارے نتائج کی ذمہ داری بھی قبول کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی ڈرون کی ایران کی فضائي حدود کی خلاف ورزی کے مسئلے کی بھر پور طرح سے پیروی کی جارہی ہے اور امریکہ کو اس خلاف ورزی کاجواب دینا ہوگا۔ مہمان پرست نے اعلی قومی سلامتی کونسل کےسیکریٹری سعید جلیلی کے دورۂ ماسکو کے بارے میں بعض قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ ایران روس تعاون کے تناظر میں انجام پا رہا ہے اور اس کا امریکی ڈرون سے کوئي تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے ایران میں برطانیہ کے مفادات کے محافظ دفتر کھولنے کی لندن کی درخواست کے بارے میں کہا کہ اس سلسلےمیں بعض قانونی رکاوٹیں ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ مہمان پرست نے وزیر خارجہ کے دورۂ سعودی عرب کے بارے میں کہا کہ یہ دورہ غلط فہمیوں کو دور کرنے اور دونوں ملکوں نیز عالم اسلام کے سکیورٹی مسائل کے بارے میں انجام پایا تھا۔
ادھر اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع جنرل احمد وحیدی نے بھی امریکی صدر کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران امریکی جاسوس ڈرون کو واپس نہیں کرے گا۔ جنرل وحیدی نے کہا کہ یہ طیارہ اب ایران کی ملکیت بن چکا ہے اور ایران کے اس کے بارے میں فیصلے کرے گا۔
..............

/169