ابنا: افغانستان کي قومي سلامتي کونسل کےترجمان لطف اللہ مشعل نے بي بي سي کےاس دعوےکومسترد کرتےہوئےاسے بےبنياد قرارديا ہے کہ لشکرجھنگوي افغانستان ميں فعال ہے- لطف اللہ مشعل نےکہا کہ افغانستان ميں دہشتگرد گروہ لشکرجھنگوي کا کوئي وجود نہيں ہے اور يہ گروہ پاکستان ميں موجود ہے - انہوں نے کہا کہ تاحال اس بات کا کوئي ثبوت نہيں ملا ہے کہ لشکرجھنگوي افغانستان ميں سرگرمياں انجام دے رہا ہے - انھوں نےمزيد کہا کہ لشکرجھنگوي پاکستان نےعاشور کےدن دہشتگردانہ حملہ کرکے شيعہ اورسني بھائيوں کےدرميان اختلاف ڈالنےکي کوشش کي ليکن اس سلسلےميں اسےناکامي کا منہ ديکھنا پڑا
واضح رہے کہ بي بي سي ايک رپورٹ ميں افغانستان ميں لشکرجھنگوي کے نئےدھڑے کے وجود ميں آنےکي خبردي تھي-
علاقےکےماہرين کاخيال ہےکہ يہ مغربي ذرائع ابلاغ شيعہ دشمن ہيں اور اس طرح شيعہ اور سني مسلمانوں کے درميان اختلاف ڈال کر انہيں آپس ميں لڑانے کي کوشش کر رہے ہيں- دہشتگرد لشکر جھنگوي پاکستان نے عاشور کےدن کابل اور مزارشريف ميں دہشتگردانہ کاروائي کرکے تقريبا پچاسي عزاداروں کوشہيد اور دوسو کوزخمي کردياتھا-...........
/169