ابنا: چیف جسٹس افتخارچودھری نے ریمارکس میں کہاہے کہ اب ہیرو بننے والوں کو ماضی میں جرأت کرنی چاہیے تھیچیف جسٹس افتخارچودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے گیارہ رکنی لارجر بنچ نے بھٹوریفرنس کی سماعت کی ، وفاق کے وکیل بابراعوان نے بھٹو کیس میں ریکارڈ سے متعلق بعض کتابی حوالے پیش کئے اور کہاکہ مسعود محمود کو ڈرا کر وعدہ معاف گواہ بنایاگیا، چیف جسٹس نے بابراعوان سے کہاکہ اگر آپ کی رائے مان لیں تو کیا اسے کو بھی نہیں بلاناپڑے گا جس کا باپ قتل ہوا، بابراعوان نے کہاکہ صدر کے ریفرنس میں ریلیف نہیں مانگا گیا۔مقتول کے بیٹے کو بلانے کی ضرورت نہیں، چیف جسٹس نے کہاکہ ریفرنس میں ہر جگہ مقدمہ کھولنے کے الفاظ استعمال کئے گئے، بابر اعوان نے کہاکہ بھٹو کیس کے پراسیکیوٹر فاروق بیدار نے بعد میں اس کے عدالتی قتل ہونے کا انکشاف کیا، فاروق بیدار بیان حلفی دینا چاہتے تھے لیکن اجازت نہ ملی، چیف جسٹس نے کہاکہ اب ہیروبننے والوں کو اس وقت جرأت کرنی چاہیے تھی، عدالت نے بھٹوکے خلاف نواب احمدخان قصوری کے مقدمہ قتل کے مدعی احمد رضاقصوری کو نوٹس جاری کرنے کے سوال پر عدالتی معاونین، اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے رائے مانگی، اعتزازاحسن نے اُن سب اور صدر کے وکیل کی طرف سے کہاکہ نوٹس جاری کردیاجاناچاہیے تاکہ کل کسی سطح پر کوئی غلط تاثر نہ آئے، بعد میں سماعت دو جنوری تک ملتوی کردی گئی۔ .............
/169