ابنا: حامد کرزئي نے بدھ کے روز دہشت گرد تنظيم لشکر جھنگوي کے حملوں ميں زخمي ہونے والوں سے ملاقات کے بعد کہا کہ يہ دہشت گرد گروہ پاکستان ميں موجود ہے اور اس نے ان حملوں کي ذمہ داري قبول کي ہے لہذا حکومت کابل اسلام آباد سے اس مسئلے پر سنجيدگي سے مذاکرات کرے گي ـ
واضح رہے منگل کے روز کابل اور مزار شريف ميں عزاداروں پر ہونے والے حملوں ميں تقريبا ساٹھ عزادار شہيد اور دو سو ديگر زخمي ہو گئے ـ
افغان صدر نے بون کانفرنس ميں پاکستان کي عدم شرکت کے تعلق سے کہا کہ پاکستان کے لئے بہتر تھا کہ وہ اس اجلاس ميں شرکت کرتا کيونکہ اس ميں اسلام آباد کا فائدہ تھا........
/169