ابنا: پاکستان بھر میں حکومتی رکاوٹوں اور دہشت گردوں کی ناپاک سازشوں کے با وجود یوم عاشورا کے تمام جلوس ہائے عزاء خیر و عافیت سے اختتام پذیر ہو گئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں بشمول ،پاراچنار کرم ایجنسی، پشاور، اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، فیصل آباد، چنیوٹ، جھنگ، سیالکوٹ، سرگودھا، گوجرانوالہ، ملتان، ڈیرہ غازی خان، علی پور، بہاولپور، رحیم یار خان، صادق آباد، سکھر، لاڑکانہ، شکار پور، جیکب آباد، خیر پور میرس، حیدر آباد، نواب شاہ، خیر پور ناتھن شاہ، حب ،لسبیلہ، میر پور خاص، کوئٹہ، ڈیرہ بگٹی سمیت کراچی اور دیگر چھوٹے بڑے شہروں اور دیہاتوں سمیت قصبوں میں امام حسین علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے با وفا ساتھیوں کی شہادت کی یاد میں یوم عاشور کے جلوس نکالے گئے۔
جلوس ہائے عزاء سے پہلے مجالس عزاء کا انعقا د کیا گیا تھا جس میں علمائے کرام، ذاکرین، شعراء نے کربلا کے 72 شہداء اور امام حسین علیہ السلام پر یزیدی لشکر کی طرف سے ڈھائی جانے والی مصیبتوں کا تذکرہ کیا، اس موقع پر ماتمی انجمنوں نے عزاداری کرتے ہوئے پیغمبر اکرم (ص) اور جناب سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کو شہید کربلا کا پرسہ دیا۔یاد رہے کہ ملک بھر میں آج شہادت امام حسین علیہ السلام کی مناسبت سے نکالے گئے یوم عاشورائے حسینی کے جلوسوں کو رکاوٹوں اور دہشت گردوں کی ناپاک سازشوں کا سامنا رہا تاہم اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے تمام جلوس عزاء خیریت سے اختتام پذیر ہو گئے۔
کراچی:ملک بھر کی طرح کراچی میں بھی عاشورائے حسینی کا مرکزی جلوس منگل کی صبح ۸ بجے نشتر پارک سے برآمد ہوا جو اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا تبت سینٹر پہنچا جہاں عزاداران امام حسین علیہ السلام کے لئے امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیر اہتمام نماز دوران جلوس کا اہتمام کیا گیا تھا جس کے بعد جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا حسینیہ ایرانیاں کھارادر میں اختتام پذیر ہو گیا۔
اطلاعات کے مطابق کراچی میں دہشت گرد ٹولوں کی جانب سے عاشورائے حسینی کے جلوس ہائے عزاء کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے با وجود لاکھوں عزاداران امام حسین علیہ السلام نے اپنے اہل و عیال کے ہمراہ جلوس عزاء میں شرکت کی، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔دوسری جانب کراچی کے علاقے اے بی سینیا لائن میں شب عاشور کو نکالے جانے والے جلوس عزاء پر ہونے والا بم دھماکہ وقت سے پہلے ہو گیا جس کے سبب ایک شخص زخمی ہوا۔
واضح رہے کہ جلوس عزاء کے راستے میں بم پہلے سے ہی نصب کر دیا گیا تھا جس کا مقصد جلوس ہائے عزاء کو نشانہ بنانا تھا تا ہم جلوس عزاء کو مقررہ مقام تک پہنچنے میں تاخیر کے سبب یہ دھماکہ جلوس پہنـچنے سے قبل ہو گیا جس کے بعد علاقے میں عزاداران امام حسین علیہ السلام نے حکومتی نا اہلی اور دہشت گردوں کی کاروائی کے خلاف زبردست احتجاج کیا ۔
لسبیلہ:بلوچستان کے ڈسٹرکٹ لسبیلہ میں دہشت گردوں کی ایماء پر متعصب انتظامیہ نے یوم عاشور کو جلوس عزاء نکالنے پر پابندی عائد کر دی تھی تاہم عزاداران امام حسین علیہ السلام کی جد وجہد کے نتیجے میں لسبیلہ حب میں یوم عاشورائے حسینی کا جلوس انتہائی عقیدت و احترام سے نکالا گیا ۔
خیر پور میرس:صوبہ سندھ کے شہر خیر پور میرس میں بھی شب عاشور کو دہشتگردوں نے عزاداران امام حسین علیہ السلام پر حملہ کر دیا جس کے سبب چار عزاداران امام حسین علیہ شدید زخمی ہو گئے تھے تاہم تاحال نااہل پولیس اور انتظامیہ نے دہشت گردوں کے خلاف کسی قسم کی کاروائی نہیں کی ہے۔
جھنگ:صوبہ پنجاب کے شہر جھنگ میں بھی کالعدم دہشتگرد سپاہ صحابہ کے دہشت گردوں نے شب عاشور کو جلوس ہائے عزاء پر پتھراؤ کیا جس کے بعد فائرنگ کر کے عزاداران امام حسین علیہ السلام کو نشانہ بنایا، پولیس اور انتطامیہ کی نا اہلی کے سبب چوبیس گھنٹے گذر جانے کے بعد بھی واقعے کے ذمہ داروں کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
/110