اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی سنی اپوزیشن جماعتوں نے صوبہ القطیف میں شیعہ عوام کی اسلامی بیداری کی تحریک کی حمات کا اعلان کرتے ہوئے اس صوبے کے نوجوانوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔اس کے باوجود کہ آل سعود کی مسلسل کوشش ہے کہ وہ الشرقیہ کے شیعہ اکثریتی علاقے میں جاری اسلامی بیداری کی تحریک کو سعودی عوام سے بالکل الگ تھلگ کردے اور اس کو محض شیعہ تحریک قرار دے، سعودی عرب کی اپوزیشن کے سنی راہنماؤں نے اس تحریک کی کھلم کھلا حمایت کا اعلان کیا ہے۔سنی اپوزیشن راہنما "کساب العتیبی" نے الحوار نیوز چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: "آل سعود کی حکومت کے لئے نہ تو مذہب اہمیت رکھتا ہے اور نہ ہی اس کوئی اور چیز، اس خاندان کے لئے جو چیز اہمیت رکھتی ہے وہ اقتدار کا تحفظ ہے"۔انھوں نے کہا: سعودی عرب کی عدالتیں آل سعود کے ہاتھوں میں کھلونا بن چکی ہیں کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ عدالتیں "ڈاکٹر سعود الہاشمی" کو تیس سال کی قید کی سزا نہ سناتیں؛ جو کسی جرم کے مرتکب نہیں ہوئے تھے؛ چنانچہ ہماری رائے یہ ہے یہ آل سعود کی حکومت القطیف کے بارے میں بھی جھوٹی تشہیری مہم چلا رہی ہے۔ العتیبی نے کہا: ہم جانتے ہیں کہ القطیف کے نوجوان اٹھ چکے ہیں اور ان کے مطالبات قانونی اور جائز ہیں، وہ بیان کی آزادی اور برابری اور عوام کے درمیان تیل کی دولت کی عادلانہ تقسیم کے خواہاں ہيں اور ان کے یہ مطالبات پوری ملک کے شیعہ اور سنی عوام کے مشترکہ مطالبات ہیں اور پوری سعودی ملت ان مطالبات پر یقین رکھتی ہے۔ "ڈاکٹر سعد الفقیہ" کی قیادت میں سنی اپوزیشن جماعت "اصلاح پسند اسلامی تحریک" نے بھی ایک بیان میں القطیف میں اسلامی بیداری کی تحریک کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدل و انصاف کے مسئلے کا تعلق کسی عقیدے سے نہیں ہے بلکہ سعودی عرب کے تمام شیعہ اور سنی عوام کا مسلمہ حق ہے۔آل سعود مخالف سیاسی شخصیت اور روزنامہ نویس "ڈاکٹر مضاوی الرشید" نے بھی اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ القطیف کی اسلامی بیداری کی تحریک کو تمام سعودی عوام کی حمایت حاصل ہے۔
.......
/169-110
تفصیل کے لئے رجوع کریں:
ــ عاشورائے حسینی کی آمد آمد؛ قطیف میں آل سعود کی فوجیں دوبارہ تعینات