1 دسمبر 2011 - 20:30

مصر کے دارالحکومت قاہرہ ميں عوام نے آج ملين مارچ ميں ايک بار پھر حکمراں فوجي کونسل کے اقتدار سے فوري طور پر ہٹنے کا مطالبہ کيا۔

ابنا: قاہرہ کے التحرير اسکوائر پر مصري عوام کے مظاہرے بدستور جاري ہيں۔مصري عوام دوہفتے سے قاہرہ کے تاريخي اسکوائر پر دھرنا ديئے بيٹھے ہيں تاکہ اپنے ملک کي پرنشيب و فراز تاريخ ميں ايک نئے باب کا اضافہ کريں۔مصري عوام کے عظيم انقلاب کي کاميابي کے بعد خيال کيا جارہا تھا کہ ملک ميں امن و امان اور سياسي استحکام پيدا ہوجائے گا ليکن فوجي حکمرانوں کے اقدامات نے مصر کے انقلابي عوام کے جذبات کو ايک بار پھر بھڑکا ديا ہے اور يوں مصر ايک اور انقلاب کي جانب بڑھ رہا ہے۔ مصري کي سياسي قوتوں کي اپيل پر عوام نے جمعے کے روز ايک بار پھر قاہرہ کے التحرير اسکوائر سميت ملک کے مختلف شہروں ميں مظاہرے کئے۔مصر کي بائيس سياسي تنظيموں اور اتحادوں نے عوام سے اپيل کي تھي کہ وہ آج جمعے کے روز ان شہدا کو خراج عقيدت پيش کرنے کي غرض سے سڑکوں پر آکے اپنے جذبات کا اظہار کريں جو انيس نومبر کو شاہراہ محمود احمد پر سيکورٹي فورس کے حملے ميں شہيد ہوگئے تھے۔مصري سياسي جماعتوں کي جانب سے جاري کردہ بيانات ميں کہا گيا ہے کہ شاہراہ محمود احمد پر گرنے والا خون شجر انقلاب کي آبياري کر رہا ہے اور اس خون نے ملک ميں سماجي انصاف کے قيام کا راستہ ہموار کيا ہے۔ قاہرہ ميں يہ مظاہرے ايسے وقت ميں ہورہے ہيں جب مصري انقلابي نوجوانوں نے وزارت عظمي پر کمال جنزوري کي تقرري کے خلاف وزارت عظمي کي عمارت کے سامنے دھرنا دے رکھا ہے۔ يہ دھرنا ايک ہفتے سے جاري ہے اور دھرنا دينے والوں کا کہنا ہے کہ وہ فوجي حکومت سے اقتدار کي سول حکومت کو منتقلي اور کمال جنزوري کي برطرفي تک دھرنا جاري رکھيں گے۔.........

/169