اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مرجع تقلید اور حوزہ علمیہ قم کے اصول و فقہ کے سینئر استاد حضرت آیت اللہ العظمی حسین وحید خراسانی نے گذشتہ پیر کے روز محرم کے ایام تبلیغ کے آغاز پر طلباء و فضلاء سے خطاب کرتے ہوئے امام زمانہ (عج) کے ظہور پر نور میں تعجیل کے لئے محرم الحرام کے دوران 40 روز تک اجتماعی محافل دعا و استغاثہ کے انعقاد پر زور دیا ہے۔ انھوں نے پوری دنیا میں محرم سنہ 61 ہجری میں یزید کے ہاتھوں سیدالشہداء علیہ السلام اور ان کی اولاد اور اصحاب کی شہادت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس قرآنی آیت کی تلاوت کی کہ "... وَمَن قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا ..." (اسراء ـ 33)؛ اور جو شخص ظلم و ستم کے نتیجے میں قتل کردیا گیا تو بے شک ہم نے اس کے وارث کے لئے (قصاص کا) حق مقرر کر دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام سمیت تمام مظلوموں کے وارث [اور ولی دم یا صاحب خون] امام زمانہ (عج) ہیں اور وہ تمام مظلوموں کے خون کا حساب لیں گے۔ انھوں نے تعجیلِ فَرَج کے لئے خدا کی درگاہ میں دعاء و استغاثہ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: اس سال عاشورا سے امام حسین علیہ السلام کی شہادت کی چالیسویں (اربعین) تک دعائے فَرَج [اور تعجیل فَرَج کے لئے دوسری منقولہ دعائیں] پڑھیں اور عوام کو تمام مجالس میں اس امر کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ ان ایام میں ہر روز امام زمانہ (عج) کے حضور ہدیہ کرنے کے لئے قرآن مجید کے ایک پارے کی تلاوت کریں تا کہ ان کی عنایت ہمیں بھی پہنچے اور ان کی نگاہ مبارک کے کیمیا سے ہمارا وجود بھی منقلب ہو جائے۔ قابل ذکر ہے کہ اہل البیت (ع) خبر ایجنسی ـ ابنا ـ نے اسی مقصد سے ذوالحجۃ الحرام سے چند روز قبل ہی یکم ذوالحجہ سے عاشورائے محرم تک 40 روز تک دعا و استغاثہ کی اپیل کی تھی۔ ابنا نے اپنی اپیل میں یہ بھی کہا تھا کہ عاشورا سے اربعین تک بھی چالیس دن بنتے ہيں اور اس کے بعد چالیس دن کے مسلسل سلسلے چلانا کوئی مشکل نہیں ہے۔ ابنا نے واعظین و ذاکرین اور علماء حضرات سے حدیث کا حوالہ دے کر طلبہ تنظیموں اور ماتمی انجمنوں سے بھی یہ سلسلہ آگے بڑھانے کی درخواست کی تھی۔ ابنا کے پیغام میں سوالیہ انداز میں کہا گیا تھا کہ "کیا ہم سب کو موجودہ صورت حال سے تکلیف نہيں ہے؟ کیا ہم سب کو ظلم و جبر کا سامنا نہیں ہے؟ کیا ہم موجودہ حالت سے راضی ہیں اور کیا ہم امام زمانہ (عج) کے منتظرین نہيں ہیں؟ اگر ہیں تو پھر کونسی چیز رکاوٹ بن سکتی ہے ہمارے اس عمل میں؟ بحرین۔ لبنان، ایران اور عراق کے شیعیان امام زمانہ (عج) کی مانند آپ بھی شروع کریں۔
بسم الله الرحمن الرحیماللهم انا نشکو الیک فقد نبینا و غیبۃ ولینا ۔۔۔٭نجات کے لئے عالمی استغاثہبیا دمی بنشین زارزار گریه کنیمبیاکه که ازغم هجران یارگریه کنیمترجمہآؤ بیٹھو لمحہ بھر زار زار روئیں مل کرآؤ کے ہجران اور جدائی کے اس غم میں روئیں٭زسوز ناله بلبل بهار میآیدبیا برای فراق بهار گریه کنیمترجمہبلبل کی فریاد سے بہار آتی ہےآؤ کہ بہار کے فراق پر گریہ کریں٭به ندبه امت موسی گرفت حاجت خویشیک اربعین بنشین تا هزار گریه کنیمترجمہ:امت موسی نے ندبہ و آہ سے حاجت طلب کی (منت مانی)آؤ ایک اربعین بیٹھ گریہ و بکاء کریں
قال الامام الصادق علیہ السلام: «فلما طال علی بنی اسرائیل العذاب ضجوا و بکوا الی الله اربعین صباحاً فاوحی الله الی موسی و هارون یخلصهم من فرعون فحطّ عنهم سبعین و مأه سنة، هکذا انتم لو فعلتم لفرج الله عنا، فاما اذ لم تکونو فان الامر ینتهی الی منتهاه؛ ترجمہ: "جب بنی اسرائیل پر نازل ہونے والا عذاب کی مدت طویل ہوگئی تو وہ چالیس روز صبح کے وقت روئے اور اللہ کی بارگاہ میں گریہ و زاری کی پس خداوند متعال نے حضرت موسی اور حضرت ہارون علیہما السلام کے حکم دیا کہ انہیں فرعون سے نجات دلائيں؛ اور اللہ تعالی نے ان کی فراخی میں 170 کی تعجیل فرمائی چنانچہ اگر تم بھی ایسا ہی کروگے تو خداوند متعال ہماری فراخی پہنچادے گا اور ہمار ے فَرَج میں تعجیل فرمائے گا اور اگر تم ایسا نہیں کروگے تو ہماری فراخی اپنے مقررہ وقت تک مؤخر رہے گی"۔(تفسیر عیاشی جلد 2 صفحه 154)اس سفارش کے مطابق ہم بھی 40روز تک عالمی سطح پر اللہ کی درگاہ میں گریہ و بکاء اور مناجات و راز و نیاز کرتے ہیں تا کہ خداوند متعال امام زمانہ عَجَّلَ اللہُ تَعالی فَرَجَہُ الشَّریف کے ظہور میں تعجیل فرمائے اور چونکہ اجتماعی دعا کے اثرات زیادہ ہیں لہذا اس دعا کے لئے یکم ذوالحجۃالحرام سے 10 محرم الحرام تک کے چالیس روز کی سفارش کی جاتی ہے۔پس آیئے شیعیان عالم ـ بالخصوص بحرین، عراق، جزیرہ نمائے عرب، یمن، پاکستان، ہندوستان، آذربائیجان، شام اور لبنان کے پیروان اہل بیت (ع) ـ کے ساتھ ہمصدا ہوکر اپنے مولا کی غیبت و فراق کے طویل برسوں اور کائنات کے نجات دہندہ کے لئے مخلوقات الہی کے اضطرار و انتظار کو مد نظر رکھ کر انفرادی اور خاندانی سطح پر بھی اور انجمنوں کی شکل میں بھی خداوند قریب مجیب و مہربان خدا کی بارگاہ میں دست بدعا ہوجائیں۔
اس سفارش کے مطابق ہم بھی 40روز تک عالمی سطح پر اللہ کی درگاہ میں گریہ و بکاء اور مناجات و راز و نیاز کرتے ہیں تا کہ خداوند متعال امام زمانہ عَجَّلَ اللہُ تَعالی فَرَجَہُ الشَّریف کے ظہور میں تعجیل فرمائے اور چونکہ اجتماعی دعا کے اثرات زیادہ ہیں لہذا اس دعا کے لئے یکم ذوالحجۃالحرام سے 10 محرم الحرام تک کے چالیس روز کی سفارش کی جاتی ہے۔پس آیئے شیعیان عالم ـ بالخصوص بحرین، عراق، جزیرہ نمائے عرب، یمن، پاکستان، ہندوستان، آذربائیجان، شام اور لبنان کے پیروان اہل بیت (ع) ـ کے ساتھ ہمصدا ہوکر اپنے مولا کی غیبت و فراق کے طویل برسوں اور کائنات کے نجات دہندہ کے لئے مخلوقات الہی کے اضطرار و انتظار کو مد نظر رکھ کر انفرادی اور خاندانی سطح پر بھی اور انجمنوں کی شکل میں بھی خداوند قریب مجیب و مہربان خدا کی بارگاہ میں دست بدعا ہوجائیں۔ان 40 دنوں کے دوران صبح کے وقت گریہ و بکاء کرتے ہوئے جو اعمال انجام دیئے جاسکتے ہیں وہ یہ ہیں:دعائے فَرَج (دعائے یا من عظم البلاء)، زیارت عاشوراء، دعائے علقمہ، دعائے عہد، دعائے نُدبہ اور امام حسین علیہ السلام اور آپ (ع) کی اولاد و انصار کے لئے مجالس عزا [اور مفاتیح الجنان اور دعاؤں کی دیگر کتب میں امام زمانہ (عج) کے ظہور کے لئے مأثورہ دعائیں]۔ دعائے فَرَج کے التماس کے ساتھقابل توجہ:مساجد، حسینیات، امامبارگاہوں اور دیگر مقامات پر مذہبی انجمنوں اور دیگر تنظیموں کے توسط سے مختلف شہروں میں دعا و استغاثہ کی محافل و مجالس منعقد کی جاسکتی ہیں اور حضرات و خواتین اسی خبر کے ذیل میں پیغام کے لئے کھلنے والے حصے میں اپنے پروگرام کی تفصیل اور وقت اور مقام کی تفصیل لکھیں۔ ....................../110
چالیس دن دعا اور دعا اور استغاثہ:
تعجیل فَرَج کیلئےچالیس دن دعا اور استغاثہ- 2ظہور امام زمانہ (عج) کے لئےاستغاثہ؛ عراق اور بحرین میں عوام کا وسیع خیر مقدم
تعجیل فَرَج کیلئےچالیس دن دعا اور استغاثہ- 4آیت اللہ العظمی صافی گلپائگانی نے شیعیان عالم سے تعجیل فَرَج کے لئے دعا اور استغاثہ کرنے کی اپیل کی ہے