ابنا: وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ صدر اور وزیراعظم نے خط کے معاملے کا نوٹس لے لیا ہے، امریکی اعلٰی قیادت کو خط لکھنے کے حوالے سے صدر اور فوجی قیادت میں کوئی اختلاف نہیں ہے، امریکہ میں پاکستان سفیر حسین حقانی کو وضاحت کے لیے اسلام آباد طلب کرلیا گیا ہے، اگر وضاحت سے مطمئن نہیں ہوتے تو ان کے خلاف کارروائی ہو گی۔ انہوں نے بتایا کہ خط سے متعلق ای میل اور ایس ایم ایس کو تصدیق کی جاری ہے، قومی مفاد کے خلاف کوئی بھی اقدام کرے گا تو اس کے خلاف اقدام کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے تحفظات دور کر دیئے گئے ہیں، گالی کی سیاست سے دور رہنا چاہیے، رحمان ملک نے کہا کہ انتخابات تک اپوزیشن افواہیں پھیلاتی رہے گی، اداروں پر بے جا تنقید برداشت نہیں کریں گے۔
دیگر ذرائع کے مطابق، وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ وہ واضح طور پر کہتے ہیں کہ صدرآصف زرداری کا میمو سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کے مسلح افواج کی قیادت کے ساتھ جتنے اچھے تعلقات اب ہیں ماضی میں کسی کے نہ تھے۔ پارلیمنٹ ہاوٴس کے باہر میڈیا سے بات چیت میں رحمان ملک کا کہنا تھاکہ عسکری اور سول قیادت کے درمیان کوئی اختلافات نہیں بلکہ مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ فوجی اور سول قیادت کے درمیان ملاقاتوں کو سنسنی خیز بنا کر پیش نہ کیا جائے، ممبئی حملوں کے بعد بھی مشاورت کے لئے ایسی ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ تمام ادارے اپنی جگہ ٹھیک کام کر رہے ہیں۔ ایک سوال پر رحمان ملک نے کہا کہ قومی سلامتی پر کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کرسکتا اور نہ موجودہ حکومت کرے گی۔ سیکیورٹی کا کوئی بھی معاملہ ہو اس پر تحقیقات ہونی چاہئیں۔ امریکا میں پاکستان کے سفیر کو وضاحت کے لئے طلب کیا گیا ہے اور معاملے کی تحقیقات کر کے عوام اور پارلیمنٹ کے سامنے پیش کی جائیں گی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے تحفطات دور ہو گئے ہیں۔.......
/169