8 نومبر 2011 - 20:30

امریکہ اور صہیونی ریاست کے شکست خوردہ حکام نے آئي اے ای اے کے ڈائرکٹر کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہوئے کئي برسوں کی حسرت کے بعد اپنی آرزو پالی ہے اور ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف اپنی من مانی کی ہے۔

ابنا: اس رپورٹ میں ایران کے خلاف دھمکی آمیز لہجہ استعمال کیا گيا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ امریکہ نے یوکیاآمانو کو اپنے اھداف کے لئے استعمال کیا ہے اور شاید امریکہ یہ بھی سوچ رہا ہوکہ وہ اس لہجے سے ایران کو مرعوب کرلے گا۔ البتہ امریکہ کی اس نادانی پر دنیا کے مختلف حلقوں نے رد عمل بھی ظاہر کیا ہے۔ روس کے ایک ٹی وی چینل کے مطابق روسی وزیرخارجہ سرگئي لاوروف نے ایران کو دی جانے والی دھمکیوں کے بارے میں کی جانے والی قیاس آرائيوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف ہرطرح کی جارحانہ کاروائي اور حملہ نہایت بڑی غلطی ہوگي اور اس کے خلاف توقع نتائج سامنے آئيں گے۔ امریکہ اور مغربی ملکوں کے بعض ذرایع ابلاغ نے امانو کی رپورٹ سے پہلے ہی اس میں ذکر کئے گئے مسائل کو پیش کرکے جھوٹا پروپگينڈا شروع کردیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ آئي اے ای اے کے ڈائرکٹر اگلے ہفتہ اپنی نام نہاد رپورٹ پیش کرنے والے ہیں اور اس رپورٹ میں ایران کے خلاف اپنے الزامات بھی دوہرائيں گے۔ قابل ذکر ہے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف سامراجی طاقتوں نے اقتصادی بائیکاٹ، گوشہ نشین کرنے کی کوششوں، نرم جنگ یہانتک کہ داخلی فتنوں جیسے سارے ہنتھکنڈے استعمال کرلئے ہیں لیکن انہیں ان اقدامات سے کس طرح کے نتائج حاصل ہوئے ہیں؟ ایران کے خلاف مغرب کی نام نہاد اسٹراٹیجک پالیسیوں کا جائزہ لینے سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ یہ ساری پالیسیاں یکے بعد دیگرے ناکام ہوتی جارہی ہیں اور جو پالیسیاں صدر اوباما کو ورثے میں ملی تھیں اب علاقے کے حالات کے تحت بدلتی جارہی ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف مغرب بالخصوص امریکہ کی معاندانہ پالیسیوں کا سلسلہ آٹھ برسوں سے جاری ہے اور اب یہ بات یقینی ہوچکی ہے کہ آئي اے ای اے کے ڈائرکٹر جنرل یوکیا آمانو مداخلت پسند طاقتوں کے منشاء کے مطابق قدم اٹھار ہے ہیں۔ یوکیا آمانو کے الزامات کے بعد امریکی صدر کا بیان جس میں انہوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو خطرہ قراردیا، تسلط پسند طاقتوں اور آئي آے ای اے کے گٹھ جوڑ کا ثبوت ہے۔ اوباما نے مزید کہا کہ اگر آئي اے ای اے یہ تشخیص دے کہ ایران نے اپنی ذمہ داریوں پرعمل نہیں کیا ہے تو امریکہ اور اسکے اتحادی ایران کے خلاف مزید دباو بڑھائيں گے۔ آئي اے ای اے کے بار بار کے الزامات جو کہ امریکہ کے ایران مخالف پروپگينڈوں کا بھی باعث ہیں اب تک ایران کے خلاف چار قراردادوں پر منتج ہوئے ہیں جن کی رو سے امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے ایران پر غیر منصفانہ پابندیاں لگائي ہیں۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ آئي اے ای اے کے انسپکٹروں نے اپنی رپورٹوں میں اس بات پر تاکید کی ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام میں کسی بھی وقت قانون سے انحراف نہیں پایا گيا تھا اور ایران نے کبھی بھی ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کی ہے۔ یاد رہے اسلامی جمہوریہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کو انسانیت مخالف ہنتھیار سمجھتا ہے اور دینی بنیادوں کے مطابق ایٹمی ہتھیاروں کا مخالف ہے۔ امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے بے بنیاد بہانوں سے ایران کے خلاف پابندیاں شدید کردی ہیں اور ایران کو فوجی حملوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ لیکن ان دھمکیوں اور معاندانہ اقدامات سے اسلامی جمہوریہ ایران روز بروز طاقتور ہوتا جاے گا اور ملت ایران کا عزم روز بروز مستحکم ہوتا جائے گا ان ہی حقائق کے پیش نظر صدر جناب احمدی نژاد نے مصر کے روزنامے الاخبار سے انٹرویو میں کہا ہے کہ یہ امریکہ کی آرزو ہے کہ ایران کو ضرب لگائے لیکن نہیں لگاسکتے اور سب کو جان لیناچاہیے کہ تاریخ گواہ ہے کہ ملت ایران سے دشمنی کرکے کبھی خوش نہیں رہ سکتی ہے۔ جو چیز یقینی ہے وہ یہ ہے کہ ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے خلاف آئي اے ای اے کے ڈائرکٹر کا سیاسی رویہ سبب ہوا ہے اس بات کا کہ آئي اے ای اے اپنی قانونی اور فنی ذمہ داریوں کے بجاے عملی طور سے ایران مخالف ملکوں کو دھمکی آمیز اقدامات کا موقع فراہم کرے۔.....   /169