6 نومبر 2011 - 20:30

اطلاعات کے مطابق گلگت کے نواح میں حیدر پورہ کے رہائشی کریم خان حیدر ولد علی یار کشروٹ کے محلے میں اپنے گھر کی طرف واپسی کے دوران یزیدی دہشت گردوں کی فائرنگ کا نشانہ بن کر شہید ہوگئے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق گلگت میں جاری شیعہ نسل کشی کی ایک اور واردات کے نتیجے میں کشروٹ کے مقام پر ناصبی دہشتگردوں کی فائرنگ کی نتیجے میں کریم خان حیدر شہید ہوگئے ہیں اور ان کی میت ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کردی گئی ہے۔
کریم خان حیدر پی آئی اے کو ملازم تھے اور وہ کل بروز اتوار تقریباً دو بجے دو پہر دفتر سے گھر جارہے تھے کہ راستے میں گھات لگائے دہشت گردوں نے کشروٹ کے مقام پر ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جام شہادت نوش کرگئے۔
شیعہ طلباء ایکشن کمیٹی کے سربراہ حیدر رضا کاظمی، مرکزی سبیل آرگنائزیشن کے سربراہ عارف حسین اور جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، گلگت ڈویژن کے صدر سید عابد رضا جعفری نے ایک مشترکہ بیان میں گلگت میں روز کی دہشت گردانہ کاروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے ان جرائم کے مرتکبین کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشت گرد ٹولوں کے ساتھ تعاون کا سلسلہ ختم کرے۔
انھوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پس پردہ عناصر محرم الحرام کی آمد آمد پر گلگت کے حالات خراب کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر وہ سوچتے ہیں کہ ان کے یہ اقدامات مجالس عزاداری اور جلوس ہائے ماتم کے راستے میں رکاوٹ بنیں گے تو وہ سخت ‏غلطی پر ہیں۔
انھوں نے کہا ہے کہ گلگت میں آنے والے محرم کی مجالس ماضی سے کہیں زیادہ پرجوش انداز میں منعقد ہونگی انشاء اللہ۔
ادھر موصولہ اطلاعات کے مطابق شہید کی نماز جنازہ نماز مغربین کے بعد امام بارگاہ امامیہ گلگت  میں ادا کی گئی۔
واضع رہے کے پورے پاکستان میں جاری شیعہ نسل کشی اور حال ہی میں وزارت داخلہ کی جانب سے پر امن شیعہ تنظیموں پر پابندی لگائے جانے کے بعد سے اس شہر میں شروع ہونے والی شیعہ ٹارگٹ کلنگ عروج پر ہے؛ یکم نومبر کو شیعہ نوجوان نثار حسین کو شہید کیا گیا، دو نومبر کوشیعہ نوجوان محمد علی کو ذبح کردیا گیا۔ تین نومبر کو حاجی محمد علی کو فائرنگ کرکے زخمی کردیا گیا، پانچ نومبر کی رات مجلس سے آنے والے لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی، اور کل چھ نومبر کو کریم خان حیدر کو شہید کردیا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔

/110