اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی مصنف و تجزیہ نگار عقیل الباہلی نے کہا ہے کہ شہزادہ نائف کی ولیعہدی کا امکان قوی ہے اور آل سعود خاندان کے درمیان اس حوالے سے موجودہ اختلافات زیادہ مؤثر نہیں ہونگے۔یاد رہے کہ سعودی عرب کے عوام اور ماہرین و تجزیہ نگاروں کی رائے یہ ہے کہ شہزادہ نائف کی جانشینی کی صورت میں سعودی عرب ایک پولیس سٹیٹ میں تبدیل ہوجائے گا اور چونکہ وہ انتہائی دائیں بازو کے سلفی خیالات کے حامل ہیں اور سلفیوں کی حمایت کرتے ہیں جبکہ غیر وہابی عقائد کے سخت خلاف ہیں لہذا ملک کی صورت حال بری طرح بگڑ جائے گی اور لوگوں کو کئی گنا زیادہ گھٹن اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
شہزادہ نائف کی ولیعہدی کا قوی امکانعقیل الباہلی نے کہا: سب کی پیشین گوئی یہی ہے کہ نائف بن عبدالعزيز کو ولیعہد مقرر کیا جائے گا کیونکہ وہ ولیعہد ثانی اور وزراء بورڈ کے سربراہ ہیں لہذا توقع کی جاتی ہے کہ بادشاہ بہت جلد بیعت بورڈ کی سفارش پر ان کی ولیعہدی کا اعلان کردیں۔ انھوں نے کہا کہ نائف ایک سیکورٹی پرسن ہیں کیونکہ وہ عرصہ دراز سے وزیر داخلہ ہیں چنانچہ وہ اپنے سیکورٹی پاور کو بھی اقتدار کے حصول کے لئے استعمال کریں گے جیسا کہ اس سے پہلے فہد بن عبدالعزیز نے بھی یہی کچھ کیا تھا جو تخت بادشاہی پر بیٹھنے سے قبل وزير داخلہ تھے۔الباہلی نے کہا: سعودی عرب کے عوام سلطان بن عبدالعزیز کے دنیا سے رخصت ہونے سے فکرمند نہیں ہیں لیکن ان کی تشویش کا سبب یہ حقیقت ہے کہ نائف ولیعہد کے عہدے پر پہنچیں گے تو روشن مستقبل کے حوالے سے قوم کی امیدیں ماند پڑ جائیں گی۔ولیعہدی کی موت کے اثرات ایک سیاسی مبصر نے کہا کہ سعودی بادشاہی خاندان میں اختلافات بہت سنگین اور وسیع ہیں چنانچہ اس کے باوجود کہ ولیعہد کا انتقال کئی روز قبل ہوچکا تھا لیکن حکومت نے آپس کے بعض معاملات کا تصفیہ کرنے کے بعد اس کا اعلان کیا ہے۔لندن میں مقیم سعودی سیاسی تجزیہ نگار فؤاد ابراہیم نے ہفتے کے روز العالم کو بتایا: ولیعہد کی موت کا اعلان آل سعود کے درمیان کئی اہم اختلافی مسائل کو حل کرنے اور ایک امریکی وفد کے ریاض پہنچنے کے بعد ہوا ہے۔انھوں نے کہا: ولیعہد کی جانشینی پر آل سعود کے درمیان سنجیدہ اختلافات پائے جاتے ہیں اور پھر سلطان وزیر دفاع بھی تھے اور وزارت دفاع سعودی عرب میں انتہائی اہم اور حساس منصب ہے جس کو اپنانے کے لئے کوئی بھی شہزادہ کوشش کرسکتا ہے۔انھوں نے کہا: سلطان کا انتقال اور ان کی جانشینی کا مسئلہ آل سعود کے لئے اہم ترین مسئلے میں تبدیل ہوگیا ہے اور پھر آل سعود میں پہلی مرتبہ ولیعہد بادشاہ سے پہلے دنیا سے رخصت ہوئے ہیں۔ فؤاد ابراہیم نے کہا: جب بھی آل سعود خاندان میں کوئی اندونی جھگڑا ابھرتا ہے امریکی مداخلت کے لئے آتے ہيں اور اس وقت صورت حال کچھ یوں ہے کہ آل سعود خاندان میں ایسے اختلافات نمایاں ہوگئے ہیں جن کی وجہ سے امیر نائف کی ولیعہدی کھٹائی میں پڑ سکتی ہے کیونکہ اس وقت پرانی رسموں کے برعکس ولیعہدی کے امیدواروں کی تعداد زیادہ ہے اور عین ممکن ہے کہ مسابقت کی یہ صورت حال مستقبل میں خونی جھگڑوں کی صورت حال اختیار کرے۔انھوں نے کہا کہ دو ہفتے قبل ایک امریکی وفد نے ریاض کا دورہ کیا تھا جو اندرونی اختلافات میں ثالثی کے لئے آیا تھا اور اس وفد کے دورے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ سلطان بن عبدالعزیز کا انتقال کافی عرصہ پہلے ہوچکا ہے۔سعودی اپوزیشن کے اس جلاوطن راہنما نے آل سعود خاندان پر ولیعہد کے انتقال کے اثرات کے بارے میں کہا: اس وقت آل سعود خاندان کے مختلف دھڑوں کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں اور امیر نائف کی ولیعہدی کے امکان نے خاندانی معاملات کو مزید الجھادیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر امیر نائف کو ولیعہدی کا منصب سونپ دیا جائے تو خاندان کی اکثریت محسوس کرے گی کہ انہیں دیوار سے لگایا گیا ہے اور یہ امر دشواریوں کا سبب بنے گا چنانچہ خاندان میں کئی معاملات کا تصفیہ ہونا باقی ہے اور یہ معاملات ولیعہد کے عہدے سے بھی بالاتر ہیں۔
ولیعہد کے چل بسنے سے سعودی عرب پر مرتب ہونے والے اثراتسلطان وزیر دفاع، سول ایوی ایشن کے سربراہ، انسپکٹر جنرل سعودی عرب، سعودی افواج کو ترقی دینے والی شخصیت اور 2005 میں سعودی بادشاہ فہد بن عبدالعزیز کے انتقال اور عبداللہ کی بادشاہت کے بعد ولیعہد بنے۔ 2004 میں ہی یہ بات واضح ہوچکی تھی کہ ان کی بڑی آنت کو سرطان کا عارضہ لاحق ہے جس کے بعد ان کو متعدد بار آپریشن کروانے پڑے لیکن 2009 میں معلوم ہوا کہ ان کی بیماری کا مسئلہ بہت سنجیدہ ہے چنانچہ وہ نیویارک چلے گئے اور کئی مہینوں تک ایک اسپتال میں داخل رہے اور پھر یہ بیماری یوں ہی چلتی رہی لیکن سلطان نے نائف بن عبدالعزیز کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا اور اعلان کیا کہ ولیعہدی کا عہدہ صرف موت ہی ان سے چھین سکتی ہے اور اب وہی وقت ہے اور موت نے ولیعہدی کا منصب ان سے چھین ہی لیا ہے۔ولیعہد چل بسے ہیں بادشاہ وہیل چئیر پر ہیں جیسا کہ اس سے پہلے بھی فہد کے زمانے میں یہی صورت حال تھی لیکن اس وقت ولیعہد نے ملک کو قابو کرلیا تھا گو کہ فہد وہیل چئیر پر بیٹھے تھے اس بار بادشاہ وہیل چئیر پر ہیں اور ولیعہد نہيں ہیں حالات نازک ہیں اور بہت ہی خراب چنانچہ اب آل سعود کے بزرگوں کا دور گذر گیا ہے عبدالعزیز کے چند ہی بیٹے زندہ ہیں لیکن وہ سب بوڑھے ہوچکے ہیں بلکہ اب تو ان کے بڑے پوتے بھی بوڑھے ہوچکے ہيں چنانچہ تیسری اور چوتھی نسل کو عبدالعزیز کی قدامت پسندانہ وصیت نہ تو یاد ہے اور نہ ہی وہ اس نصیحت پر عمل کرنے کے پابند ہیں چنانچہ اقتدار کے لئے رسہ کشی طبعی سا امر ہے۔سلطان کی جگہ کون بیٹھے گا؟ یہ سوال اتنا اہم تھا کہ اس نے سعودی خاندان کے ساتھ پڑوسی ممالک کے حکمرانوں سے لے کر یورپ اور امریکہ تک کے حکمرانوں کو فکرمند کیا ہے۔ولیعہد کی موت کا اعلان تشدد آمیز سیکورٹی اقدامات کی دستاويزسعودی عرب میں عوامی قیام عربی بہار کے ساتھ ہی شروع ہوا تھا جو آج تک جاری ہے، یمن اور بحرین میں جاری عوامی انقلاب نے بھی سعودی حالات کو پیچیدہ کردیا ہے، سعودی عرب ان دونوں ملکوں میں فوجی مداخلت کر چکا ہے اور مصر، تیونس، لبنان، لیبیا اور شام میں بھی مداخلت کررہا ہے لیکن اندرونی قیام نے گویا سعودی خاندان کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے چنانچہ وہ اندرون ملک زیادہ شدید اقدامات کے لئے جواز ڈھونڈ رہے ہيں اور ایام حج کو بہانہ بنا کر سعودی حکام نے کافی سخت اقدامات کرلئے تھے جو سعودیوں کی نظر میں ناکافی تھے چنانچہ انھوں نے ولیعہد کے انتقال کا باقاعدہ اعلان کیا تا کہ مزيد اقدامات کے لئے راستہ ہموار ہوسکے۔کہتے ہيں ڈاکٹرز جون 2011 میں ہی سلطان کی حیات سے نا امید ہوچـکے تھے لیکن انہیں اس کے باوجود نیویارک منتقل کیا تھا اور وہاں بھی وہ اکثر اوقات کومے میں تھے اور عملی لحاظ سے ہاتھ سے نکل چکے تھے لیکن سعودی حکومت نے ان حقائق کا اعلان ان خاص حالات میں کیا اور اب سعودی حکمران زيادہ تسلی سے اندرونی عوامی تحریک کو کچلنے کے لئے قدم آگے بڑھائیں گے اور ایسا کرکے وہ دوسری طرف سے خاندانی اختلافات کو بھی ہنگامی صورت حال کے بہانے دبانے کی کوشش کرسکیں گے۔
باقی ہے
اہم رپورٹس کے لئے کلک کریں:
سعودی ولیعہد سلطان بن عبدالعزیز کا انتقال / نیا ولیعہد کون ہوگا؛ اقتدار کی جنگ سنجیدہ ہے/ اپڈیٹس