ابنا: امریکہ ایک اقتصادی ملک ہے ، وہاں جب اقتصادی بحران پیدا ہوا عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر آگئے ،انہوں نے ان خیالات کا اظہار اپنے دورہ پاکستان کے دوران مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی دفتر میں میڈیا ٹیم کو دئیے جانے والے ایک انٹرویو میں کیا، علامہ غلام حر شبیری نے کہا کہ امریکہ میں داخلی بیداری کی عمومی وجہ بیرونی میڈیا کا کردار ہے ۔امریکی قوم میں اس حد تک قومیت کی ترویج کی گئی تھی کہ وہ صرف قومی میڈیا پر ہی انحصار کرتے تھے حال ہی میں وہاں دوسرا میڈیا جس میں پریس ٹی وی سر فہرست ہے متعار ف ہوا تو امریکیوں میںآگاہی پیدا ہوئی اور لوگ ملکی اقتصادی حالات کی جانب متوجہ ہوئے تاہم اب بھی اس تحریک کو ایک منظم تحریک کا نام نہیں دیا جا سکتا ، کیونکہ یہ قیادت کے بغیر چل رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مشرق دسطی ٰ میں بھی عوامی تحریکوں نے وہ اہداف حاصل نہیں کیے جن کے لیے شروع کی گئی تھیں ، ، مصر میں اب یہ کیفیت ہے کہ چہرے بدل رہے ہیں ،یہ طے شدہ بات ہے کہ قیادت کے بغیر کوئی بھی تحریک اہداف حاصل نہیں کر سکتی ، خود جوش تحریکوں سے کچھ سمتوں میں ہی کامیابی حاصل ہوتی ہے ، اگر امریکہ میں عوامی بیداری کو باقاعدہ ایک تحریک کی شکل مل جائے تو امید کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے اہداف حاصل کرلے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی بعض ریاستوں بالخصوص ٹیکساس میں ایسی کیفیت پیدا ہو چکی ہے کہ وہ الگ ہو سکتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس حوالے سے ہمارے پاس روس کی مثال موجود ہے لیکن یہ وقت بتائے کا کہ امریکہ کے عوام میں کتنی موومنٹ ہے ۔انہوں نے کہا کہ اب چونکہ دنیا بدل رہی ہے ، قدرت کا نظام بدل رہا ہے اور قوت ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو رہی ہے اس سے امریکہ بھی یقیناً ،تاثر ہو گا ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے مابین تعلقات برابری کی سطح کے نہیں بلکہ آقا اور غلام جیسے ہیں ، پالیسیاں امریکہ میں بنتی ہیں اور ان پر عمل در آمد یہاں ہوتا ہے لیکن جوں جوں امریکی قوت کم ہو گی اس کے اثرات پاکستان میں بھی ظاہر ہوں گے ، انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان پر الزامات اور اس کے جواب میں پاکستان کا سخت رویہ محض نورا کشتی ہے ، حکمران محض اقتدار کو طول دینے ک لیے امریکہ کے ساتھ سخت رویہ کا سہارا لے رہے ہیں کیونکہ پوری پاکستانی قوم امریکہ سے بیزار ہے ۔جب امریکی صدر کلنٹن نے پاکستان کا دورہ کیا تھا توسوائے عمران خان کے کسی بھی سیاسی جماعت کے راہنما نے ان سے ملاقات نہیں کی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی عوام امریکہ سے ہم آہنگ نہیں ، علامہ غلام حرشبیری نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے جمہوری اسلامی ایران پر کی جانے والی الزام تراشیاں عالم اسلام کو فرقہ واریت کی آگ میں دھکیلنے کی سازش کا حصہ ہیں ، رہبر مسلمین نے ایران مین منعقدہ بیداری کانفرنس سے خطاب کے دوران خبردار کیا تھا کہ کہ عنقریب ملت اسلامیہ کر فرقہ اریت کی آگ میں دھکیلنے کی کوشش کی جائے گی ، انہوں نے کہا کہ اس وقت اسرائیل داخلی و خارجی سطح پر کمزور ہو چکا ہے اور امریکہ عالم اسلام کی توجہ اسرائیل سے ہٹانے کے لیے یہ نیا فتنہ کھڑا کر رہا ہے ، ان الزامات کی حقیقت سے ایرانی اور سعودی دونوں قومیں آگاہ ہیں اور وہ ان پر یقین نہیں کریں گی ، انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان استعماری سازشوں کا مرکز بنا ہوا ہے ہے اگر علمائے کرام اپنی مذہبی دینی اور سیاسی ذمہ داریوں سے بطریق احسن عہدا براء ہونے کی کوشش کریں تو ان سازشوں کا راستہ روکا جا سکتا ہے ۔ پاکستانی قوم کو معاشی ، اقتصادی بحرانوں سمیت دیگر مسائل سے نجات حاصل کرنے کے لیے اپنی ترجیحات طے کرنا ہوں گی کیونکہ اس وقت ملک کو بچانا بہت اہم ہے ۔..........
/169