12 اکتوبر 2011 - 20:30

یمنی صدر علی عبداللہ صالح آخر کار اس بات پر آمادہ ہوئے ہیں کہ وہ اقتدار کی کرسی چھوڑینگے۔ جبکہ صنعا کی سڑکوں پر پچھلے کئی ماہ سے موجود عوام کا کہنا ہے کہ صالح ایک جھوٹا انسان ہے جبتک وہ اقتدار سے الگ نہیں ہوتے یقین کرنا مشکل ہے .

ابنا: جبکہ عوامی بیداری تحریک کے قائدین کا کہنا ہے کہ صالح ایسے جان چھڑا کر بھاگ نہیں سکتے اسے عدالتوں کا بھی سامنا کرنا ہوگا ۔ادھر اردن میں تقریبا تین ماہ قبل شروع ہونے والے مظاہروں میں اب کچھ شدد آگئی ہے عرب ممالک میں سابقہ مصر کے بعد اردن وہ ملک ہے، جسے اسرائیلی مفادات کا پاسدار کہا جاتا ہے اس سلسلے میں اردن کے ایک تجزیہ کار عبیدی عبداللہ کا کہنا ہے کہ اردن میں جاری مظاہرے پہلے سے زیادہ پھیل چکے ہیں اور ان میں شرکت کرنے والی عوام کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوچکا ہے ایسا لگتا ہے کہ عوام اس دفعہ پہلے سے زیادہ مصمم ارادے سے میدان میں اتری ہے عبیدی کا کہنا ہے کہ اردن میں تبدیلی کی فضادیگر تمام عرب ممالک سے زیادہ پائی جاتی ہے اس کی بنیادی وجہ اردن کے موروثی حاکم کی وہ پالیسی ہے جو انہوں نے خود اپنی عوام اور خارجہ سیاست میں اختیار کی ہوئی ہے ۔اردن کے بیرونی ممالک خاص کر اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ ایسے معاہدے ہیں جو کسی طور بھی اردن کی عوام کے فائدے میں نہیں اور عوام ان معاہدوں کی سخت مخالف بھی ہے اس پر اضافہ یہ ہے ان معاہدوں کی وجہ سے اردن کی معیشت اسرائیل معیشت پر منحصر کرتی ہے ،ملک میں بے روزگاری ہے جبکہ حکومت بیرون ملک سے مزید ملازمین لارہی ہے ،اقتدار اور تمام تر اختیارات صرف اور صرف بادشاہ کے ہاتھ میں ۔عرب دنیا میں ایک بڑا مسئلہ ایسی سیاست ہے جس میں ڈکٹیٹرز کی بھر پور کوشش ہوتی ہے کہ ملک میں عوام غربت اور لاچاری میں ڈوبی رہے ہے یاپھر اس قدر آرام طلبی اور عیاشی مل جائے کہ انہیں کس چیز کی فکر نہ ہویہاں تک کہ تعلیمی اور شعوری میدان میں بھی وہ نچلی سطح پر ہو۔بیرون ملک سے افراد کی آباد کاری کا مسئلہ بحرین میں بھی ہے جہاں گذشتہ کئی ماہ سے مسلسل عوامی احتجاج جاری ہے تمام تر حکومتی ظلم و تشدد کے باوجود عوام یک بعد دیگر شہادتیں تو دے رہی ہے لیکن ارادوں میں کسی قسم کی کمی نہیں ۔حکومت نے بیرونی سعودی خاندان کی فورسز کی مدد سے ہر قسم کا حربہ اور ہر قسم کا تشدد یہاں تک کہ شریف اور عزت دار خواتین پر جنسی تشدد تک کو آزمالیا لیکن وہ عوامی احتجاج کو روکنے میں ناکام رہی اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو بحرین کی عوامی تحریک کے رہنماوں کو اس بات پر میڈل ملنا چاہیے کہ وہ مکمل عالمی میڈیا کے بائیکاٹ ،انسانی حقوق تنظیموں کی چشم پوشی بھی ان کا حوصلہ پست نہ کرسکی البتہ بات صرف یہاں تک نہیں بلکہ آل خلیفہ کو امریکی اور یورپی نہ صرف سیاسی تعاون حاصل ہے بلکہ عوامی احتجاج کو روکنے کے لئے بحرینی فورسز کی تربیت اور مظاہرین کے خلاف انواع و اقسام کا اسلحہ جس میں اعصاب شکن گیس بھی شامل ہے کی مکمل دسترس بھی ہے ابھی تک ان مظاہروں میں ستر سے زیادہ افراد شہید ہوچکے ہیں جن میں عمر رسیدہ افراد خواتین اور جوان شامل ہیں.
.......

/169