11 اکتوبر 2011 - 20:30

فلسطين کي اسلامي مزاحمتي تحريک حماس نے فلسطيني اور اسرائيلي قيديوں کے تبادلے کي خبر کي تصديق کر دي ہے-

ابنا: موصولہ رپورٹ کے مطابق اسرائيلی قيدي گلعاد شاليت اور فلسيطيني قيديوں کا يہ تبادلہ فريقين کے درميان ہونے والے اتفاق رائے کے بعد اگلے کچھ دنوں ميں انجام پائے گا-واضح رہے کہ حماس اور اسرائيلي حکام کے درميان يہ اتفاق رائے، مصری حکومت کي ثالثي ميں ہوا ہے- حماس کے سياسي شعبے کے سربراہ خالد مشعل نے بتايا ہے کہ اسرائيلي قيدي گلعاد شاليت کے بدلے ميں صہیوني ریاست کي جيلوں ميں قيد تمام فلسطيني خواتين رہا کي جائيں گي-

انہوں نے العالم سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائيلي حکام کے ساتھ ہونے والے اتفاق رائے کے مطابق فلسطين کے ايک ہزار قيديوں اور ستائيس خواتين قيديوں کو رہا کيا جائے گا- خالد مشعل نے بتايا کہ قيديوں کا يہ تبادلہ دو مرحلوں ميں انجام پائے گا اور پہلے مرحلے ميں اسي ہفتے ساڑھے چار سو قيديوں کو رہا کيا جائے گا- انہوں نے بتايا کہ دوسرامرحلہ، پہلے مرحلے کے دو ماہ بعد انجام پائے گا اور اس مرحلے ميں تمام خواتين فلسطيني قيديوں کو رہا کيا جائے گا-

خالد مشعل نے بتايا کہ رہا ہونے والے قيديوں کا تعلق فلسطين کے تمام علاقوں سے ہے- دريں اثناء اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد حماس کے ہزاروں حاميوں نے غزہ کي سڑکوں پر نکل کر خوشياں منائيں اور اللہ اکبر کے نعرے لگا کر اسرائيلي فوجي گلعاد شاليت کي رہائي کے عوض ايک ہزار سے زائد فلسطيني قيديوں کي رہائي کو فلسطينيوں کے ليے شاندار فتح قرار ديا-

ادھر صہیوني ریاست کے وزير اعظم بنيامن نتين ياہو نے بھي اسرائيلي کابينہ کے ايک ہنگامي اجلاس ميں اس بات کي تصديق کي کہ حماس کے ساتھ قيديوں کے تبادلے کے سلسلے ميں اتفاق رائے ہو گيا ہے-..........

/169