28 ستمبر 2011 - 20:30

انقلاب بحرین کے قائدین کے لئے عمر قید اور طویل المدت قید کی سزائیں / حزب اللہ نے بحرینی خواتین پر آل خلیفہ کے جبر کی مذمت کی / مزید ظالمانہ سزائیں / جبر و تشدد سے اعتراف لیا گیا / زخمیوں کی امداد پر پیرا میڈیکل اسٹاف کو سزائیں/ جمعیۃ الوفاق کا موقف۔ / اپڈیٹ: ڈاکٹروں کو سنائی گئی سزائیں

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، ایک طرف سے بحرینی خواتین پر آل خلیفہ کے جبر و تشدد پر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، آل خلیفہ کے مطلق العنان آمریت نے انتخابات میں شرمناک شکست کھانے کے بعد ایک بار پھر نمائشی عدالتوں کا ڈرامہ رچایا ہوا ہے اور وہ اپنے آزمائے ہوئے حربے کو ایک بار پھر آزما کر اپنے مخالفین کو مرعوب کرنے کے درپے ہے۔یہ 29 ستمبر 2011 کی خبریں ہیں؛ جبکہ آج انقلاب کے عوامی اور اسلامی انقلاب کا دوسو اٹھائیسواں دن ہے۔ــ انقلاب بحرین کے قائدین کے لئے عمر قید اور طویل المدت قید کی سزائیںبحرین میں عدالت بھی فوجی ہوتی ہے اور اپیل کورٹ بھی فوجی ہی ہوتا ہے لیکن وہاں مقدمہ فوجیوں پر نہیں عوام پر چلایا جاتا ہے۔ بحرین میں ڈاکٹروں کو اس لئے فوجی عدالتوں میں لے جایا جاتا ہے کہ انھوں نے دکھی انسانیت کی خدمت کی ہے اور زخمیوں کا علاج کیا ہے۔ آل خلیفہ اور آل سعود کے ہاں انسانی قواعد انسانی معاشروں سے مختلف ہیں وہاں اپنے جائز مطالبات کے لئے "پر امن احتجاج" کرنے پر بھی موت اور عمر قید کی سزائیں دی جاتی ہیں۔ کل بدھ (28ستمبر 2011) کو نام نہاد فوجی اپیل کورٹ نے بظاہر فوجی عدالت کے احکامات پر "نظر ثانی (!)" کرتے ہوئے آٹھ افراد کو "دہشت گردی (!)" کا ملزم ٹہرایا ہے جبکہ بحرین میں دہشت گردی تو کیا اب تک ایک شیشہ بھی نہیں ٹوٹا ہے اور دہشت گرد آل خلیفہ نے مختلف ممالک سے بھرتی کرواکر بحرینی قوم پر مسلط کئے ہیں۔ اس نام نہاد عدالت نے آٹھ افراد کو دہشت گرد قرار دیا اور ان کی سزاؤں کی تائید ک اور 13 دیگر افراد کی سزاؤں کی بھی توثیق کرتے ہوئے انہیں دو سے 15 سال تک کی سزائیں سنائیں۔بحرین کے انقلابیوں کے نام، جماعتی وابستگی اور سزا کی تفصیل کچھ یوں ہے:1. عبدالوهاب حسين علي أحمد ـ قائد حرکۃالوفائ ـ عمر قید؛2. شیخ حسن علي حسن محمد مشيمع ـ قائد حرکۃ الحق ـ  عمر قید؛3. محمد حبيب الصفاف ( المقداد ) ـ عمر قید؛4. عبدالجليل رضي منصور مكي (المقداد ) ـ عمر قید؛5. عبدالجليل عبدالله السنكيس ـ عمر قید؛6. سعيد ميرزا أحمد (النوري ) ـ عمر قید؛7. عبدالهادي عبدالله حبيل الخواجة ـ انسانی حقوق کے فعال راہنما،  ڈنمارک کی شہریت کے حامل ـ عمر قید؛8. عبدالهادي عبدالله مهدي حسن ـ 15 سال قید؛ 9. عبدالله عيسى المحروس ـ 15 سال قید؛10. محمد حسن محمد جواد ـ 15 سال قید؛  11. محمد علي رضي اسماعيل ـ 15 سال قید؛ 12. صلاح عبدالله حبيل الخواجة ـ 5 سال قید؛13. ابراهيم شريف عبدالرحيم موسى ـ 5 سال قید؛ 14. الحر يوسف محمد الصميخ ـ 2 سال زندان. اس نام نہاد عدالت نے بیرون ملک مقیم بحرینیوں کو بھی سزائیں سنائی ہیں؛ تفصیل:1. سعيد عبدالنبي محمد شهاب (سعید الشهابي) ـ قائد حرکۃ الاحرار ـ عمر قید ؛2. السيد عقيل أحمد علي (الساري) ـ 15 سال قید؛3. عبدالرؤوف عبدالله أحمد الشايب ـ 15 سال قید؛4. عباس عبدالعزيز ناصر العمران ـ 15 سال قید؛5. علي حسن علي مشيمع ـ 15 سال قید؛6. عبدالغني عيسى علي خنجر ـ 15 سال قید؛7. علي حسن عبدالله عبدالإمام ـ 15 سال زندان.مطلق العنان خلیفی خاندان کے ایک فوجی اہلکار«يوسف راشد فليفل» نے ان افراد پر درج ذیل الزامات عائد کئے:ــ آئین اور بادشاہی نظام میں تبدیلی کی نیت سے "ایک دہشت گرد تنظیم" کی تشکیل یہ الزام لگاتے ہوئے تنظیم کا نام پتہ نہیں بتایا گیا اور یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اس موہوم گروپ نے کوئی کاروائی بھی کی ہے!!!؟؟؟۔ــ بیرون ملک ایک دہشت گرد تنظیم سے رابطے (!!!) جو ایک بیرونی ملک کے مفاد میں آل خلیفہ خاندان کے خلاف عداوت آمیز اقدامات کرنا چاہتا تھا! یہ نہیں بتایا گیا کہ اس تنظیم کا نام پتہ کیا ہے اور اس نس آل خلیفہ حکومت کے خلاف کیا اقدامات سر انجام دیئے ہیں۔ــ طاقت کے بل بوتے پر آل خلیفہ حکومت کی تبدیلی کے لئے کوشش (!)؛ یہ نہیں بتایا گیا کہ بحرین میں آل خلیفہ حکومت کے خلاف طاقت کا استعمال کب اور کیونکر ہوا اور اس میں آل خلیفہ حکومت کو کیا کیا نقصانات اٹھانے پڑے؟۔ــ رقم جمع کرکے دہشت گردوں کے حوالے کرنا جبکہ وہ جانتے تھے کہ یہ لوگ دہشت گرد تھے (!)؛ یہاں بھی آل خلیفہ کے اہلکار نے یہ نہیں بتایا کہ جن دہشت گردوں کو ملزموں نے رقم دی تھی وہ کون ہیں اور انھوں نے دہشت گردی کے حوالے سے کوئی کاروائی بھی کی ہے یا نہیں اور یہ کہ نامعلوم گروہ کے بارے میں انہیں کیسے معلوم ہوا کہ وہ دہشت گرد ہيں اور ان کا نام پتہ کیا ہے۔ــ سرکاری اجازت کے بغیر مظاہرے کرانا (!!)؛ سوال یہ ہے کہ جس حکومت کو عوام تسلیم ہی نہ کرتے ہوں اور جو حکومت بیرونی افواج کے سہارے قائم ہو اور ملک کے عوام کو پولیس تک میں بھرتی نہیں کرتی وہ اپنے خلاف مظاہروں کی اجازت کیونکر دے گی اور عوام ایسی حکومت سے اجازت کیوں طلب کریں گے؟ اور ہاں! کیا غیر قانونی مظاہروں کی سزائیں یہی ہیں جو آل خلیفہ کی فوجی عدالتوں نے سنائی ہیں؟۔ــ  حزب اللہ نے بحرینی خواتین پر آل خلیفہ کے جبر کی مذمت کیحزب اللہ لبنان نے ایک بیان جاری کرکے بحرین پر مسلط آل خلیفہ خاندان کی طرف سے خواتین کے خلاف جبر و ستم اور دسیوں خواتین کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔اس بیان میں آیا ہے کہ خواتین کے خلاف آل خلیفہ کے اقدامات، ان کی گرفتاری، ان کے ہاتھ پاؤں غل و زنجیر میں جکڑنا اور انہیں زد و کوب کرنا اور گالیاں دینا عرب اور مسلم خواتین کے حقوق کی پامالی کے زمرے میں آتا ہے اور آل خلیفہ کے یہ اقدامات عراق کی ابوغریب جیل اور گوانتامو بے کے تشدد کیمپ میں امریکیوں کے اقدامات سے ملتے جلتے ہیں اور یہ اقدامات حریت پسند تنظیموں اور دنیا کے بیدار ضمیروں اور حریت پسندوں کے نزدیک نہایت مذموم اور قابل نفرت ہیں۔

ــ مزید ظالمانہ سزائیںآل خلیفہ کی فوجی عدالت نے کل آٹھ بحرینیوں کو عمر قید کی سزا سنائی اور آج جمعرات کے روز ایک بحرینی شہری کو سزائے موت اور دوسرے کو عمر قید کی کی سزا سنائی اور زخمیوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے والے پیرامیڈیکل اسٹاف کے 20 اراکین کو 5 سے 15 سال تک قید کی سزائیں سنائیں۔ آل خلیفہ خاندان کے فوجی اہلکار اور فوجی عدالت کے وکیل استغاثہ «يوسف راشد فليفل» نے کہا کہ ابتدائی عدالتی کاروائی میں فوجی عدالت نے آج «يوسف عبدالوهاب الطويل» کو موت کی سزا سنائی اور «علي علي عطيه مهدي» کو عمر قید کی سزا سنائی"۔

میڈیکل اور پیرامیڈیکل اسٹاف کے اراکین کے نام اور ان کو سنائی گئی سزائیں1. ڈاكٹر علي العكري، 15 سال قید2. ڈاکٹر نادر ديوان، 15 سال قید3. ڈاکٹر احمد عبد العزيز عمران، 15 سال قید4. ڈاکٹر محمود اصغر، 15 سال قید5. بحرینی نرسز سوسائٹی کی سربراہ رولا الصفار 15 سال قید6. ڈاکٹر عبد الخالق العريبي، 15 سال قید7. ڈاکٹر غسان ضيف، 15 سال قید8. ڈاکٹر باسم ضيف، 15 سال قید9. سيد مرهون الوداعي، 15 سال قید10. ڈاکٹرندى ضيف، 15 سال قید11. ڈاکٹرفاطمہ سلمان حاجي، 5 سال قید12. ضياء جعفر ابراهيم، 5 سال قید13. ڈاکٹرنجاح خليل ابراهيم، 5 سال قید14. ڈاکٹر سعيد السماهيجي، 10 سال قید15. ڈاکٹرزهرہ مهدي السماك، 5 سال قید16. محمد آل شهاب، 5 سال قید17. ابراهيم عبد الله الدمستاني، 15 سال قید18. حسن محمد التوبلاني، 10 سال قید19. علي حسن الصددي، 15 سال قید، غائبانہ20. قاسم محمد عمران، 15 سال قید، غائبانہآل خلیفہ حکومت نے ان افراد پر درج ذیل الزامات لگائے تھے لیکن انہیں وکیل رکھنے اور الزامات کا جواب دینے کا حق حاصل نہ تھا:1۔ اسلحہ رکھنا اور ہتھیاروں کا غیرقانونی طور پر ذخیرہ کرناہتھیار السلمانیہ اسپتال سے سعودی خلیفی قبضے کے ایک ہفتہ بعد برآمد ہوتے ہوئے دکھائے گئے تھے جو خلیفیوں نے اسپتال میں خود ہی رکھوائے تھے جو ایک مضحکہ خیز واقعے کے عنوان سے مشہور ہوا۔2۔ عوامی طاقت سے ایک پبلک مقام یعنی السلمانیہ اسپتال پر قبضہ کرنے کی کوشش۔یہ الزام پہلے سے بھی زیادہ مضحکہ خیز ہے 3. نظام حکومت کے زوال کی ترویج وہ بھی ناجائز وسائل سے،خلیفی عدالت نے یہ نہیں بتایا کہ اگر پرامن مظاہرے جائز طریقۂ تغیر نہیں ہے تو کونسا طریقہ جائز ہے؟4. طبی وسائل پر قبضہ کرنا؛ایک اسپتال کا عملہ تمام وسائل کا ذمہ دار ہوتا ہے اور عملے کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ ضرورت کے مطابق ان وسائل سے استفادہ کریں تو کیا یہ اختیار "زبردستی قبضے" کے زمرے میں آتا ہے؟5. قیدیوں کے بارے میں غلط خبریں پھیلانا؛ان لوگوں نے لوگوں کو زخمیوں کی صحیح تعداد بتائی اور شہید ہونے والوں کی شہادت کی خبر دی یہ ہوا جرم6. عوام کو نظام سے نفرت کا اظہار کرنے پر اکساناسوال یہ ہے کہ کیا ایک ظالم اور بیرونی قوتوں کی غلام حکومت سے عوام کی نفرت کے لئے اسپتال کے عملے کی ضرورت ہوتی ہے؟یہ چھ الزامات اتنی بڑی سزاؤں کا سبب بن سکتے ہیں؟ حقیقت تو یہ ہے کہ ان افراد کو جس الزام میں سزائیں دی گئی ہیں وہ یہ ہے کہ انھوں نے زخمیوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی تھیں باقی الزامات صرف بہانہ ہیں۔ــ جبر و تشدد سے اعتراف لیا گیا آل خلیفہ کے اذیتکدے سے رہا ہونے والے رکن پارلیمان ـ جو سزائے موت اور عمر قید پانے والے دو بحرینی انقلابیوں کے ہمراہ ایک ہی اذیتکدے میں پابند سلاسل تھے ـ نے انکشاف کیا ہے کہ ان افراد کو اس حد تک ٹارچر کیا گیا ہے کہ انھوں نے ان الزامات کا اعتراف کیا جو ان سے سرزد ہی نہیں ہوئے تھے۔ مطر ابراہیم المطر نے کہا کہ ان افراد نے تشدد سے بچنے کے لئے ان جرائم کا اعتراف کیا ہے اور عالمی قوانین کے تحت ان اعترافات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ المطر نے فرانس کی خبر ایجنسی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا: ان دو افراد نے خلیفی اذیت کدے میں مجھے بتایا کہ آل خلیفہ کے تفتیشی جلادوں نے انہیں کس طرح ناکردہ گناہوں کے اعتراف اور سترہ میں خلیفی پولیس اہلکار پر گاڑی چڑھانے کی ذمہ داری قبول کرنے پر مجبور کردیا۔ انھوں نے مذکورہ افراد کے حوالے سے مزید بتایا: آل خلیفہ کے اہلکاروں نے ان دو افراد کے سامنے اعترافات کے پہلے سے تیار کردہ اوراق رکھ لئے اور پھر انہیں تشدد کے ذریعے ان پر دستخط کرنے پر آمادہ کیا۔انھوں نے کہا کہ ان افراد نے یہ حقائق خلیفی بادشاہ کی طرف سے بنائی گئی نمائشی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے سامنے بھی بیان کیا جہاں میں بھی موجود تھا۔یادرہے کہ بادشاہ نے عالمی رائے عامہ کو بےوقوف بنانے کی نیت سے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے تشدد کی شکایت کرنے والوں کی شکایات تو سن لیں لیکن پھر پیشگی منصوبہ بندی کے تجت چپ سادھ لی۔

 ــ زخمیوں کو مدد پہنچانے والے پیرا میڈیکل اسٹاف کو سزائیںالسلمانیہ اسپتال میں پیرا میڈیکل اسٹاف کے 20 اراکین کو صرف اس لئے 5 سے لے کر 15 سال