ابنا: سماعت کے دوران جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیئے کہ عدالتوں میں سرکاری وکلاء کی کمی ہے اور جو موجود ہیں وہ غیر تربیت یافتہ ہیں ،سرکاری وکلاء کی اسامیوں کو قانونی طریقے سے کیوں نہیں بھرا جاتا؟جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ عدالتی نظام کی ضروریات کیوں پوری نہیں کی جاتیں؟ ہر چیز کو ٹھیک کرنے کے لئے جوڈیشل آرڈر پاس کرنا پڑتا ہے ،جسٹس سرمدجلال عثمانی کا کہنا تھاکہ بعض عدالتوں میں ملزم جج کے اتنا قریب ہوتا ہے کہ اس پر حملہ کرسکتا ہے ،جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ پراسیکیوشن سسٹم ایڈہاک ازم پر چلایا جارہاہے جس کی وجہ سے خرابیاں سامنے آرہی ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ کئی دفعہ جج، صفائی کے وکلاء اورگواہ موجودہوتے ہیں لیکن پراسیکیوٹر نہیں ہوتا ،سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ پراسیکیوٹر موجود ہوتا ہے تووہ نااہل ہوتا ہے،جس کا کوئی فائدہ نہیں ۔دو رکنی بینچ نے آئی جی سندھ سیاستفسار کیا کہ جن 25 فیصد مقدمات کوداخل دفتر کیا گیا ہے ان کے متعلق کیا رپورٹ ہے ،جس پرآئی جی سندھ نے کہا کہ ان مقدمات کی دوبارہ تفتیش کررہے ،اس کیلئے مزید وقت چاہیے،جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔ ...........
/169