20 ستمبر 2011 - 19:30

کوئٹہ پولیس کی جانب سے شہید ابرار کے بھتیجے علی شاہ کی دہشت گردی کے الزام میںگرفتاری کے خلاف کوئٹہ کے مکین سراپائے احتجاج بن گئے سینکڑوں افراد نے علمدار روڈ پر پر امن احتجاجی مظاہرہ کیا اور ٹائر جلا کر روڈ بلا ک کر دی.

ابنا: کوئٹہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اس وقت علمدار روڈ مکمل طور پر بند ہے اور وہاں مظاہرین مقامی انتظامیہ اور پولیس کے خلاف زبردست نعرے بازی کر رہے ہیں، یا رہے کہ منگل کے روز مستونگ کے قریب سفاک دہشت گردوں کی وحشیانہ فائرنگ کے نتیجہ میں 26 افراد کی شہادت کے بعد پولیس اور سیکورٹی فورسز کی جانب سے کیے جانے والے نام نہاد کریک ڈائوں اپریشن کے دوران پولیس نے دشہت گردوں کی بجائے شہید ابرار کے بھتیجے علی شاہ کو بلاجواز گرفتار کیا ، جس پر احتجاج کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین کے راہنمائوں علامہ جمعہ اسدی، علامہ اعجاز حسین بہشتی اور علامہ اصغرعسکری سمیت دیگر راہنمائوں نے پولیس کو انتباہ کیا تھا کہ اگر علی شاہ کو شام سات بجے تک رہا نہ کیا گیا تو ڈی پی او کے دفتر کا گھیرائو کیا جائے ، اس دوران پولیس کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ اسے شام تک رہا کیا جائے گا لیکن یہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا جس کے بعد احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا ، ایم ڈبلیو ایم کے اکابرین علامہ جمعہ اسدی، علامہ اعجاز بہشتی اور علامہ اصغر عسکری نے کہا ہے کہ کوئٹہ کی انتظامیہ جان بوجھ کر حالات خراب کر رہی ہے ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ علی شاہ کو فی الفور رہا کیا جائے بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کر دیا جائے اور حالات کی خرابی کی تمام تر ذمہ داری کوئٹہ پولیس پر عائد ہو گی ۔........

/169