12 ستمبر 2011 - 19:30

مسلمانوں کی عصر حاضر کی صورت حال اور دنیا کے مختلف علاقوں کے حالات اور جغرافیائی محل وقوع کی بنا پر عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کا سروکار مختلف قسم کے معاشروں اور افراد سے ہے جن میں خواتین، نوجوان اور بچوں کو بہت اہم حیثیت حاصل ہے۔ نیز افریقہ اور ایشیا اور لاطینی امریکہ کے مختلف علاقوں کو خاص توجہ دینا، اسمبلی کے تزویری (اسٹراٹیجک) رجحانات اور بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عالمی اہل البیت (ع) اسمبلی کی جنرل اسمبلی کے پانچویں اجلاس کے دوسرے دن کے پروگراموں کا آغاز بھی تلاوت کلام اللہ مجید سے ہوا جس کے بعد عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کے سیکریٹری جنرل خطاب کرتے ہوئے اسمبلی کی کارکردگی رپورٹ پیش کی۔

سیکریٹری جنرل کے خطاب کا خلاصہ: خداوند متعال کی درگاہ سے مدد کی درخواست کرتے ہوئے، عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کی جنرل اسمبلی کا پانچواں اجلاس ایسے حال میں شروع کررہے ہيں کہ شمالی افریقہ اور مشرق وسطی کے پورے علاقے میں استکباری طاقتوں کی پالیسیوں اور کارکردگیوں کے خلاف دنیا میں اسلامی بیداری کی لہریں اٹھنے اور احتجاجی تحریکوں کے بلوغت کے مراحل تک پہنچنے کے حوالے سے حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی پیشین گوئیاں یکی بعد دیگرے عملی صورت اپنا رہی ہیں۔ یہ تحریکیں ـ جو خاص طور پر ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد سے قوی اور تیزرفتار ہوگئی ہیں ـ  درحقیقت مکتب تشیع، یعنی مزاحمت و استقامت اور شہادت کے مکتب سے متأثر اور اسلامی انقلاب کی تعلیمات پر مبنی ہیں اور یہ تحریکیں مصر، تیونس، یمن اور لیبیا کے عوام کی بیش بہاء کامیابیوں پر منتج ہوئی ہیں اور انھوں نے استبدادی آمروں اور طاغوتی حکمرانوں کو تاریخ کے کوڑےدان میں پھینک دیا ہے اور بے شک دیگر غیر عوامی حکمرانوں کی سرنگونی کے اسباب فراہم کریں گی۔جس طرح کہ انقلاب اسلامی کے رہبر معظم حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای مدظلہ العالی نے فرمایا ہے "یہ عالمگیر اور وسیع البنیاد تحریک نبی اکرم (ص) کے راستے کا تسلسل ہے" اور ظاہر ہے کہ اس آفاقی تحریک نے ہم شیعیان و پیروان اہل بیت (ع) ـ جو دنیا میں حقیقت پسندی اور ظلم اور برائی کے خلاف جہاد کے علمبردار ہیں ـ کی ذمہ داریوں میں کئی گنا اضافہ کیا ہے اور ہماری اس ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کے بنیادی پروگراموں کے تسلسل میں، زیادہ سے زیادہ وحدت اور یکجہتی کے ساتھ، تشیع کے افکار و معارف و تعلیمات اور انقلاب اسلامی کی جدید تعلیمات ـ جو عالم انسانیت کے نجات دہندہ کے ظہور پر نور کے لئے تمہید کا کردار ادا کرتی ہیں ـ کی نشر و اشاعت کے لئے کوشش کریں۔اب جبکہ اللہ تعالی کی مدد سے اس علمی و انتظامی کانفرنس نے ہمیں اجلاس کے پروگرام کے حوالے سے ہمفکری اور مشاورت کا موقع فراہم کیا ہے مجھے اس نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خوشی محسوس ہورہی ہے کہ اس اجلاس میں اسلامی جمہوریہ ایران سمیت 120 ممالک سے عالم تشیع کے 600 سے زائد دانشوروں، مفکرین، علماء اور فضلاء کی شرکت پیروان اہل بیت (ع) کی صلاحیتوں اور قابلیتوں کا نمونہ پیش کررہی ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ محترم بھائیوں اور بہنوں کے مذاکرات اور مشاورت و ہمفکری اسمبلی کے پروگراموں کی تقویت کا سبب بنے اور مجمع کے اہداف کے حصول کو آسان بنادے۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے اسمبلی نے گذشتہ چار سال کے عرصے میں متعینہ بنیادی حکمت عملیوں اور تزویری پروگراموں کی اساس پر کام کیا ہے جن میں قومی اور بین الاقوامی سطح پر شیعیان اہل بیت (ع) کے مقام و منزلت کو تقویت پہنچانے، تعاون فعالیتوں کو منظم اور ہماہنگ کرنے، تعاون کو توسیع دینے، تحقیقی اور علمی فعالیتوں کو فروغ دینے، علمی، سماجی اور ثقافتی اداروں کو ترقی دینے، فکر و نظر پیدا کرنے، جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانے اور معاشی ترقی اور سرمایہ کاری کے لئے بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے کی غرض سے شیعہ علماء اور مفکرین کے درمیان مفاہمت اور تعاون بڑھانے، پیروان اہل بیت (ع) کے درمیان ربط و تعلق بڑھانے اور شخصیات، اداروں اور تنظیموں کے درمیان نیٹ ورک قا‏‏ئم کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔میں اس موقع کو غنیمت سمجھ کر رپورٹ کی ابتداء میں اس سلسلے میں بعض اقدامات اور بعض کامیاب کوششوں نیز مستقبل کے پروگراموں کی طرف اشارہ کرتے ہیں:1۔ پیروان اہل بیت کو منظم کرنے اور ان کے لئے تنظیم سازی کرنے کا اہتمام کرتے ہوئے گذشتہ چار سالوں کے عرصے میں پچاس ممالک میں 87 مقامی اسمبلیوں اور دفاتر کی تأسیس یا تقویت عمل میں آئی، پوری دنیا میں 500 شیعہ اداروں اور تنظیموں سے رابطہ کیا گیا اور ایران کے اندر حوزات علمیہ کے بیرونی طلبہ کی 50 تنظیمیں قائم کی گئیں۔2۔ مسلمانوں اور پیروان اہل بیت (ع) کے شہری اور سماجی حقوق کے تحفظ کی غرض سے ملکوں کی ضوابط اور قوانین کے قوانین و ضوابط کو مدنظر رکھتے ہوئے غیر سرکاری جمعیتوں، تنظیموں اور اداروں کی تأسیس، اسمبلی کی سنجیدہ کوششوں کا حصہ رہی ہے۔3۔ اسمبلی نے خواتین کے مسائل کو تزویری موضوع کے عنوان سے مدنظر رکھتے ہوئے اس سلسلے میں بھی بعض اقدامات عمل میں لائے گئے ہیں۔4۔ اسمبلی نے ثقافتی، دینی اور سماجی ادارے کی حیثیت سے اسلامی علوم اور فقہ کو متحرک رکھنے کا خاص اہتمام کرتے ہوئے اس سلسلے میں اپنی توجہ تحقیق اور مطالعاتی فعالیتوں پر مرکوز کی ہے اور گذشتہ چار برسوں کے دوران کئی عمدہ کتب کی تالیف، قدیم منابع اور متون اور جدید افکار میں تحقیق اور دنیا کی چالیس زبانوں میں اسلامی متون اور کتب کے تراجم اور مجمع کی کتب نیز اہل بیت (ع) کی شان میں تالیف شدہ کتب کی اشاعت جیسے اقدامات کئے ہیں۔ 5۔ اہل بیت (ع) یونیورسٹی کی تاسیس کے علاوہ، علم کو فروغ دینے نیز پیروان اہل بیت (ع) کی علم و دانش، ثقافت اور سائنس اور ٹیکنالوجی کی سطح کو ارتقاء دینے کے حوالے سے اسمبلی کی روش، تعلیمی اداروں، مدارس اور اسکولوں، ثقافتی و تعلیمی مراکز کی تاسیس میں مدد دینے، لائق اور مستعد نیز با نشاط نوجوانوں خاص طور پر محروم علاقوں کے طلبہ کو ملک کی اندرونی جامعات میں اسکالر شپ دینے اور دلانے جیسے اقدامات سے عبارت ہے۔ 6۔ قانون (لیگل) اداروں اور معاشی انجمنوں کی تاسیس، باضابطہ کوآپریٹیوز، سرمایہ کاری کے مشترکہ فنڈز کا قیام ان دیگر مجوزہ منصوبوں میں سے ہے جو اسمبلی کاروبار کا ماحول پیدا کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی غرض سے اسمبلی کا مطمع نظر رہے ہیں اور لازم ہے کہ پیروان اہل بیت (ع) کی معاشی صلاحیت کے ارتقاء میں ان اقدامات کے مثبت اثرات کے پیش نظر اس مسئلے کو کمیشنوں اور کمیٹیوں کے مذاکرت کے دوران اجلاسوں میں مد نظر رکھا جائے۔ 7۔ محروم شیعیان اہل بیت (ع) کی معاشی حمایت اور ان کو معاشی حوالے سے طاقتور بنانے کی غرض سے انہیں مالی امداد بہم پہنچانے کے سلسلے میں اسمبلی کے واضح ترین اقدامات میں سے ایک، بعض ممالک میں قرض الحسنہ فنڈز کے قیام میں تعاون کرنا تھا۔ توقع کی جاتی ہے کہ متعلقہ ممالک کے مقامی معاشروں میں ان فنڈز کو تقویت پہنچانے کے مسئلے کو کمیشنوں اور کمیٹیوں کے اجلاسوں میں زیر بحث لایا جائے اور اس سلسلے میں ہونے والے مذاکرات کسی واضح نتیجے پر منتج ہوجائیں۔8۔ عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی جدید مواصلاتی وسائل اور سائبر سپیس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی تبلیغی اور ثقافتی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کا دوچند اہتمام کرتی رہی ہے، اس سلسلے میں ـ چوتھے اجلاس کی توقعات اور تقاضوں ـ کو مد نظر رکھتے ہوئے عربی زبان میں ثقلین ٹی وی چینل تاسیس کیا گیا ہے جو مستقبل قریب میں انگریزی زبان میں بھی اپنے پروگراموں کا آغاز کرنے والا ہے۔علاوہ ازیں اسمبلی کے اراکین کی درخواست ابنا خبر ایجنسی نے بروقت، جامع اور مؤثر اطلاع رسانی کے مقصد سے اپنی فعالیت تین زبانوں سے بڑھا کر 17 زبانوں تک پہنچا دی ہے۔ یہ خبررساں ادارہ جو (ابنا ڈاٹ آئی آر) کے ڈومین پر اپنی خدمات رسانی میں مصروف ہے، پیروان اہل بیت (ع) کے مسائل کو کوریج دینے کی بنا پر اپنی نوعیت میں مصروفترین ہے اور اس کے صارفین کی تعداد دیگر شیعہ نیوز ایجنسیوں کی نسبت پہلے درجے پر فائز ہے۔ نیز اسمبلی کی اطلاع رسانی کے حوالے سے "اہل بیت (ع) پورٹل" نے اسمبلی کی فعالیتیں متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔9۔ بین الاقوامی سطح پر اسمبلی کی تزویری ذمہ داریوں کے حوالے سے گذشتہ چار سال کے عرصے میں وسیع اور متعدد اقدامات عمل میں لائے گئے ہیں جن میں کتب خانوں کی توسیع، آٹھ سو موضوعات پر تالیف شدہ چالیس لاکھ جلد، کتب کی ترسیل، اسلامی اور غیر اسلامی اداروں کو علمی و ثقافتی مواد کی ترسیل، مقامی برادریوں نیز مقامی اسمبلیوں کے لئے مختلف مناسبتوں پر ثقافتی بستوں (Cultural Packages) کی ترسیل، تجزیاتی اور تخصصی رپورٹیں ارسال کرکے شیعہ اداروں اور مبلغین کی فکری اور علمی پشت پناہی، متواتر اور وقفہ بہ وقفہ رسائل و جرائد کی اشاعت اور ثقاقتی و تعلیمی پروگرام تیار کرکے ذرائع ابلاغ اور سائبر سپیس کے ذریعے شائع کرنا، خاص طور پر قابل ذکر ہے۔10۔ اسمبلی متعلقہ 3000 مبلغین کے توسط سے تبلیغی و تعلیمی امور کی سرپرستی کا خصوصی اہتمام کررہی ہے جس کی وجہ سے مبلغین کی نشوونما ہوئی ہے، ان کی بالیدگی یقینی بنائی گئی ہے اور ان کی دانش کو عصر حاضر کے تقاضوں کے تناسب سے تقویت پہنچائی گئي ہے۔آخر میں پیروان اہل بیت (ع) کے مثبت نقاط اور دستیاب مواقع نیز انہیں درپیش چیلنجوں اور خطرات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بنیادی نکتے کی یادآوری کرتا ہوں کہ مسلمانوں کی عصر حاضر کی صورت حال اور دنیا کے مختلف علاقوں کے حالات اور جغرافیائی محل وقوع کی بنا پر عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کا سروکار مختلف قسم کے معاشروں اور افراد سے ہے جن میں خواتین، نوجوان اور بچوں کو بہت اہم حیثیت حاصل ہے۔ نیز افریقہ اور ایشیا اور لاطینی امریکہ کے مختلف علاقوں کو خاص توجہ دینا، اسمبلی کے تزویری (اسٹراٹیجک) رجحانات اور بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110