10 ستمبر 2011 - 19:30

بدنام زمانہ اسرائيلي خفيہ تنظيم موساد نے مصر ميں اسرائيل سفارت خانے پر عوامي قبضے کو انتہائي تشويشناک قرار ديا ہے-

ابنا: موساد کي ويب سائٹ کے مطابق قاہرہ ميں اسرائيلي سفارت خانے پر حملے نے اسرائيل کو بتيس سال پہلے کے مايوسي اور تنہائي ميں پہنچاديا ہے- موساد کا کہنا ہے کہ قاہرہ ميں اسرائيلي سفارت خانے پر قبضہ دراصل مصر اسرائيل تعاون کے خاتمے کا پيش خيمہ ہے- دوسري جانب مصر کي حکمران فوجي کونسل نے ملک ميں ہنگامي حالت نافذ کرنے اور اسرائيل سفارت خانے پر حملے کے الزام ميں اڑتيس افراد کے خلاف فوجي عدالت ميں مقدمہ چلانے کا فيصلہ کيا ہے-حکمراں فوجي کونسل نے مستقبل ميں ايسے حملے روکنے کے لئے اسرائيلي سفارت خانے کي حفاظت کے لئے مزيد سيکورٹي اہلکار تعينات کرنے کا بھي فيصلہ کيا ہے- فوجي کونسل کے اس فيصلے کے بارے ميں خبريں ايسے وقت ميں سامنے آئي ہيں جب سيکڑوں مظاہرين نے قاہرہ کے امريکي سفارت خانے پر بھي حملے کي کوشش کي ہے اور امريکي سفير کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ کيا ہے-عيني شاہدين کا کہنا ہے کہ سيکڑوں کي تعداد ميں مصر کے انقلابي نوجوانوں نے آزادي اسکوائر سے امريکي سفارت خانے کي جانب مارچ کيا اور سفارت خانے کو جانے والے راستے کو رکاوٹيں کھڑي کر کے بند کرديا- يہ نوجوان بڑے پرجوش انداز ميں امريکہ اور اسرائيل کے خلاف نعرے لگار ہے تھے اور انکا مطالبہ تھا کہ امريکي سفير کو ملک سے باہر نکالا جائے- کہا جارہا ہے مصري پوليس نے مظاہرہ کرنے والے نوجوانوں کے خلاف طاقت کا بے تحاشہ استعمال کيا اور امريکي سفارت خانے پر قبضے کي کوشش ناکام بنادي-............

/169