6 ستمبر 2011 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی پاکستان اور ایران کے اقتصادی تعاون کے مشترکہ کمیشن کے اٹھارویں اجلاس میں شرکت کے لۓ آج اسلام آباد پہنچے ہیں۔

ابنا: اطلاعات کے مطابق علی اکبر صالحی اسلام آباد میں اپنے قیام کے دوران صدرپاکستان آصف علی زرداری، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، سمیت دیگر پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ ایران اور پاکستان اقتصادی تعاون کی علاقائی تنظیم ایکو کے بانی شمار ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی گروپ D 8 کے بھی فعال رکن ہیں اور سب سے بڑھ کر انرجی کے میدان میں گیس پائپ لائن بچھانے کا عظیم پروجیکٹ تہران اور اسلام آباد کے درمیان انتہائی قریبی تعاون کا عکاس ہے۔دو پڑوسی اور اسلامی ملک ہونے کے ناطے ایران اور پاکستان کے درمیان ایک ایسا تعلق پایاجاتا ہے جو روز بروز مضبوط ہورہا ہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات رسمی اور محض سفارتی سطح پر استوار نہیں بلکہ اس سے بالا تر ہیں اور ان تعلقات کی جڑیں دونوں قوموں کی ثقافت اور مذھبی اقدار میں پیوست ہیں۔بہرحال اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ کے دورے کے تعلق سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعاون میں فروغ اور علاقائی سلامتی جیسے مسائل تہران اور اسلام آباد کے درمیان گفتگو کا محور قرار پائیں گے۔امریکہ اور نیٹو فورسز کی موجودگی نے علاقے کے ملکوں کے لئے بہت سے مسائل کھڑے کررکھے ہیں۔ افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کے عوام بھی ان مسائل سے دوچارہیں اور دہشت گردی کا عفریت بری طرح سے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے کہ جس چٹھکارے کے لئے پاکستان ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ رواں سال کے جولائی کے وسط میں صدر پاکستان آصف علی زرداری کے دورہ تہران کے موقع پر رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا تھا کہ پاکستانی عوام کو مسائل اور مشکلات سے نجات دلانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ پاکستان اسلام اور اسلامی تعلیمات سے جڑا رہے۔ پاکستان کی قومی اتحاد اور ارضی سالمیت کو لاحق کھلے خطرات کے تعلق سے پاکستان کے بعض دشمنوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا پاکستانی عوام اور اس ملک کی قومی وحدت کا حقیقی دشمن مغرب ممالک خصوصا امریکہ ہے۔آپ نے فرمایا کہ پاکستانی عوام کی طویل جدو جہد میں محمد علی جناح اور علامہ اقبال جیسی شخصیات ابھر کر سامنے آئیں اور اس ان تھک جدو جہد کی خصوصیت یہ تھی کہ پاکستان کے عوام اسلام سے جڑے ہوئے تھے۔رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ایران اور پاکستان کے درمیان دینی تاریخی اور ثقافتی مشترکات کی طرف اشارہ کیا اور پاکستانی قوم کو ایک عظیم اور ایسی قوم سے تعبیر کیا کہ جو اسلام پر یقین رکھتی ہے۔ آپنے فرمایا پاکستان کی کوئی بھی ترقی و پیشرفت،اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے باعث مسرت ہے۔ اس سے قبل 25 جون 2011 کو بھی صدر پاکستان کے دورہ تہران کے موقع پر رہبر انقلاب اسلامی نے ملت پاکستان کے اتحاد کو امریکہ کے ناپاک عزائم کی ناکامی کا موجب قرار دیا تھااور فرمایا تھا کہ امریکہ پاکستان میں تفرقہ پیدا کرکے اپنے ناجائز مقاصد حاصل کرنے کے لۓ کوشاں ہے لیکن واشنگٹن کے ناپاک عزائم سے پاکستانی عوام کی آگہی و بصیرت، امریکہ کی تسلط پسندی کے مقابل میں پاکستانی قوم کی زیادہ سے زیادہ استقامت کا باعث بنےگی۔

گیس پائپ لائن، پاکستان ایران دوستی کی علامت۔ 
............

/169