2 ستمبر 2011 - 19:30

وکی لیکس کے جاری کردہ خفیہ مراسلے میں انکشاف ہوا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے امریکا کو نادرا کا کروڑوں پاکستانیوں کا ریکارڈ دینے کی پیش کش کی تھی / 9 مارچ 2010 دس کی خبر: حکومت نے اپنے شہریوں کی مکمل معلومات امریکا وبرطانیہ کو فراہم کردیں۔

ابنا: وکی لیکس کے مطابق 20 جولائی 2009 کو امریکا کی داخلی سلامتی کی وزیر Janet Napolitano نے اسلام آباد میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، صدر آصف زرداری اور رحمان ملک سے ملاقاتیں کیں۔
امریکی سفیر نے واشنگٹن بھیجے گئے مراسلے میں لکھا کہ رحمان ملک نے امریکی حکومت کی امداد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کروڑوں پاکستانیوں کا نادرامیں موجود ریکارڈ امریکا کو فراہم کرنے کی پیش کش کی تھی۔
انھوں نے تجویز دی تھی کہ اس سلسلے میں عوام کے سامنے حکومت کو شرمندگی سے بچانے کے لئے معاہدے کا ماڈل سامنے لایا جائے یا پھر کوئی قانونی طریقہ اختیار کیا جائے۔
مراسلے کے مطابق پاکستانی حکام اس بات سے لاعلم تھے کہ امریکا کو لاہور سے مانچسٹر، نیویارک اور نیویارک سے لاہور کے درمیان پروازوں کے مسافروں کے ناموں کے ریکارڈ تک پہلے ہی رسائی حاصل تھی۔

رحمن ملک کا رد عمل:

نادرا کا ڈیٹا امریکی حکام کو دینے کی پیشکش نہیں کی گئی،وزارت داخلہ 
پاکستان کی وزارت داخلہ نے ایک وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ نادرا کا ڈیٹا امریکی حکام کو دینے کی کبھی پیشکش نہیں کی گئی اس حوالے سے وکی لیکس کے انکشافات بے بنیاد ہیں۔ تر جمان وزرات داخلہ کے مطابق نادرا کا ڈیٹا امریکی حکام کو دینے کی ماضی میں کبھی کوئی پیشکش نہیں کی گئی ۔واضح رہے کہ وکی لیکس نے اس حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ 20 جولائی 2009 کو امریکا کی داخلی سلامتی کی وزیر Janet Napolitano نے اسلام آباد میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی ، صدر آصف زرداری اور رحمان ملک سے ملاقاتیں کیں، جس کے بعد امریکی سفیر نے واشنگٹن بھیجے گئے مراسلے میں لکھا کہ رحمان ملک نے امریکی حکومت کی امداد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کروڑوں پاکستانیوں کا نادرامیں موجود ریکارڈ امریکا کو فراہم کرنے کی پیش کش کی تھی۔ 

ایک پرانی خبر: تاریخ: 2010/03/09 مأخذ: روزنامہ جسارت:

حکومت نے اپنے شہریوں کی مکمل معلوماتCLICK امریکا وبرطانیہ کو فراہم کردیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110