یوم القدس 1432 ـ 2011
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تین عشرے گذر گئے ہیں اس وقت سے جب امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے ماہ مبارک رمضان کے آخری جمعے کو "عالمی یوم القدس" کا نام دیا۔ وہ تین عشرے جن کے دوران مستضعفین عالم نے عالمی استکبار و صہیونیت کے خلاف نفرت کا اونچی صدا سے نفرت کا اظہار کیا؛ اور ساتھ ہی ان کٹھ پتلی حکمرانوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا جو طاقت و دولت کے تخت پر براجماں ہوکر امت کی مادی اور معنوی دولت اسلام کے قسم خوردہ دشمنوں کے گلے میں انڈیل رہے تھے۔ اور ہاں! آج امت کی داستان مختلف ہے؛ وہ پودا جو تیس سال قبل خمینی کبیر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے جد امجد حضرت حسین بن علی (ع) کے نقش قدم پر چلتے ہوئے امت کے ضمیر میں لگایا تھا، آج ایک تناور درخت میں تیدیل ہوچکا ہے۔ اس وقت علاقے کے غلام حکام یکے بعد دیگرے تخت بادشاہی سے خاک ذلت کی طرف کھینچے جارہے ہیں؛ بعض بے خانماں ہوکر دوسرے ممالک میں آوارہ پھر رہے ہیں اور بعض الزامات کے پنچروں میں بند اپنے بدبختی سے بھرپور مقدر کا سامنا کررہے ہیں جبکہ بعض دیگر ناامیدی کے عالم میں اپنی بقاء کے لئے ہر تنکے کا سہارا لے رہے ہیں۔اور اس صورت حال میں جو سربلند اور کامیاب ہیں وہ بااستقامت اور ثابت قدم ملت فلسطین، غیور ملت ایران اور عظیم اسلامی امت کے تمام کے تمام انقلابی اعضاء ہیں جو بدستور «مردہ باد امریکہ» اور «مردہ باد اسرائیل» کے نعرے لگارہے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ وہ دن دور نہیں جب استکبار و استعمار کے مغرور سرغنے بھی اپنے غلاموں کی مانند حضیض ذلت میں گریں گے کہ یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ « و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون» ترجمہ: اور جن لوگوں نے ظلم کیا وہ جلد ہی جان لیں گے کہ وہ کونسی لوٹنے کی جگہ لوٹ کرجائیں گے۔بے شک یوم القدس کا رنگ و بو امسال کچھ اور ہے اور دنیا کے مسلمان جو جشن رمضان کو ـ خاص طور پر مصر، تیونس، یمن اور علاقے کے دوسرے ممالک میں ـ زمانے کے فرعونوں کی سرنگونی کے جشن کے ساتھ ہم زمان دیکھ رہے ہیں، عالمی یوم القدس کی ریلیوں میں زیادہ سے زیادہ پر جوش انداز سے شرکت کرکے مسلمانوں کے قبلۂ اول کی قریب الوقوع آزادی کی خوشخبری کا نعرہ لگائیں گے۔

عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی بھی 1432 کے یوم القدس کی آمد پر عظیم الشان امام راحل رحمۃاللہ علیہ کو خراج تحسین و عقیدت پیش کرتے ہوئے ایک بار پھر مظلوم فلسطین کے کاز کی بھر پور حمایت پر زور دیتی ہے اور امت مسلمہ سے، قدس شریف کی آزادی تک حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای کی پیروی کی اپیل کرتی ہے۔ نیز یہ اسمبلی پیروان و محبان اہل بیت عصمت و طہارت کو بھی دعوت دیتی ہے کہ عالمی یوم القدس کے مراسمات کا بھرپور انعقاد کریں اور اس میں بھرپور شرکت کو یقینی بنا کر حضرت مولائے متقین امیرالمؤمنین علیہ السلام کی اس وصیت کو عملی جامہ پہنائیں کہ «كونا لِلظّالمِ خَصما وَ لِلمَظلومِ عَوناً».ظالم کے دشمن اور مظلوم کے حامی رہو۔
عالمی اہل بیت (ع) اسمبلیرمضان المبارک 1432