20 اگست 2011 - 19:30

شیخ الازہر نے بعض ٹی وی نیٹ ورکس اور سیٹلائٹ چینلز کی جانب سے مسموم تشہیری مہم کی جانت اشارہ کتے ہوئے کہا کہ شیعہ اور سنی قرآن میں فرق کا دعوی جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شیخ الازہر ڈاکٹر احمد الطیب نے قاہرہ میں انیسویں بین الاقوامی قرآنی نمائش کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تفرقہ انگیز اقدامات اور تقاریر و مکالمات کے خطرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: شیعہ اور سنی قرآن میں حتی ایک "حرف" کا فرق بھی نہیں ہے اور یہ دعوی کہ "اہل تشیع کا قرآن اہل تسنن سے الگ ہے" ایک جھوٹا اور بے بنیاد دعوی ہے۔ انھوں نے شیعہ اور سنی علماء سے اس قسم کے دعووں کا مقابلہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا: افسوس کی بات ہے کہ بعض چینلز آج فریقین کے انتہا پسندوں کے اڈوں میں تبدیل ہوگئے ہیں جو ایک دوسرے کی توہین کرتے ہیں اور تفرقہ و اختلاف کے اسباب فراہم کرتے ہیں؛ جبکہ دونوں مذاہب کے حقیقی علماء اور عقلاء ان لوگوں کو رد کرتے ہیں۔  شیخ الازہر نے قرآن کریم کو شیعہ اور سنی کے اتحاد کا رمز قرار دیتے ہوئے کہا: شیعہ اور سنی کے درمیان ابلاغی اور تشہیری جھگڑوں کو قرآن مجید تک نہیں پہنچنا چاہئے  (اور قرآن کو متنازعہ بنانے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے) اور لازم ہے کہ فریقین کے علماء اور شخصیات اس سلسلے کو روکنے کے لئے کوشش کریں۔انھوں نے کہا: قرآن اسلام، عقل اور اسلامی تہذیب کا قلب ہے اور مسلمانان عالم کا واحد سرمایۂ عزت اور تاریخ کے دوران مسلمانوں کے اتحاد کی بنیاد ہے۔ ڈاکٹر احمد الطیب نے کہا: خداوند متعال نے قرآن کو تحریف سے مصون و محفوظ قرار دیا ہے اور حتی یہ ایسی حقیقت ہے کہ اہل اسلام نے اس پر تأکید کی اور دشمنان اسلام کو بھی اس کا اعتراف ہے حتی کہ ایک فرانسیسی مستشرق نے کہا ہے کہ: "قرآن وہ واحد آسمانی اور ربانی کتاب ہے جس میں کوئی تغییر اور تحریف نہیں ہوئی ہے"۔ ......./110