ابنا: اس بات کا انکشاف ليبيا کي عبوري انقلابي کونسل کے نمائندے عبدالمنعم الھوني نے مصري اخبار اليوم کو ديئے گئے اپنے ايک انٹرويوں ميں کيا-
انہوں نے کہا کہ ليبيا کے دورے کے موقع پر امام موسي صدر اور معمر قذافي کے درميان تلخ کلامي ہوئي تھي کيونکہ قذافي کا دعوي تھا کہ تمام سياسي اور مذہبي معاملات سے پوري طرح آگاہي ہے- انہوں نے بتايا کہ اس تلخ کلامي کے بعد قذافي نے امام موسي صدر اور انکے وفد کے ارکان کو شہيد کرنے کا فيصلہ کرليا تھا- عبوري انقلابي کونسل کے نمائندے کا کہنا تھا کہ چند روز کے بعد قذافي کي موجودگي ميں امام موسي صدر اور انکے ساتھيوں کو انتہائي بے رحمي کے ساتھ شہيد کرديا گيا-
واضح رہے کہ سيد موسي صدر ايک اہم شيعہ مذہبي اور سياسي رہنما ہيں جنہوں نے ايران سے ہجرت کے بعد لبنان ميں مجلس اعلي شيعيان لبنان کي بنياد رکھي تھي اور اس ملک کے شيعہ برادري کي نظرياتي اور سياسي قيادت کر رہے تھے-
وہ انيس سو اٹہتر ميں قذافي کي خصوصي دعوت پر ليبيا تشريف لے گئے جہاں کہا گيا کہ وہ لاپتہ ہوگئے ہيں-
............
/169