اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شيخ عبدالنبي النشابہ نے العالم سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: جواد فیروز اور مطر مطر کی گرفتاری کا سبب یہ تھا کہ یہ دو نمائندے پارلیمان میں بھی عوامی حقوق کے لئے کوشاں رہے تھے جبکہ آزاد حکومتیں عوام کا دکھ درد رکھنے والے اراکین پارلیمان کا شکریہ ادا کیا کرتی ہیں۔انھوں نے کہا کہ ان دو مستعفی اراکین پارلیمان کی رہائی پورے بحرین میں ہونے والے عوامی احتجاجات کا نتیجب تھی اور پھر ان دو راہنماؤں پر خلیفی خاندان کوئی بھی الزام بھی نہیں لگا سکا تھا چنانچہ حکام کے پاس ان افراد کی رہائی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔انھوں نے حکومتی جبر و تشدد، عوامی مسائل کے ابلاغی بائیکاٹ، جامعات کے اساتذہ کی برخاستگی اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی خلیفی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: بہت سے لوگ اپنی تنخواہیں منقطع ہونے سے فکرمند ہیں اور ساتھ ساتھ خلیفی حکمران عوامی انقلاب کو فرقہ وارانہ تحریک ثابت کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ شیخ النشابہ نے قائد انقلاب بحرین آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کی ہدایات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جو بھی شخص عوامی دکھ درد کا احساس رکھتا ہے اس کو خاموش نہیں رہنا چاہئے اور سب کو پرامن احتجاج کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے عوامی مطالبات کے حصول تک فعال رہنا چاہئے۔ دریں اثناء آل خلیفہ حکومت نے دو سابق اراکین پارلیمنٹ کو رہا کردیا ہے۔ بحرین کے انسانی حقوق مرکز کے مطابق اب بھی ایک ہزار سے زائد سیاستدان بحرین کی جیلوں میں موجود ہیں۔مطر نے رہائی کے بعد میڈیا کو بتایا کہ قید کے دوران ان پر تشدد کیا گیا تھا جبکہ ان کے ساتھیوں کے ساتھ بھی اسی قسم کا سلوک کیا گیا۔ بحرین میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران گرفتار کیے گئے حزب اختلاف کے دو سابق رکنِ پارلیمنٹ جواد فیروز اور مطر مطر کو مئی میں اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب انھوں نے حکومت مخالف مظاہروں سے نمٹنے کے معاملے پر پارلیمنٹ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
ادھر قومی ڈیموکریٹک جمعیت کے سیکریٹری جنرل "فاضل عباس" نے بھی ان دو راہنماؤں کی رہائی کو عوامی احتجاج کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان دو افراد کی رہائی کا مفہوم یہ ہے کہ آل خلیفہ حکومت کی جانب سے ماحول کو سیکورٹی ماحول بنا کر انقلاب کو ناکام بنانے کی سوچ شکست کھاگئی ہے۔ انھوں نے کہا: خلیفی حکومت کی جانب سے امن و امان کا مسئلہ کھڑا کرکے مسائل حل کرنے کی پالیسی اب تک کسی بھی خلیفی مقصد کے حصول میں ناکام رہی ہے اور حکومت عوام کا منہ بند نہیں کرسکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت انقلاب کو کچلنے کا ارادہ رکھتی ہے اور عوامی مسائل کا حل سیاسی انداز سے ممکن نہیں ہے۔ حکومت سیاسی اقدامات کے ذریعے وقت خریدنے کا ارادہ رکھتی ہے اور سیکورٹی اقدامات کے ذریعے عوام کو کچلنا چاہتی ہے گو کہ یہ روش شکست کھا گئی ہے۔ انھوں نے کہا: بحرین سیاسی حوالے سے بند گلی میں پہنچ گیا ہے کیونکہ آل خلیفہ خاندان کا انتہا پسند دھڑا اب بھی عوام کے حقوق تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے اور بااختیار پارلیمان اور منتخب حکومت نیز نئے آئین کی منظوری کی راہ میں روڑے اٹکا رہا ہے۔ انھوں نے مستقبل قریب میں نمائشی پارلیمانی انتخابات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خلیفی حکومت ان انتخابات کے ذریعے عوامی مطالبات کو بائی پاس کرنا چاہتی ہے اور آنے والی پارلیمان کسی طور بھی عوامی عزم کے نتیجے میں تشکیل نہیں پاسکے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110