ابنا: مال گاڑیوں کی بندش کے بعد برانچ لائنوں پر چلنے والی ٹرینیں بند ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس صورت حال نے مسافروں کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔ کوئٹہ، پشاور اور کراچی سے لاہور آنے والی درجنوں ٹرینیں اپنے مقرررہ وقت سے دو سے دس گھنٹے تاخیر سے پہنچ رہی ہیں۔ لاہور سے چھوٹے شہروں کو جانے والی پانچ اہم ٹرینیں انجن نہ ہونے کے باعث لاہور ریلوے اسٹیشن پر کھڑی ہیں۔ ریلوے ذرائع کے مطابق کراچی سے لاہور آنے والی عوام ایکسپریس صبح آٹھ بجے لاہور پہنچنا تھی جو تقریبا سات گھنٹے کی تاخیر سے لاہورپہنچے گی۔ جعفر ایکسپریس چھ گھنٹے، علامہ اقبال آٹھ گھنٹے، قراقرم چار گھنٹے اورکراچی ایکسپریس چھ گھنٹے لیٹ ہیں۔ جنرل مینجر ریلوے انجم پرویز کے مطابق ٹرینوں کی آمدورفت میں تاخیر کی وجہ ریلوے کے پرانے انجن اور انجنوں کی کمی ہے۔
ریلوے انتظامیہ کی ناقص کارکردگی، متعدد انجن فیل، ٹرینوں کی آمدروفت میں 2 تا 16 گھنٹے تاخیر، مسافروں کا احتجاج
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ریلوے انتظامیہ کی ناقص کارکردگی متعدد انجن فیل ہونے کی وجہ ٹرینوں کی آمدورفت میں 2 تا 16 گھنٹے تاخیرکا سلسلہ جاری ہے۔ مسافروں اور ان کے عزیزوں شدید اذیت اور پریشانی کا سامنا ہے۔ انجن کی قلت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ منگل کو فرید ایکسپریس اور سکھر ایکسپریس کو انجن کے ذریعے سحری کے وقت 3 بجے شپ روانہ کیاگیا بدھ کوصبح ساڑھے 5 بجے روانہ ہونے والی ہزارہ ایکسپریس اور صبح ساڑھے 6 بجے روانہ ہونے والی شاہ رکن عالم کو ایک انجن کے ذریعے روانہ کیا گیا۔ ٹرینوں کی آمدورفت میں تاخیرکی وجہ سے کینٹ اور سٹی اسٹیشن مسافروں کا ہجوم لگا رہا۔کئی مشتعل مسافروں نے اسٹیشن پرہنگامہ آرائی کی ریلوے انتظامیہ کے خلاف نعرے لگائے۔ دریں اثناء اننگ اسٹاف ایسوسی ایشن جنہوں نے منگل کو2 موٹر والے انجنوں کے ذریعے ٹرینیں چلانے سے انکارکردیا تھا بدھ کو انتظامیہ سے مذاکرات کے بعد ٹرینیں چلانے پر آمادگی ظاہرکردی۔ ریلوے ورکرز یونین کے مرکزی چیئرمین منظور احمد رضی راؤ نسیم اوردیگر نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر6 موٹر والے انجن فراہم کیے جائیں تاکہ ڈرائیوراورمسافروں میں تصادم کا خدشہ نہ رہے۔
...............
/169