24 جولائی 2011 - 19:30

اسلام آباد…سپریم کورٹ نے این آئی سی ایل کے اراضی اسکینڈل کیس میں تفتیش سے الگ کئے گئے آفیسر ظفرقریشی کے معاملے میں اپنے حکم کی عدم تعمیل پر برہمی کا اظہار کیا ہے اور اس پرمزید فیصلہ محفوظ کرلیا ہے.

ابنا: اٹارنی جنرل نے بتایاکہ محسن وڑائچ کی اہلیہ اور مونس الہی کے غیرملکی اکاوٴنٹس میں 13 لاکھ پاوٴنڈ ٹرانسفر ہوئے ۔ چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی مین سپریم کورٹ کے بنچ نے این آئی سی ایل کیس کی سماعت کی ، سیکریٹری اطلاعات نے اس کیس میں عدلیہ سے متعلق میڈیا سے متعلق منفی اشتہار بازی پر رپورٹ پیش کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ آپ وضاحت نہ کریں بلکہ ذمہ داری کا واضح تعین کریں ،چیف جسٹس نے ڈی جی ایف آئی اے کی عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کیا اور وہاں موجود سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کو مخاطب ہوتے ہوئے ریمارکس دئے کہ انہیں معطل کرکے گرفتار کریں اور عدالت میں لائیں، سیکریٹری نے بتایا کہ ڈی جی ، ایف آئی اے کے خلاف سمری وزیراعظم کو بھیجی ہوئی ہے لیکن 5 دن سے جواب نہیں آیا،اٹارنی جنرل نے ایف آئی اے کے حوالے سے بتایا کہ محسن وڑائچ کی اہلیہ اور مونس الہی کے غیرملکی اکاوٴنٹس کا معاملہ پہلے برطانوی حکام سے اٹھایا گیا لیکن اب پیش رفت نہیں ہورہی، چیف جسٹس نے کہا کہ تفتیش سے ظفرقریشی کے الگ ہونے کے بعد تمام معاملات ٹھپ ہوگئے ہیں، سپریم کورٹ کے آرڈر کی راہ میں سیاسی مداخلت شروع کردی گئی ہے، اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس میں مجاز اتھارٹی کا جواب عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکا اس میں مزید مہلت دی جائے، چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے ہی بہت وقت دیا گیاہے، اب اس معاملے پر فیصلہ محفوظ کیا جارہا ہے جو ایک یا دو دن میں سنادیا جائے گا۔ ............

/169