اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرینی حکومت سے وابستہ روزنامے "الوسط" نے گذشتہ بدھ کے روز برطانوی روزنامے "تائمز" کے حوالے سے رپورٹ دی کہ بعض امریکی اور عرب ذرائع نے فاش کیا ہے کہ بحرین میں تعینات پانچویں بحری بیڑے کی خلیج فارس کی دوسری ریاستوں میں منتقلی کے سلسلے میں بات چیت ہوئی ہے اور بعض سمجھوتے بھی انجام پاچکے ہیں۔ لیکن امریکی بحری بیڑے اور آل سعود کی فورسز کے سہارے قائم آل خلیفہ کی خاندان آمریت نے ابھی تک اس سلسلے میں خاموشی اختیار کررکھی ہے کیونکہ امریکی بیڑے کی بحرین سے منتقلی انقلاب بحرین کی کامیابی کی علامت سمجھی جاتی ہے اور انقلاب بحرین کی منتقلی آل خلیفہ کی آمریت کی موت کی علامت۔ٹائمز نے لکھا تھا کہ بحرین کی صورت حال تناؤ کا شکار ہے اور امریکی حکومت کو منامہ سے چند ہی کلومیٹر کے فاصلے پر تعینات بحری بیڑے کے مستقبل سے تشویش لاحق ہوئی ہے۔تا ہم بحرین میں تعینات پانچویں امریکی بحری بیڑے کے جنرل افئیرز کے سربراہ، ایمی ڈیرک فراسٹ (Amy Derrick Frost) نے ٹائمز کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اس رپورٹ کی تردید کردی لیکن بیڑے کی منتقلی کے بارے میں بحث و مباحثے جاری ہیں کیونکہ ٹائمز کی رپورٹ بھی اہم اور باوثوق ذرائع کے حوالے سے شائع ہوئی تھی۔ٹائمز نے لکھا تھا: بحرین میں جھڑپوں کے چند ہی روز بعد سے امریکیوں نے بیڑے کی منتقلی کے موضوع پر غور و خوض شروع کیا تھا اور جھڑپوں میں شدت آنے کے بعد یہ بحث زیادہ سنجیدہ ہوگئی تھی۔امریکیوں کا منصوبہ ہے کہ بیڑے کو امارات یا قطر کے ساحلوں پر منتقل کیا جائے لیکن ٹائمز نے لکھا ہے کہ فی الوقت یہ دو ریاستیں بیڑے کا استقبال کرنے کی لئے آمادگی نہیں رکھتیں۔ گو کہ امارات نے حال ہی میں ایک نئی بندرگاہ تعمیر کی ہے اور اس کو آسانی سے بحری اڈے میں تبدیل کیا جاسکتا ہے چنانچہ ممکن ہے کہ پانچواں بحری اڈہ امارات منتقل کیا جائے۔ٹائمز نے لکھا تھا کہ بیڑے کی منتقلی کے اخراجات بہت زیادہ ہیں لیکن اگر امریکہ منتقلی کے بارے میں آخری فیصلہ کر ہی لے تو اس سلسلے میں وہ امارات اور قطر کے درمیان ٹینڈر کرائے گا!!؟۔جو ملک کم قیمت پر اڈہ دے گا بیڑا وہیں تعینات کیا جائے گا۔امریکی بیڑا اس وقت بحرین کے الجفیر بحرے اڈے پر تعینات ہے اور آل خلیفہ ـ امریکہ کے درمیان فوجی معاہدے کے تحت بحرین کے تمام ہوائی اڈوں اور ساحلوں پر امریکہ کو وسیع سہولیات دی گئی ہیںدریں اثناء ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں امریکہ واشنگٹن میں امریکی اہلکاروں کے حوالے سے لکھا تھا کہ بحرین میں اٹھنے والی عوامی تحریک امریکہ کے مفاد میں نہیں ہے اور اب بیڑے کی منتقلی کے بارے میں ضرور سوچنا پڑے گا لیکن امارات اور قطر کی جغرافیائی پوزیشن بحرین کی نسبت کمزور ہے۔ گو کہ امارات قطر سے زیادہ مناسب قرار دیا جارہا ہے کیوں؟اس لئے کہ امارات میں کئی اہم ہاربرز امریکہ کے کنٹرول میں ہیں جہاں طیارہ بردار جہاز بھی لنگر انداز ہوسکتا ہے۔ طیارہ بردار جہاز کی لنگر اندازی کے قابل ہاربر دبی میں جبل علی کے ساتھ واقع ہے نیز امارات میں امریکی فوجیوں کی خاصی تعداد اور متعدد تنصیبات بھی ہیں۔قطر بھی اس قاعدے سے مستثنی نہیں ہے۔ اس ریاست میں "العدیدیہ" میں امریکی فوج کے سنترل کمانڈ (سینٹ کام) کا اڈہ واقع ہے۔ سینٹ کام کا یہ اڈہ مشرق وسطی، مشرق قریب اور شمالی افریقہ کے بعض ممالک میں امریکی افواج کی نگرانی کررہا ہے۔قطر میں سول ائیرپورٹ ساتھ ایک فوجی ائیرپورٹ تعمیر ہو رہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ یہ ائیرپورٹ قطر کی فوجی ضروریات پوری کرنے کے لئے ہوگا اور خاص شخصیات کا استقبال بھی یہیں ہوگا۔پانچواں امریکی بحری بیڑا 40 جنگی جہازوں پر مشتمل ہے جن میں 30 بزار امریکی فوجی سرگرم عمل ہیں۔ دریں اثناء لندن کے اسٹریٹجک اسٹڈیز مرکز مرکز کے ایک ماہر نے کہا ہے کہ امریکی بحری بیڑے کی منتقلی اور تعیناتی کے اختیارات امریکی وزارت دفاع کے پاس نہیں بلکہ وزارت خارجہ کے پاس ہے۔بہر حال امریکی بیڑے کی منتقلی کا مسئلہ سامنے آنے کے بعد آل خلیفہ خاندان کو اپنے اقتدار کے ستون لرزتے نظر آنے لگے ہيں اور منتقلی کی صورت میں اس خاندان پر مہلک ضرب پڑے گی۔پانچواں امریکی بحری بيڑا 1970 کی دہائی سے بحرین میں تعینات ہے جو ایک طرف سے پورے خلیج فارس کی نگرانی کررہا ہے، آبنائے ہرمز پر نظر رکھے ہوئے ہے، علاقے میں امریکی مفادات کا تحفظ کررہا ہے اور دوسری طرف سے بحرین کی گرتی ہوئی بے بنیاد نسلی اور فرقہ وارانہ آمریت کو تحفظ فراہم کررہا ہے۔ امریکہ نے اپنے اڈے کی حفاظت کے لئے انقلاب بحرین کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے اور عوامی مطالبات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے عرب حلیفوں کو انقلاب کے خاتمے کا ہدف دیا ہے جبکہ یہی امریکہ لیبیا میں قذافی سے کہتا ہے کہ وہ اقتدار چھوڑ دیں۔ اس نے بحرین میں عوام کو کچلنے کے خلیفی ـ سعودی اقدامات پر آنکھیں بند کررکھی ہیں، انھوں نے بحرینی عوام کے دھرنے کے مقام "میدان لؤلؤہ کو منہدم کردیا، مساجد کے انہدام کا ریکارڈ قائم کیا اور زخمی انقلابیوں کا علاج معالجہ کرنے والے ڈاکٹروں کو قید کرکے ایذائیں پہنچائیں۔ٹائمز لکھتا ہے کہ جب بحرینی عوام نے امریکی سفارتخانے کے سامنے دھرنا دیا تو آل خلیفہ فورسز نے انہیں وحشیانہ انداز سے کچل دیا مگر امریکیوں کے کان تک جوں تک نہیں رینگی اور جب خلیفی فوجی عدالت نے بعض بحرینیوں کو پھانسی کی سزائیں سنائیں تو امریکہ نے صرف تشویش کا اظہار کیا.یاد رہے کہ جون 2010 میں امریکیوں نے آل خلیفہ کے ساتھ مل کر اپنے اڈے کی علامتی توسیع کا آغاز کیا تھا؛ اور یہ توسیعی منصوبہ اٹھاون کروڑ ڈالر کی لاگت سے مکمل کیا جانا تھا؛ اور بحری اڈے کا رقبہ 100 فیصد بڑھایا کر 40 کلومیٹر مربع سے 80 کیلومیٹر مربع تک وسیع کیا جانکا تھا۔ تصویر ملاحظہ ہو:

بحرین اور امریکہ کا فوجی تعاون خلیج فارس کے جنوبی ساحلی ریاستوں میں بحرین پہلا ملک تھا جس نے برطانیہ کے ساتھ مختلف قسم کے معاہدوں کے باوجود ایران سے الگ ہونے پر 1971 میں امریکہ کے ساتھ فوجی معاہدہ کیا اور اس نے 40 کلومیٹر مربع زمین امریکیوں کے حوالے کردی۔ یہ معاہدہ 1973 میں عرب اسرائیل لڑائی کے دوران منسوخ ہوا۔ جنگ کے چند ماہ بعد آل خلیفہ اور امریکہ نے اس معاہدے کی تجدید کے حوالے سے دوطرفہ مذاکرات کا آغاز کیا اور 30 جون 1977 میں نئے معاہدے کی صورت میں اس کی تجدید ہوئی۔ نئے معاہدے کے تحت سلمان بندرگاہ پر امریکیوں کو بے انتہا سہولتیں دی گئیں۔1993 میں امریکی بحریہ کا علاقائی کمانڈ سنٹر بحرین میں تعینات ہوا اور جولائی 1995 میں پانچواں امریکی بحری بیڑا یہیں تعینات ہوا اور یہ بڑا اقدام درحقیقت آئل وار کے دوران کویت پر صدام کے قبضے پر امریکی حملے کے بعد علاقے میں اثر و رسوخ بڑھانے اور اسلامی جمہوریہ ایران کا اثر و رسوخ کم کرنے کے سلسلہ وار اقدامات کا حصہ تھا۔ 11 ستمبر کے مشکوک حادثے کے بعد بحرین کے المحرق ائیرپورٹ، سلمان بندرگاہ، عیسی بن سلمان ائیربیس اور منامہ کے قریب فوجی اڈے میں امریکیوں کو وسیع سہولیات دے دی گئیں اور بحری بیڑا اس وقت الجفیر بحری اڈے میں تعینات ہے۔پانچویں بحری اڈے کی تعیناتی کے مقاصدامریکہ کا پانچواں امریکی بحری بیڑا خلیج فارس کے علاوہ بحیرہ عمان (یا بحیرہ عرب)، بحر احمر اور بحر ہند کے بعض علاقوں میں ہونے والی کاروائیوں پر نگرانی کرتا ہے اور عراق اور افغانستان پر سمندری حملوں میں براہ راست کردار ادا کرتا ہے۔اس بیڑے نے اپنے مقاصد یوں بتائے ہیں:- خلیج فارس سے عالمی مارکیٹوں میں تیل کی منتقلی کو تحفظ فراہم کرنا- ایران کی نگرانی - خلیج فارس، بحیرہ عمان (یا بحیرہ عرب)، بحر احمر اور بحر ہند کے بعض علاقوں میں ہونے والی کاروائیوں کی نگرانی- عراق اور اقغانستان میں ہونے والی فوجی کاروائیوں میں شرکت- بحری قزاقوں اور ان کے بقول دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں حصہ لینا یاد رہے کہ مذکورہ علاقوں میں دہشت گردوں کے سرغنے امارات، قطر، کویت اور بحرین میں واقع امریکی اڈوں میں ہی امریکی کمانڈروں سے ملاقاتیں کرکے بریفنگ لیا کرتے ہيں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110




