19 جولائی 2011 - 19:30

الجزيرہ ٹيلي ويژن کے مستعفي ہونے والے نامہ نگار نے تينتيس روزہ جنگ کے دوران حزب اللہ لبنان کے ساتھ بعض لبناني عہديداراوں کي خيانت کا پردہ چاک کيا ہے-

ابنا: غسان بن جدو نے يہ بات زور ديکر کہي ہے کہ ان کے پاس ايسے دستاويزات ہيں جن سے تينيس روزہ جنگ کے دوران حزب اللہ کے خلاف غيرملکي جاسوي اداروں کے ساتھ تعاون اور ہماہنگي پوري طرح ثابت ہوجاتي ہے-بيروت ميں الجزيرہ کے سابق بيورو چيف نے بتايا کہ ان دستاويزات ميں جنگ بندي کے حوالے سے اقوام متحدہ کي قرار داد نمبر سترہ سو ايک کے متعلق ہونے والے مذاکرات کے بارے ميں دستاويزات شامل ہيں- الجزيرہ ٹيلي ويژن کے سابق بيورو چيف نے عوامي تحريک مزاحمت کے خلاف بعض اندروني اور بيروني گروہوں کي ريشہ دوانيوں پر حيرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لبنان اور فلسطين ميں مزاحمت ہي بنيادي راستہ ہے-غسان بن جدو نے شام کي صورتحال کے بارے ميں کہا کہ اس ملک کو ذرائع ابلاغ کے گمراہ کن اور جارحانہ حملوں کا سامنا ہے- انہوں نے کہا کہ شام کو جھوٹي اور من گھڑت خبروں اور عالمي دباؤ کے ذريعے گھٹنے ٹيکنے پر مجبور کرنے کي کوشش کي جارہي ہے- بعض مغربي اور عرب ملکوں کے حمايت يافتہ زرخريد عناصر نے حاليہ چند مہينوں کے دوران شامي عوام اور سرکاري اہلکاروں پر حملے کرکے درجنوں افراد کو ہلاک کرديا ہے جبکہ سرکاري اور نجي املاک کو بھي نقصان پہنچايا ہے.............../169