اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق تین روز قبل پاراچنار شہر سے خالی ٹرکوں کا قافلہ پشاور کی طرف جارہا تھا کہ لوئر کرم کے علاقے مندوری اور چار خیل میں مسلح افراد نے گاڑیوں پر پہلے اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے بعد پانچ ٹرکوں اور ایک پک اپ کو آگ لگادی۔ فائرنگ کے نتیجے میں ٹرک کے دو کنڈیکٹر زخمی ہوگئے۔ اس دوران مسلح افراد نے متعدد ڈرائیوروں کو بھی اغوا کرلیا۔ واقعے کے فورا بعد سیکورٹی فورسز نے موقع پر پہنچ کر ملزمان کے خلاف سرچ آپریشن کردیا اور اغوا ہونے والے کئی ڈرائیور اور کلینرز کو زندہ بازیاب کرالیا لیکن اغوا کرنے والے درندہ صفت دہشت گردوں نے دو نہتے شیعہ نوجوانوں کو ـ جو ٹرکوں کے قافلے میں پشاور جانا چاہتے تھے ـ شہید کردیا تھا۔رپورٹ کے مطابق اغوا ہونے والوں میں دو شیعہ طلبہ بھی شامل تھے جو ٹرکوں کے قافلے میں پشاور پہنچنا چاہتے تھے.شہید طلبہ کی شناخت کی گئی ہے اور معلوم ہوا ہے کہ ان میں سے ایک نام سید اجلال حسین تھا جن کا تعلق پاراچنار سٹی سے تھا اور دوسرے شہید کا نام ذاکر حسین تھا جن کا تعلق اپر کرم کے کراخیلہ گاؤں سے تھا۔معلوم ہوا ہے کہ نوجوان طالبعلم سید اجلال حسین پشاور مین ڈپلومہ کورس میں داخلہ لینے کے لئے پشاور جارہے تھے۔
تفصیلی رپورٹ از شیعیت نیوز
پاراچنار:طالبان دہشت گردوں نے دو شیعہ طالب علموں کو ذبح کر دیاکرم ایجنسی (نمائندہ خصوصی) ۔چارخیل لوئر کرم سے اغوا سید اجلال حسین اور ذاکر حسین آف پاراچنار کو طالبان نے بے دردی سے ذبح کرکے قتل کردیا،جب کہ باقی آٹھ مغوی ٹرک ڈرائیوروں کو رہا کردیا۔ذرائع کے مطابق اتوار کے دن پاراچنار سے پشاور آنے والے خالی ٹرکوں میں پاراچنار سے دو طالب علمسید اجلال حسین اور ذاکر حسین بھی راستوں کی بندش کی وجہ سے ٹرکوں میں سوار ہو کر پشاور ایڈمیشن لینے کے لئے آرہے تھے، کہ دہشت گرد طالبان نے چارخیل لوئر کرم میں سیکورٹی فورسز کے چیک پوسٹ سے چند قدم کے فاصلے پرخالی ٹرکوں کو آگ لگانے کے بعد دس افراد کو اغوا کردیاتھا۔پاراچنار کی سماجی و عوامی حلقوں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے۔کہ یہ کیسا فوجی آپریشن ہے کہ سیکورٹی فورسز کے چیک پوسٹ سے چند قدم کے فاصلے پر دن دیہاڑے طالبان کا راج و غنڈہ گردی جاری ہے۔ذرایئع کے مطابق طالبان نے باقی آٹھ مغویوں ٹرک ڈرائیوروں کو رہا کردیا ہے۔جب کہ۔چارخیل لوئر کرم سے اغوا سید اجلال حسین اور ذاکر حسین آف پاراچنار کو طالبان نے بے دردی سے ذبح کرکے قتل کردیا ہے۔کرم ایجنسی کی سماجی و عوامی حلقوں اور طوری بنگش قبائل نے اس واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے۔کہ یہ کیسا فوجی آپریشن ہے کہ سیکورٹی فورسز کے چیک پوسٹ سے چند قدم کے فاصلے پر دن دیہاڑے طالبان کا راج و غنڈہ گردی جاری ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت و سیکورٹی فورسز آپریشن کے نام پر ڈرامہ بازی بند کرکے طالبان دہشت گردوں کے خلاف حقیقی معنوں میں سوات طرز کی کاروائی کریں، یا پھر علاقے کے طوری بنگش عوام کو اجازت دیں کہ جس طرح طوری بنگش قبائل نے اپر کرم سے فتنئہ طالبان کا مکمل خاتمہ کیا اسی طرح لوئر و سنٹرل کرم سے بھی چند دنوں میں اس فتنے کا خاتمہ کرنے کے لئے طوری بنگش قبائل قبائل اس شرط پر تیار ہیں۔ کہ حکومت و سیکورٹی فورسز انہیں لکھ کر دے دیں کہ آئندہ غریب ملک کا آسی فی صد بجٹ سیکورٹی اور امن و امان کے نام پر ہڑپ نہیں کیاجائے گا۔کرم ایجنسی کی سماجی و عوامی حلقوں اور طوری بنگش قبائل نے الزام لگایا کہ حکومت و سیکورٹی فورسز میں موجود کچھ کالی بھیڑیں اغیار کے اشاروں پر مسلسل پانچ سال سے محب وطن طوری بنگش قبائل کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کرکے دیوار سے لگانے اور ریاستی دہشت گردی کے مرتکب ہورہے ہیں ،جس کے بھیانک نتائج کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں پر ہوگی، کیونکہ ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہاہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
یاد رہے کہ بازیاب ہونے والے ڈرائیور اور کلینر شیعہ نہیں تھے ورنہ ان کے ساتھ بھی آل محمد (ص) کے دشمن وہی سلوک روا رکھتے جو انھوں نے نوعمر طالبعلموں کے ساتھ روا رکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110 - 169
پاراچنار - کرم ایجنسی:- مسلح افراد نے گاڑیوں کو آگ لگاکر کئی افراد کو اغوا کرلیا / لڑائی چھیڑنے کے لئے ایک نیا گیم
- کرم ایجنسی: بس پر حملہ،10افراد جاں بحق،3زخمی / سازش کی نئی کڑی
- پاراچنار کے شہید پروہابی تشدد ویڈیو یزیدیوں کی درندگی – تأخیر سے منظر عام پر لانا ایک سازش / ایک وضاحت