13 جولائی 2011 - 19:30

لیبیا کے اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ نیٹو کے حملوں میں اب تک ایک ہزار ایک سو آٹھ افراد مارے جاچکےہیں جبکہ زخمی ہونےوالوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

ابنا: محمد زکریا محجوبی نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتےہوئے کہا ہےکہ وہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل پر جنگي جرائم کے سلسلے ميں لیبیا کی عدالتوں میں مقدمہ چلانا چاہتےہیں۔ انہوں نے کہا کہ راسموسن لیبیا کے صدر قذافی کو قتل کرنا چاہتےہیں۔ انہوں نے نیٹو پر الزام لگایا کہ یہ تنظیم بے گناہ انسانوں کے قتل میں ملوث ہے جن میں عورتیں بچے اور بوڑھے شامل ہیں۔ ادھر فرانس کے وزیرخارجہ نے کہا ہےکہ لیبیا کے بحران کے حل کےلئے عنقریب سیاسی راستہ تلاش کرلیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب لیبیا کی حکومت اور انقلابیوں کے درمیان مذاکرات شروع ہوں گے تو نیٹو حملے روک دے گي۔ ادھر اجدابیا شہر پر راکٹ حملوں میں چار افراد زحمی ہوگئے۔ قذافی کے فوجیوں نے اجدابیا پر راکٹوں سے حملہ کیا تھا۔ ان حملوں میں کئي مکانات تباہ ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق مغربی لیبیا میں قذافی کے فوجیوں اور انقلابیوں کے درمیان جھڑپوں میں آٹھ افراد ہلاک اور تیس زخمی ہوگئے۔ اس رپورٹ کے مطابق انقلابیوں نے طرابلس ہائي وے پر واقع السبعہ شہرمیں قذافی کے فوجیوں کے ٹھکانوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا ہے۔لیبیا میں فروری سے قذافی کے خلاف عوامی تحریک شروع ہوئي تھی جس کےبعد قذافی کے فوجیوں نے دسیوں ہزار شہریوں کو تہ تیغ کیا ہے جبکہ ہزاروں افراد زخمی اور نقل مکانی کرنے پرمجبو ہوئےہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ /169