12 جولائی 2011 - 19:30

قندھار(اے ایف پی /اے پی پی) افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے چھوٹے بھائی اور قندھارصوبائی مجلس شوریٰ کے سربراہ احمد ولی کرزئی کو گھرکے اندران کے ذاتی محافظ نے گولی مارکرقتل کردیا، بعدازاں احمد ولی کرزئی کے مبینہ قاتل کوبھی گولی مارکر ہلاک کردیا گیا اور مشتعل افراد نے اس کی لاش قندھارکے چوک پر لٹکا دی۔

ابنا: دوسری جانب افغان طالبان نے احمدولی کرزئی کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے بڑی کامیابی قراردیا ہے۔افغان صدرحامدکرزئی نے اپنے بھائی احمدولی کرزئی کے قتل پر اپناردعمل ظاہر کرتے ہوئے اچانک دورے پر آنے والے فرانسیسی صدرنکولس سرکوزی کے ہمراہ کابل میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے بھائی کے قتل سے سخت صدمہ پہنچا ہے اورمیں اپنے غم کوافغان عوام کے ساتھ بانٹیں گے۔اس موقع پرنکولس سرکوزی نے بھی اپنے افغان ہم منصب سے ان کے بھائی کی ہلاکت پر اظہارافسوس کیا۔علاوہ ازیں صدرمملکت آصف علی زرداری،وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اورعوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیارولی اورپارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹرزاہدخان نے افغان صدرحامدکرزئی کے بھائی کے قتل کی شدیدمذمت کی ہے اورصدرحامدکرزئی سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ادھر امریکا نے بھی احمدولی کرزئی کے قتل کو صدرحامدکرزئی کے لئے ایک بڑادھچکا قراردیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق منگل کی صبح احمد ولی کرزئی اپنے گھر میں موجود تھے کہ ان کے ذاتی محافظ سردار محمد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے اور بعد ازاں اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے۔قندھارمجلس شوریٰ کے نائب سربراہ آغالالئی دستگیرنے بتایا کہ وہ احمدولی کرزئی کے ساتھ ان کی رہائش گاہ پر ملاقات میں شریک تھے کہ ان کا ایک محافظ انہیں نجی کام پر صلاح مشورہ کے لئے دوسرے کمرے میں لے گیا اورتھوڑی دیر بعدتین گولیاں چلنے کی آوازسننے پر وہ موقع پہنچے توولی کرزئی خون میں لت پت پڑے تھے جنہیں قریبی میرویس اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے محافظ نے قاتل کو بھی موقع پر گولی مارکر ہلاک کردیا۔مقتول نے بیوہ،دوبیٹے اورتین بیٹیاں سوگوارچھوڑی ہیں۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169