11 جولائی 2011 - 19:30

اسلام آباد…سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ لاپتا افراد میں شامل مزید چار کو بازیاب کرلیا گیا ہے۔

ابنا: عدالت نے بیرون ملک قید پاکستانیوں کی حالت زار پر وہاں متعین پاکستانی سفیروں اور دفترخارجہ پر کڑی تنقید کی ہے اور سفیروں کو اس معاملے میں خصوصی توجہ لینے کی ہدایت کی ہے ۔ جسٹس جاویداقبال کی سربراہی میں عدالتی بنچ نے لاپتا افراد کے مقدمہ کی سماعت کی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے کے آغا نے وزارت داخلہ کی طرف سے بتایا کہ جن مزیدچارافراد کو بازیاب کرایا گیا ہے ان میں یعقوب فیاض، محمودالحسن،محمدزبیر اور برہان الدین شامل ہیں، انہوں نے بتایا کہ لاپتاافراد کے اہل خانہ کو ماہانہ بنیاد پر مالی امداد بھی شروع کردی گئی ہے،دفترخارجہ نے بیرون ملک قید پاکستانیوں سے متعلق رپورٹ پیش کی تو عدالت نے اس پر کڑی تنقید کی، جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ جب تک تمام پاکستانی قیدی واپس نہیں آجاتے ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے، ان پاکستانیوں کے ایشو میں خامی آئی تو دفترخارجہ کے خلاف کارروائی ہوگی،انہوں نے ریمارکس میں کہا کہ کیا ساری حکومت سپریم کورٹ نے چلانا ہے،بیرون ملک سفیر ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ خوبصورت زندگی گزاریں،یہ سفیر ہفتہ میں ایک دن قید پاکستانیوں کا معاملہ دیکھیں، عدالت نے لال مسجد آپریشن میں مرنے والوں کی ڈی این اے رپورٹس طلب کرلیں ، لاپتاافراد کے کمیشن کے سیکریٹری نے بتایاکہ کل کیسز 336 تھے، 108 نمٹادئے گئے ہیں، ان میں 83 کا سراغ لگالیاگیا ہے، 20 افراد کا اغواء ہی نہیں ہواتھا جبکہ 5 کیس نامکمل ہونے کی بنیاد پر نمٹائے گئے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169