ابنا: برطانیہ کے وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے بھی کہا ہے کہ ان میں سائنس داں، انجینیئر اور وہ افراد شامل ہیں کہ جو ایران کے ایٹمی پروگرام کے لیے سازوسامان اور آلات فراہم کرنے کے کام میں ملوث ہیں۔ اگرچہ یہ اقدام ایران پر دباؤ میں اضافے کے لیے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی شکست خوردہ پالیسیوں اور کوششوں کے احیاء سے تعلق رکھتا ہے لیکن ایسا نظر آتا ہے کہ ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے بارے میں تکراری دعووں کے ساتھ انسانی حقوق کے مسئلے کو ملانے کا مقصد ایران میں علمی و سائنسی ترقی و پیشرفت کو روکنے کے لیے مغرب کی آشکارا کوششوں کو چھپانا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اب تک چار قراردادیں منظور کر کے ایران کے خلاف پابندیاں لگائی ہیں لیکن یہ پابندیاں عملا شکست سے دوچار ہوئی ہیں۔ ان پابندیوں کے علاوہ امریکہ اور اس کے بعض اتحادیوں نے ایران پر الگ سے بھی پابندیاں عائد کی ہیں کہ جن کا دائرہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں سے کہیں وسیع ہے۔ اسی سلسلے میں امریکہ اور یورپی یونین نے گزشتہ ایک سال کے دوران ایرانی بینکوں اور کمپنیوں کے بعض افراد اور عہدیداروں کو اس دعوے کے ساتھ کہ ان کا اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے ساتھ تعلق ہے، اپنی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ امریکہ ایک ایسے وقت میں ایران پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور این پی ٹی معاہدے کی عدم پابندی کا الزام لگا رہا ہے کہ جب امریکہ کے انسانیت سوز اقدامات کا سلسلہ نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بیرون ملک تک پھیلا ہوا ہے۔ ریڈ انڈینز کا قتل عام، سیاہ فاموں کے خلاف نسل پرستی ، ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی بمباری اور ایران کے خلاف جنگ میں صدام کو کیماوی ہتھیاروں سے مسلح کرنا ان اقدامات کے صرف چند ایک نمونے ہیں۔ درحقیقت انسانی حقوق کے بارے میں مغربی ملکوں کی پالیسیاں اب پھیکی پڑ گئی ہیں اور دنیا کی رائے عامہ اب ابوغریب اور گوانتانامو کو امریکہ کے نام سے جانتی ہے اور دوسروں پر الزام تراشی کرنے سے ان کا یہ ماضی طاق نسیان کی زینت نہیں بنے گا۔ کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے خلاف پروپیگنڈا اور انسانی حقوق کا واویلا حقیقت سے فرار ہے۔ امریکہ علاقے میں اسلامی بیداری اور انقلابی تحریکوں پر اپنی پریشانی اور تشویش کے پیش نظر علاقے کے ملکوں کے لوگوں کے سامنے ایران کی ایک بری تصویر پیش کرنا چاہتا ہے۔ تاکہ اپنے زغم باطل میں علاقے کی ملکوں کی قوموں کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کو رول ماڈل بننے سے روک سکے۔ بہت سے ماہرین کا یہ خیال ہے کہ اسلامی بیداری کی لہر ایران کے اسلامی انقلاب سے متاثر ہے اور اس چیز نے علاقے میں امریکہ کی پوزیشن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس بنا پر امریکہ یہ کوشش کر رہا ہے کہ ایران کے خلاف رائے عامہ کو بھڑکا کر علاقے میں اپنی ڈوبتی ہوئی کشتی کو سہارا دے سکے۔ لیکن واضح ہے کہ اسلامی بیداری کا عمل پروپیگنڈے اور حقائق کو مسخ کرنے سے نہیں رکے گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169