ابنا:
٭ اسرائیل مصنوعی ریاست ہے جو زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہ پائے گی، ایران اور حزب اللہ کی آواز پر بہت بڑی تبدیلی رونما ہونے والی ہے۔٭ بات صرف قبلہ اول کی نہیں ہے، تاریخی اعتبار سے اتنی بڑی سیاسی ناانصافی کبھی ہوئی نہیں ہے صہیونیوں نے ایک ملک میں جاکر لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کیا اور اس کو اپنی زمین سمجھ کر بیٹھ گئے۔٭ اسرائیل انہیں ظلم و بربریت کا نشانہ بناتے ہوئے ان کا مسلسل خون بہا رہا ہے۔ 1948ء سے لے کر آج تک اسرائیل کیخلاف سلامتی کونسل میں 2 سو قراردادیں آ چکی ہیں، لیکن ایک مصنوعی ریاست کو سہارا دیا گیا۔ ٭ یہ ایک بہت بڑا ظلم ہے کہ سارا استعمار اس کی پشت پر کھڑا ہو گیا ہے، لیکن اب تاریخ کا پہیہ اب الٹا گھومنا شروع ہو گیا ہے، ۔۔۔ اب یہ تمام باتیں ختم ہیں۔ اب ان استعماری طاقتوں کو محسوس کرنا ہو گا، اور ان لوگوں کو انصاف دینا ہو گا، جنہیں بے گھر کیا گیا۔ اب تبدیلی کا وقت آ گیا ہے، وہ حسنی مبارک جس نے اسرائیل کا ساتھ دیا، اب ان کا دور گذر چکا نوجوان مصریوں نے سکندریہ میں فلسطین کا جھنڈا تک لگا دیا ہے، اسرائیلی قونصلیت پر چڑھ کر فلسطین کے پرچم کو لہرا دیا ہے۔ یہ تمام علامتیں بیدار نوجوان نسل کی ہیں جو اب تبدیلی اور انقلاب کے لئے کوشاں ہیں۔ ٭ بیت القدس مسلمانوں نے جنگ کے ذریعے سے حاصل نہیں کیا تھا، بلکہ حضرت عمر یروشلم گئے اور بغیر کسی قتل و غارت کے فتح نصیب ہوئی اور راہب نے چابیاں انہیں سونپ دیں۔ اقتدار مسلمانوں کو منتقل ہوتے وقت ایک بھی یہودی وہاں پر موجود نہیں تھا یعنی یہ کہ یروشلم ایک مذہبی معاہدے کے ذریعے لیا تھا۔ ٭ اسرائیل کی بقاء کیلئے صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ آزاد فسلطینی ریاست کا قیام ہے۔٭ مغرب نے مسلمانوں کو کنٹرول کرنے اور مفادات کا تحفظ کرنے کے خیال سے ایک چوکیدار کی ضرورت محسوس کی، اور مفصد مڈل ایسٹ کے مسلمانوں کے تیل کی دولت پر کنٹرول کرنا تھا۔ لیکن اب یہ نہیں ہو گا۔ ترکی کا رویہ بدل گیا عالمی استعمارکو افغانستان میں بہت بری شکست ہو رہی ہے اور رخصتی کے عمل کا سسلسلہ شروع ہو گیا ہے اور یہاں سے اسے جلد شکست ہو گی۔ عالمی معشیت کا نظام گر رہا ہے، اب صورتحال برقرار نہیں رہ سکے گی۔ ٭ جس دور میں تحریک خلافت چل رہی تھی اس وقت قائداعظم محمد علی جناح بیت المقدس اور فلسطین کے حوالے کھل کر بولے اور ساتھ دیا۔ فلسطین کا پاکستان کی تخلیق کے ساتھ بڑا گہرا ربط ہے، چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مولانا محمد علی جوہر فلسطین میں دفن ہیں، جو ہجرت کرکے وہاں گئے تھے، قائداعظم نے ڈیکلریشن کے خلاف بہت ساری تقریریں کیں یعنی وہ فلسطین کو پاکستان سے کم اہمیت نہیں دیتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ ایک ناجائز ریاست ہے جسے کسی صورت وجود میں نہیں آنا چاہیے کیونکہ وہ سمجتے تھے کہ اس سے پورے خطے میں خون خرابہ ہو گا، آج دیکھ لیں کہ قائداعظم کی بصیرت اور اُن کی پیش گوئی درست ثابت ہوئی، آج اس صہونی ریاست کی وجہ سے ہر جگہ خون خرابہ ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کو بھی آواز بلند کرے، ٭ فسلطین کے حوالے سے زمین کا مسئلہ ہو سکتا ہے، لیکن مسجد اقصٰی کا تعلق تو دین سے ہے، جو زمین سے نہیں ہے۔ یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ایک معاملہ زمین کا ہے کہ جو سیاسی ہے جبکہ دوسرا مسئلہ دینی ہے، دین کے مسئلے پر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ ایک مسئلہ جس کا تعلق ہی دین سے ہے، اسے کسی صورت نہیں چھوڑا جا سکتا۔ سعودی عرب میں اگر ہمارے مقدسات موجود ہیں اور اگر کوئی وہاں پر حملہ کر دے تو کیا ہم اس کو چھوڑ دیں گے، اصلاً نہیں۔ اور نہ ہی اُسے فراموش کر سکتے ہیں، اگر ہم نے بیت المقدس کو فراموش کر دیا تو کل کلاں کیا اسرائیل کی نگاہ سعودی عرب میں موجود مقدسات پر نہیں ہو گی، ضرور ہو گی، تو ایسی صورتحال میں ہمیں فیصلہ کرنا ہو گا۔ پاکستانی قوم کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔٭ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی قوم فلسطینی بھائیوں سے بے پناہ محبت کرتی ہے، جب یہاں پر فلسطین کی موومنٹ چلی تو خواتین نے اپنے چوڑیاں اور زیور تک بیچ کر اپنے فلسطینی بھائیوں کی امداد کی۔ یہ واقعات ہماری تاریخ کا حصہ ہیں، جنہیں ہم فراموش کرتے جا رہے ہیں۔ ٭ اب اسرائیل کا وجود برقرار نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ عرب نوجوان جیسے کہ لیبیا کا سلسلہ چل رہا ہے، مجھ سے لکھوا لیں یہ خوش تو ہو رہے ہوں گے کہ قذافی کو نکال دیا ہے، لیکن یہ آگے جا کر سر کے اوپر بازو رکھ کر روئیں گے کیونکہ وہاں پر اسلامی حکومت قائم ہو جائے گی۔٭ مصر میں بہت بڑی تبدیلی آ گئی ہے۔ ترکی کا رویہ بدل گیا ہیں۔ خطے میں ایران اور حزب اللہ کی جو آواز ہے اس کے نتیجے میں ایک بہت بڑی تبدیلی رونما ہونے والی ہے۔ عراق میں تبدیلی آ چکی ہے، اب عالمی استعمار دیکھے گا کہ صرف اردن اور سعودی عرب رہ گئے ہیں جو تبدیلی کے بغیر نہیں رہ سکیں گے، اسی طرح یمن میں بھی تبدیلی آ رہی ہے، صومالیہ کو دیکھ لیں، وہاں پر بھی تبدیلی رونما ہونے والی ہے۔ ٭ اب سعودی عرب کا رویہ بھی بدلے گا۔ اس کے بعد امریکہ کے پاس نہ اس کا سیاسی حل ہو گا اور نہ ہی فوجی طاقت استعمال کر سکے گا۔ ٭ گزشتہ روز اسرائیلوں نے 15 آدمی شہید کر دیئے ہیں، غزہ کو محصور کر دیا گیا ہے، وہاں لوگ کھلے آسماں تلے بھوک اور پیاس سے مر رہے ہیں، انہیں سمندری حدود میں داخل نہیں ہونے دیا جا رہا۔ کیا یہ جمہوریت کے نام پر ظلم نہیں؟ انسانی حقوق کے علمبرداروں کو فلسطین میں ظلم نظر نہیں آ رہا؟ اور جب کوئی جہاد کیلئے نکلے تو وہ دہشتگرد ہے، جب انصاف نہیں ملے گا اس وقت لوگ اسلحہ لیکر نکلیں گے، جب کسی قوم کے حقوق سلب کیے جائیں گے اور انہیں دیوار سے لگایا جائے گا تو پھر حق بنتا ہے کہ قوموں کے افراد اُن ظالمون کے ہاتھوں کو روکیں۔٭ اللہ کا بھی یہ حکم ہے کہ ظالمین کو ظلم کرنے سے روکا جائے۔ انسانی فطرت میں بھی یہی چیز شامل ہے کہ وہ ظلم کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کرتا۔ اب اسرائیل کو اپنا رویہ بدلنا ہو گا، یہ مصنوعی ریاست ہے اب زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہ پائے گی۔ میرا خیال ہے کہ اگر اسرائیل نے رویہ نہ بدلا تو یہ ریاست دو چار برسوں میں خود بخود تحیل ہو جائے گی۔ ٭ سازش یہی ہے کہ حسن نصراللہ نے کیونکہ ستمبر 2006ء میں اسرائیل کی ناک رگڑی تھی اور 33 روزہ جنگ میں اسرائیل کا تمام بھرم دنیا پر آشکار کر کے رکھ دیا تھا۔ صرف پانچ ہزار مجاہدوں نے اسرائیل کو شکست فاش سے دوچار کیا اور یہاں تک کہ ان کے لوگوں کو پکڑ لیا۔ حزب اللہ کی فتح نے عربوں کے اندر اسرائیل کے خوف کو مٹا کر رکھ دیا، جو ان طاقتوں کیلئے ایک بہت بڑا دھچکا تھا۔ دوسری طرف حزب اللہ نے الیکشن میں بھی میدان مار لیا، کچھ لوگ انہیں لبنان سے فارغ کرنا چاہتے تھے لیکن وہ لبنان کی پارلیمنٹ میں پہنچ گئے۔ تمام تر چال بازیوں اور پروپیگنڈے کے باوجود وہ انہیں شکست نہ دے سکے۔ اب کمیشن بنا دو، فلاں کر دو، فلاں کر دو۔ یہ جھوٹ کے ہتھکنڈے اور چال بازیاں ہیں جو اب نہیں چلیں گی۔ ان چند سالوں میں دنیا میں بہت بڑی تبدیلی آئی ہے اور بلآخر لوگوں کو اسلام کی جانب لوٹ کر آنا ہے۔ اسلام ہی متبادل نظام ہے، جس نے انسانیت کو پناہ دینی ہے، جس سے دنیا بھر میں امن قائم ہونا ہے۔ جنرل سے پوچھا گیا کہ امام خمینی (رح) کے فرمان پر پوری دنیا میں جمعتہ الوداع کو یوم القدس منایا جاتا ہے کیا آپ سمجتے ہیں کہ پاکستان میں تمام مکاتب فکر ملکر دنیا کو باور کرائیں اور اس احتجاج میں حصہ لیں، جبکہ حکومتی سطح پر موثر سفارتکاری کا راستہ اپنایا جائے اور عالمی فورمز پر دباو ڈالے تو مسئلہ قدس اور فلسطین حل کی جانب بڑھ سکتا ہے۔؟ تو جنرل نے کہا:٭ متحد ہونا چاہیے، اس حوالے سے عرب لیگ کا فورم موجود ہے۔ لیکن اس کے اندر عرب حکمران حائل ہیں۔ اب ایران نے آواز بلند کی ہے سب کو سوچنا چاہیے، ایران اور عربوں کے درمیان مصالحت ہونی چاہیے۔ امریکہ عربوں کو ڈرا رہا ہے کہ ایران کے ہاتھ بم آ جائے گا تو تمہارا کیا ہو گا۔ تو اس کا حل یہی ہے کہ تم بھی بم بنا لو۔ سعودی عرب، مصر، ترکی سب بنا لیں، اس سے کیا قیامت آ جائے گی۔ اگر مغربی دنیا کا ہر چھوٹا بڑا ملک بم رکھ سکتا ہے اور بنا سکتا ہے تمہیں کس نے روکا ہے۔ اگر اسرائیل کے پاس بے شمار ایٹم بم پڑے ہوئے ہیں تو پھر ایران کو کیوں حق حاصل نہیں، سب رکھیں، امریکہ خواہ مخواہ سارے مخمصے اور شکوک و شبہات پیدا کر رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایران اور سعودی عرب کی آپس میں انڈر سٹینڈنگ ہونی چاہیے اور محبت کے رشتے قائم ہوں، یہ کام پاکستان بخوبی انجام دے سکتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد پیدا کرا سکے۔ لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ یہاں کوئی بابصیرت قیادت میسر آ جائے تو کام ہو سکتا ہے۔ ٭ عالمی طاقتوں کو یہ پتہ نہیں ہے کہ وہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماریں گے اگر پاکستان کے اندر ابال آتا ہے تو وہ اسلامی انقلاب کی طرف چلا جائے گا۔ جیسا کہ اب امریکہ افغانستان کے اندر محدود ہو چکا ہے، پھنس گیا ہے، اگر پاکستان کے اندر انقلاب آ جاتا ہے تو امریکہ کے لیے بہت مسائل پیدا ہوں گے اور انڈیا کے لئے سب سے زیادہ مسئلہ پیدا ہو گا۔ اب ہندوستان کے اندر بھی ایک بغاوت اٹھ رہی ہے۔ جیسا کہ انا ہزارے کھلم کھلا کہہ رہا ہے کہ ہمیں انقلاب چاہیے اور پاکستان کے اندر بھی لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں انقلاب چاہیے اور میں خود بھی اس کا داعی ہوں کہ انقلاب چاہیے، کیونکہ انقلاب کے بغیر معاملات حل نہیں ہونگے، اس ساری صورتحال کا سارے کا سارا کریڈیٹ افغانستان کو جاتا ہے کہ جہاں نہتے، بیچارے، کسمپرسی کے شکار، بوری نشین لوگ امریکہ کو شکست دے رہے ہیں۔ یہاں پاکستان اور ایران دونوں کو ملکر اُن کی مدد کرنی چاہیے، یہ مدد مسلکی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے۔ حزب اللہ نے اپنی جگہ پر ایک بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے کہ انہوں نے سب کو ایک امید دلائی ہے، لیکن افغانستان میں ایک تاریخ کا فیصلہ ہو رہا ہے۔ ٭ میں یہاں بتاتا جاوں کہ حزب اللہ کی فتح صرف حزب اللہ کی فتح نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کی فتح ہے۔ اسی طریقے سے افغانستان کی فتح بھی سارے مسلمانوں کی فتح ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
/110