29 جون 2011 - 19:30

ظلم پھر ظلم ہے ، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا

خون پھر خون ہے

ظلم پھر ظلم ہے ، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہےخون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا........خاکِ صحرا پہ جمے یا کفِ قاتل پہ جمےفرق انصاف پہ یا پائے سلاسل پہ جمےتیغ بیداد پہ، با لاشہ بسمل پہ جمےخون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا.......لاکھ بیٹھے کوئی چھپ چھپ کے کمیں گاہوں میںخون خود دیتا ہے جلادوں کے مسکن کا سراغسازشیں لاکھ اڑھاتی رہیں ظلمت کی نقابلے کے ہر بوند نکلتی ہے ہتھیلی پہ چراغ........ظلم کی قسمتِ ناکارہ و رسوا سے کہوجبر کی حکمتِ پرکار کے ایما سے کہومحملِ مجلس اقوم کی لیلیٰ سے کہوخون دیوانہ ہے دامن پہ لپک سکتا ہےشعلہء تُند ہے، خرمن پہ لپک سکتا ہے.........تم نے جس خون کو مقتل میں دبانا چاہاآج وہ کوچہ و بازار میں آ نکلا ہےکہیں شعلہ ، کہیں نعرہ ، کہیں پتھر بن کرخون چلتا ہے تو رکتا نہیں سنگینوں سےسر اٹھاتا ہے تو دبتا نہیں آئینوں سے.........ظلم کی بات ہی کیا، ظلم کی اوقات ہی کیاظلم بس ظلم ہے آغاز سے انجام تلکخون پھر خون ہے، سو شکل بدل سکتا ہےایسی شکلیں کہ مٹاؤ تو مٹائے نہ بنےایسے شعلے کہ بجھاؤ تو بجھائے نہ بنےایسے نعرے کہ دباؤ تو دبائے نہ بنے

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110