26 جون 2011 - 19:30

اغوا شدہ افراد نے طالبان کے غیر انسانی و غیر اسلامی مظالم پر مبنی انکشافات کر دیئے / اغوا کرانے والے فضل سعید نے معاہدہ جنگ بندی کے بعد اعلان کیا تھا کہ اگر طالبان نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو انہیں شریعت محمدی (ص) کے تحت سزائیں دی جائیں گی/ مغویوں کو تین ماہ تک نماز پڑھنے کی اجازت تک نہیں دی گئی / حکومت نے طالبان کے تمام مطالبات مان لئے، کروڑوں کا تاوان ادا کیا، طالبان کمانڈروں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا اور ہم لوگ حکومت کے حوالے کئے گئے۔

ابنا: تفصیلات کے مطابق ۲۵مارچ کو لوئر کرم بگن سے دن دیہاڑے سیکورٹی فورسز کے چیک پوسٹ سے چند قدم کے فاصلے پر طالبان کے ہاتھوں اغوا افراد جن میں سے ۲۶ افراد کو تین ماہ کے بعد گزشتہ دنوں رہا کر دیا گیا تھا۔ان رہا افراد نے اتوار کے دن ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے  طالبان کے غیر انسانی و غیر اسلامی  مظالم پر مبنی انکشافات کر ڈالے۔تقریبا تین ماہ تک طالبان کی قید میں رہنے والے افراد نے کہا کہ اغوا کے وقت جن افراد نے طالبان کے ساتھ جانے سے انکار کیا انہیں موقع پر ہی سڑک پر گولیوں سے بھون دیا گیا، جب کہ جائے ورادات پر موجود لوئر کرم بگن  کے مقامی افراد بشمول سیکورٹی فورسز بھی خاموش تماشائی کی طرح نظارہ کر کے اس جرم میں برابر کے شریک تھے۔اس کے بعد طالبان نے ہمیں وہاں کھڑی ڈبل کیبن گاڑیوں میں ڈال کر ہماری آنکھوں پر پٹیاں باندھ دی،اور جب ہماری آنکھیں کھول دی گئیں تو ہم ایک بڑے غار یا چھوٹے پہاڑ  کی تہہ پر بننے والی سرنگ میں موجود تھے۔ہمیں اس سرنگ یا غار میں طالبان کی طرف سے بنائے ہوئے مختلف  تنگ و تاریک کمروں میں بھیڑ بکریوں کی طرح تقسیم کرکے رکھا گیا۔ جہاں ہمیں بتایا گیا کہ آپ لوگ طالبان کے امیر فضل سعید کے مہمان ہیں۔ فضل سعید وہی طالبان کمانڈر ہے جس نے معاہدہ جنگ بندی کے بعد اعلان کیا تھا کہ اگر طالبان نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو انہیں شریعت محمدی (ص) کے تحت سزائیں دی جائیں گی اور ھم دیکھ رہے ہيں کہ یہاں یہی شخص خود ہی معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والا مجرم ہے۔رہا شدہ مغویوں نے کہا: یہاں صرف طالبان کے امیر فضل سعید کا حکم چلتا ہے،حتی کہ حکومتی اہلکار بشمول فاٹا کے پارلیمانی لیڈر منیر اورکزئی بھی طالبان کے امیر فضل سعید کے تابع اور باقاعدگی سے امیر صاحب کو چندہ دیتے ہیں۔اغوا افراد میں سے ایک نے کہا کہ میں نے سوال اٹھایا کہ کیا اسلام اور قبائلی روایات میں مہمانوں کے ساتھ ایسا ہی غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے جس پر طالبان نے مجھے کلاشنکوف کے بھٹ سے مارا اور دھکے دیئے۔اسی طرح اغوا کے وقت دوران مزاحمت طالبان کی فائرنگ کی زد میں آکر زخمی ہونے والے دو افراد نے کہا کہ انھوں نے زخموں کو اپنی قمیص پھاڑ کر باندھ دیا تھا اور تین ماہ کے دوران طالبان نے انہیں نہ تو کوئی دوائی دی اور نہ ہی ڈاکٹر کا بندوبست کیا۔ کھانے کے وقت انہیں انتہائی خراب چیزیں دی جاتی تھیں اور جس طرح جانوروں کو چارہ ڈالا جاتا ہے، یا اس سے بھی بدتر طریقے سے خوارک پھینک کر رزق کی بے حرمتی کرکے دی جاتی رہی۔تین ماہ کے دوران سر کے بال تو کیا حتی کہ داڑھی بنانے کی اجازت تک نہ دی گئی اور نہ ہی ہمیں نماز پڑھنے کی اجازت تھی۔ طالبان کی قید میں تین ماہ تک مظالم کا شکار بننے والے افراد نے سوالیہ انداز میں کہا کی یہ کون سا اسلام اور کیسے طالبان ہیں ۔۔۔؟؟؟ ہمیں نماز پڑھنے کی اجازت تک نہیں دی گئی۔۔۔رہائی کے متعلق پوچھے گئیے ایک سوال کے جواب میں ان افراد نے کہا کہ رہائی سے ایک دن پہلے طالبان کے کچھ لوگ آئے اور انہوں نے کہا کہ ہمارے امیر صاحب فضل سعید جیت گئے اور آپ لوگ و حکومت ہار گئی، کیونکہ حکومت نے ہمارے تمام مطالبات کروڑوں روپے کے تاوان کے علاوہ جیلوں میں قید طالبان کمانڈروں بشمول امیر صاحب فضل سعید کے بھائی کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی لئے کل آپ لوگوں کو حکومت کے حوالے کیا جائے گا۔ چنانچہ ہمیں غار میں اپنے تنگ و تاریک  کمروں سے باہر نکال کر دوبارہ آنکھوں پر پٹیاں ڈال کر ڈبل کیبن گاڑیوں میں بٹھایا گیا۔ اس موقع پر ایک نوجوان نے اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ تین ماہ تک غار میں اپنے تنگ و تاریک  کمرے میں رہ کر ہمیں یہ اندازہ تک نہیں تھا کہ ساتھ والے کمرے میں کون قید ہوگا، لیکن جس دن ہمیں رہائی کے لئے اپنے کمرے سے باہر لے جایا جا رہاتھا تو میں نے باہر سے ساتھ والے کمرے پر نظر دوڑائی جس میں کئ افراد بشمول دو بچے بھی نظر آئے، جن کی عمریں بمشکل دس سال تک ہونگی، جب کہ اب تک ہمارے کچھ اغوا افراد طالبان کی قید میں ہیں۔ایک بڑی غار یا چھوٹے پہاڑ  کی تہہ پر بننے والی سرنگ  کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر کہ یہ کس علاقے میں تھا،ان افراد نے جواب میں کہا کہ ہم وثوق سے تو نہیں بتا سکتے لیکن رہائی کے وقت جب ہم نے اس غار کو دیکھا اور پھر آنکھوں پر پٹیاں ڈال کر جتنے وقت میں ہمیں ضلع ہنگو کی تحصیل ٹل تک پہنچایا گیا۔ گاڑی میں اتنا وقت و فاصلہ اورکزئی ایجنسی اور کرم ایجنسی کی بارڈر پر موجود پہاڑی علاقے یا پھر لوئر کرم و شمالی وزیرستان کے بارڈر پر موجود علاقہ ہو سکتا ہے۔

بشکریہ از ریڈیو تھران

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

- پاراچنار: 33 میں سے 22 شیعہ مغویان طالبان دہشت گردوں کی حراست سے رہا ہو گئے

- پاراچنار: دہشت گردوں کی قید سے رہا ہونے والے 22 شیعہ مغویان کا گروپ فوٹو

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت