24 جون 2011 - 19:30

اسلام آباد (رائٹرز) ایبٹ آباد میں 2/ مئی کو امریکی آپریشن کے نتیجے میں القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اٹھنے والے طوفان کی انتہا کے دوران پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ڈیڑھ گھنٹے تک اپنے افسران سے بات کرنے کے بعد اپنے افسران سے کہا کہ وہ ان سے جو کچھ پوچھنا چاہتے ہیں پوچھ سکتے ہیں، اور اس کے بعد انہوں نے اپنی سگریٹ جلانے کیلئے لائٹر جلایا۔

ابنا: 19/ مئی کو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں خطاب کے موقع پر امریکا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کہا ”صورتحال انتہائی نازک ہے۔ معاملات آسان نہیں“۔ فوج کا مورال بلند کرنے کی خاطر ”ٹاؤن ہال“ میٹنگز میں سے ایک کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ”اگر ہم اس صورتحال سے نکل جائیں، اپنا تعلق برقرار رکھیں اور انہیں بتائیں کہ ہم مسئلے کا حل ہیں، مسئلے کا حصہ نہیں، تو ہم کامیاب ہوجائیں گے“۔ میٹنگ کے شرکاء کی رائے تھی کہ پرسکون انداز میں بیٹھے جنرل کیانی کے تاثرات دیکھ کر کہیں سے بھی معلوم نہیں ہوتا تھا کہ وہ دباؤ کا شکار ہیں۔ ان کے سامنے 80/ افسران موجود تھے جبکہ تقریب میں سویلینز کی تعداد کم تھی۔ انہوں نے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے شخص کے سوالوں کے جوابات انتہائی پرسکون اور نرم لہجے میں دیئے۔ جب ایک نوجوان کرنل نے سوال کیا کہ اگر امریکا ہم پر اعتماد نہیں کرتا تو پاکستان نے امریکا کے ساتھ رشتہ کیوں برقرار رکھا ہوا ہے۔ اس پر جنرل کیانی کا کہنا تھا کہ یونیفارم میں رہتے ہوئے ہم کوشش کرتے ہیں کہ ہم ہر چیز کو غلط یا صحیح کے تناظر میں دیکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل زندگی میں بہت ساری چیزیں مبہم ہوتی ہیں اور ہمیں ان سے نمٹنا ہوتا ہے۔ رائٹرز کے ایک نامہ نگار نے اس میٹنگ میں شرکت کی تھی لیکن چونکہ یہ ایک آف دی ریکارڈ پروگرام تھا اسلئے اس وقت تک اس کی رپورٹنگ نہیں کی جا سکتی تھی جب تک شرکاء نے خود میڈیا کو بتایا کہ جنرل کیانی نے کیا کہا تھا۔ جنرل کیانی کی باتیں شرکاء نے بتائیں اور رائٹرز نے اس کی تصدیق کی۔ ملک میں بڑھتی ہوئی اسلامی شدت پسندی سے نبرد آزما اور ملک کی آخری دفاعی لکیر سمجھی جانے والی پاک فوج ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن کے بعد سے شدید دباؤ کا شکار ہوگئی ہے۔ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی اور پاکستانی حدود میں امریکی ہیلی کاپٹرز کا پتہ لگانے میں اس کی ناکامی نے اس شدید بحران سے دوچار کردیا ہے اور صورتحال کو 1971ء کے اس دور سے تشبیہ دی جا رہی ہے جب بھارت نے اسے شرم ناک شکست سے دو چار کیا تھا اور مشرقی پاکستان آزادی حاصل کرکے بنگلادیش بنا تھا۔ کسی لحاظ سے 1971ء کے مقابلے میں حالیہ واقعہ زیادہ بدتر ہے کیونکہ ایک تو امریکی ہیلی کاپٹروں نے ملٹری اکیڈمی کے قریب آ کر کارروائی کی تو دوسری طرف مئی کے مہینے میں ہی دہشت گردوں نے کراچی میں بحریہ کے اڈے (مہران بیس) پرحملہ کرکے دو مہنگے طیارے تباہ کردیئے۔ اس ساری صورتحال کے باوجود اس بات کا کہیں سے بھی امکان نہیں کہ جنرل اشفاق کیانی جلد ہی مستعفی ہوجائیں گے۔ کم از کم اس وقت تک تو بالکل نہیں جب تک فوج کا کھویا ہوا مورال بحال نہیں ہوجاتا۔ اس بات کا بھی امکان نہیں کہ فوج کے سینئر افسران جنرل کیانی کے مخالف ہوجائیں گے۔ اسلام آباد کے سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکورٹی کے امتیاز گل کا کہنا ہے کہ فوج ایک منظم ادارہ ہے اور اس وقت وہ بحران کا شکار ہے اور ایسی صورتحال میں اگر فوجی کمانڈرز نے جنرل کیانی کو عہدہ چھوڑنے کیلئے کہا تو یہ ایک تباہ کن صورتحال ہوگی۔ اپنے افسران کو خود سے سوال کرنے کی اجازت دے کر جنرل کیانی فوجی روایات پر عمل کر رہے ہیں جس کے تحت فوجی افسران اپنے ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ جنگ میں جانے سے پہلے اگر ان کے کوئی خدشات ہیں تو وہ بیان کریں۔ لیکن ایک مرتبہ احکامات مل گئے تو اس پر سوال کیے بغیر عمل لازمی ہوجاتا ہے۔ جنرل (ر) احسان الحق کا کہنا ہے کہ کور کمانڈرز میں ڈسکشن ہوتا ہے؛ تند و تیز جملوں کا تبادلہ نہیں۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں بھی جنرل کیانی نے دفاعی حکمت عملی اختیار نہیں کی بلکہ لوگوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ سوالات پوچھیں۔ تقریب میں ایک موقع ایسا بھی آیا جب ایک طالبہ نے سوال پوچھنے کیلئے اپنا ہاتھ بلند کیا لیکن تقریب کے آرگنائزر افسر نے کہا کہ سوالات پوچھنے کا وقت ختم ہوچکا ہے اور آدھی رات ہوچکی ہے؛ اس وقت جنرل کیانی نے سوال کا جواب دینے کی خواہش ظاہر کی۔ طالبہ نے پاکستان کو درپیش خطرات کے متعلق سوال کیا۔ جنرل کیانی نے جواب میں بھارت کا ذکر نہیں کیا۔ چار گھنٹے تک جاری رہنے والے سیشن میں بھارت کا کہیں بھی ذکر نہیں آیا۔ سوال کے جواب میں جنرل کیانی نے کہا، ”جو بات مجھے پریشان کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ملک کو بالواسطہ (Indirect) خطرات یعنی معیشت کے خطرے کا سامنا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت