ابنا: کویت کے حکومتی خاندان کے اس رکن نے قوموں پر جبری حاکمیت کے دور کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عرب حکام کو اپنے تیونس اور مصر کے ہم منصبوں کی سرنگونی سے عبرت حاصل کرنی چاہیے اور اپنے ملک میں اصلاحات کا عمل جلد سے جلد شروع کر دینا چاہیے۔ واضح رہے کہ تیونس کے مفرور ڈکٹیٹر زین العابدین بن علی ملک میں عوامی تحریک کا ایک مہینہ بھی سامنا نہ کر سکے اور تیونس سے بھاگ کر سعودی عرب چلے گئے۔جبکہ مصر کے عوام نے بھی پچیس جنوری دو ہزار گیارہ کو حسنی مبارک کی استبدادی حکومت کے خلاف اپنی تحریک شروع کی اور گيارہ فروری کو اسے اقتدار سے علیحدہ ہونے پر مجبور کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز