20 جون 2011 - 19:30

تیونس کے مفرور صدر بن علی اور ان کی اہلیہ لائلہ کو چوری اور دیگر الزامات کے تحت 35 سال قید کی سزا سنائی گئی ہےبن علی آج کل سعودی عرب میں پناہ لئے ہوئے ہیں سعودی عرب امریکہ نواز عرب مجرم حکام کی پناہ گاہ بن گیا ہے۔

ابنا: سابق صدر بن علی تیونس میں جنوری میں مظاہروں کے بعد اقتدار سے الگ ہو کر سعودی عرب فرار کرگئے تھے۔تیونس کی عدالت نے سابق صدر کی غیر موجودگی میں مقدمے کی سماعت میں ان پر 36 ملین ڈالر جب کہ ان کی بیوی پر تیس ملین ڈالر کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔مقدمے کی سماعت کرنے والے جج نے کہا کہ سابق صدر پر منشیات اور اسلحہ کی سمگلنگ سے متعلق دیگر الزامات پر فیصلہ تیس جون کو سنایا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب امریکہ نواز اور مجرم عرب حکام کی پناہ گاہ بن گيا ہےسعودی عرب خطے میں امریکی مفادات کو تحفظ  فرا ہ م کررہا ہے۔رواں سال فروری میں تیونس کے حکام نے سرکاری طور پر سعودی عرب سے سابق تیونسی صدر زین العابدین بن علی کو تیونس کے حوالے کیے جانے کی درخواست کی تھی۔ تاہم ابھی تک سعودی عرب نے تیونس کی اس درخواست کا جواب نہیں دیا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت