16 جون 2011 - 19:30

سعودی عرب میں ہزارون خواتین نے اپنی گاڑیاں سڑکوں پرلاکر احتجاج کیا ہے۔

ابنا: اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کی سڑکوں پرآج ہزاروں خواتین کو گاڑی چلاتے ہوئے دیکھا گيا۔ سعود عرب کی خواتیں کاخیال ہے کہ اب جبکہ عرب ملکوں میں عوامی تحریکیں شروع ہوچکی ہیں تو وہ بھی ان تحریکوں کے زیرسایہ اپنے حقوق حاصل کرسکتی ہیں۔قابل ذکر ہے سعودی عرب کی سات ہزار خواتین نے گاڑی چلانے پر آمادگي کا اظہار کیا ہے۔ادھرہزاروں افراد نے فیس بک پرکہا ہے کہ اگر خواتین نے گاڑی چلانے کی کوشش کی تو انہیں زد وکوب کیاجائے گا۔سیاسی مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے سعودی عرب میں خواتین کے گاڑی چلانے پر پابندی کو غیر انسانی غیر منطقی اور سعودی حکام کی فکری پسماندگي کی نشانی قرار دیا ہے۔ سیاسی مبصر حمزہ الحسن نے کہا ہے کہ سعودی وزیرداخلہ نے پسماندگي کی شکار فتوی کونسل پر اثر ورسوخ استعمال کر کے خواتین کی ڈررائيونگ پر پابندی لگادی۔یاد رہے سعودی عرب کے سلفی مفتیوں کے فتوے اسلام کے مضحکے اور بدنامی کا سبب بنے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت