اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مشہور و معروف عیسائی مفکر اور کتاب "الامام علی (ع) صوت العدالة الانسانیة" کے مؤلف جارج جُرداق نے علی علیہ السلام کی ولادت با سعادت کے حوالے سے تابناک نیوز ویب سائٹ سے بات چیت کرتے ہوئے امیرالمؤمنین علیہ السلام کے بارے میں کہا: جو کچھ میں جانتا ہوں وہ یہ ہے کہ امام علی علیہ السلام انسانیت کی تاریخ کی عظیم ہستیوں میں سے ہیں، امام علی (ع) نے عالم وجود میں عدل کا نظریہ استوار فرمایا اور بیان کیا کہ عالم وجود عدل پر استوار ہے اور ہرشیئے عالم وجود میں تم سے اتنا ہی لیتی ہے جتنا وہ تمہیں دیتی ہے۔ وہ تم سے لیتی ہے اور ایسا نہیں ہے کہ وہ صرف دیتی ہے اور لیتی نہیں ہے؛ اور ایسا بھی نہیں ہے کہ تم سے لے لے اور تمہیں کچھ نہ دے۔

جارج جرداق نے امام علی علیہ السلام کی شخصیت کی خصوصیات اور آپ (ع) کی فکر کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا اور 1997 میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے اپنی ملاقات کا بھی تذکرہ کیا۔ انھوں نے حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کی شخصیت کی توصیف کرتے ہوئے کہا: میں نے امیرالمؤمنین (ع) کی شخصیت اور افکار کے بارے میں اب تک چھ جلدوں پر مشتمل کتاب تألیف کی ہے لیکن مجھے محسوس ہورہا ہے کہ میں آپ (ع) کی شخصیت کی حقیقت کا ادراک نہیں کرسکا ہوں اور جو کچھ میں اس عظیم شخصیت کے بارے میں لکھنا اور تألیف کرنا چاہتا ہوں وہ نہیں لکھ سکا ہوں چنانچہ اگر میں یہاں چاہوں کہ دو تین جملوں میں اس شخصیت کی خصوصیات بیان کروں تو یہ ہرگز ممکن نہیں ہوگا۔

انھوں نے کہا: بس میں اتنا ہی جانتا ہوں کہ امام علی علیہ السلام انسانیت کی تاریخ کی عظیم شخصیات میں سے ہیں اور انھوں نے عدل کا مفہوم اور عالم وجود میں عدل کی فرمانروائی کا نظریہ پیش کیا اور بیان فرمایا کہ عالم وجود عدل پر استوار ہے اور ہرشیئے عالم وجود میں تم سے اتنا ہی لیتی ہے جتنا تمہیں دیتی ہے۔ وہ تم سے لیتی ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ وہ صرف دیتی ہے اور لیتی نہیں ہے؛ اور ایسا بھی نہیں ہے کہ تم سے لے لے اور تمہیں کچھ نہ دے۔جارج جرداق نے کہا: امام علی علیہ السلام نے مفہوم عدل کی گہرائی کا ادراک کرلیا تھا اور اپنے زمانے میں معاشرے کی عدل کی بنیاد پر تشکیل نو فرمائی تھی۔ اس عیسائی دانشور نے کہا: امام علی علیہ السلام وہ عظیم شخصیت ہیں جنہوں نے دنیا کے عمرانیات کے اصولوں کو سب سے پہلی مرتبہ وضع فرمایا اور وہ بھی یورپی دانشوروں سے 14 صدیاں قبل۔

عیسائی مصنف نے کہا: حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے ایسی عبارتیں اور ایسے جملے وارد ہوئے ہیں جو اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ عمرانیات (سوشیالوجی) کے اصول آپ (ع) نے ہی وضع فرمائے ہیں۔ مثال کے طور پر امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: کوئی بھی دولتمند شخص اس وقت تک دولتمند نہیں ہوتا جب تک معاشرے کے نادار شخص کے حق میں تصرف نہ کرے۔مثال کے طور پر فرماتے ہیں: «ان الله سبحانه فرض فی الاموال الاغنیاء اقوات الفقراء فما جاع فقیر الا بما منع به غنی والله تعالی سائلهم عن ذالک»۔
(نهج البلاغه، حکمت 328)۔ "بے شک خدائے سبحان نے غرباء کا رزق دولتمندوں کے سرمائے میں قرار دیا ہے پس کوئی بھی غریب بھوکا نہیں رہتا سوائے اس کے کہ سرمایہ دار مزید دولت سمیٹنے میں کامیاب ہوجائیں اور خداوند متعال روز قیامت ان سے بھوکوں کی بھوک کے سلسلے میں ضرور پوچھے گا"۔ اس جملے کا مفہوم عمرانیاتی مفہوم ہے۔ آپ ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: «ما رأيتُ نعمةً موفورةً إلاّ وفى جانبِها حقّ مضيَّع»۔ (الامام علی صوت العدالة الانسانیة - جارج جرداق، ترجمہ سيد ہادی خسروشاہی، ج ۱، ص ۱۳۴)۔میں نے کہیں بھی کثیر (اور ضرورت سے زیادہ نعمت نظر نہیں آئی مگر یہ کہ اس کے ساتھ ساتھ ایک حق ضائع کردیا گیا ہو)۔یہ امام علی علیہ السلام کے عمرانیاتی اصول ہیں۔ جارج جرداق نے اس انٹرویو میں 1997 میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے اپنی ملاقات کا تذکرہ کیا اور کہا:
میں نے 1997 میں ایران کے سفر پر آیا وہاں میں نے امام خامنہ ای سے ملاقات کی اور ہم نے بات چیت کی۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ حقیقتاً وہ ایک عظیم انسان ہیں؛ کیونکہ عظیم انسانوں کی ایک اہم خصوصیت تواضع اور منکسرالمزاجی ہے۔ میں نے دیکھا کہ وہ جتنے عظیم اور بزرگ انسان ہیں اتنے ہی خاکسار اور متواضع ہیں۔ انھوں نے کہا: اس ملاقات میں حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام اور آپ (ع) کے بارے میں کتاب لکھنے کے سلسلے میں میرے محرکات پر بھی بات ہوئی۔ امام خامنہ ای نے میری کتاب (الامام علی (ع) صوت العدالة الانسانیة) کا مطالعہ کیا تھا اور اسے پسند فرمایا تھا اور میں نے اسی بنا پر ان کا شکریہ ادا کیا اور ان کی خدمت میں عرض کیا کہ "حق تو یہ ہے کہ آپ کا نام بھی امام ہی ہونا چاہئے اور ہم آپ کے شاگرد ہیں"۔ انھوں نے رہبر انقلاب اسلامی کی شخصیت کے بارے میں اپنے تأثرات بیان کرتے ہوئے کہا: امام خامنہ ای ایک مفکر، دانشور، عاقل و دانا، بزرگوار اور کریم الطبع، دنیا و ما فیہا کی قیدوں سے آزاد اور حریت کی چوٹیوں پر فائز اور بہت ہی متواضع اور منکسرالمزاج انسان ہیں اور یہ وہ تمام اوصاف ہیں جو ایک رہبر کے لئے ضروری ہیں۔ مجھے کہنا چاہئے کہ امام خامنہ ای امام خمینی رحمةاللہ علیہ کے سچے پیروکار ہیں اور امام خمینی رحمة اللہ علیہ حضرت امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہما السلام کے سچے پیروکار تھے۔ امام خامنہ ای حقیقتاً عظیم انسان ہیں اور اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ اس مقام و منزلت تک نہ پہنچ پاتے۔

انھوں نے کہا: مجھے معلوم ہے کہ جو بھی امام خامنہ ای کی شخصیت کی تعریف و توصیف کرنا چاہے انہیں انسانیت کے بلند ترین مراتب اور اخلاق اور عدل کی والاترین چوٹیوں پر فائز انسان کے عنوان سے متعارف کرائے گا۔ امام خامنہ ای عظیم انسان ہیں اور ایران اس جیسی عظیم شخصیت کی وجہ سے ہی قابل قدر و احترام ہے۔جارج جرداق نے ایران کے لئے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: میں یہیں (لبنان) سے امید رکھتا ہوں کہ ایران اس زمانے میں ویسا ہی عدل و اخلاق اور تمام خوبیوں اور نیکیوں کا ملک ہو جس طرح کہ اس عظیم انسان کے شایان شان ہے۔ انھوں نے آخر میں کہا: میں کلی طور پر کہنا چاہوں گا کہ امام خمینی رحمة اللہ علیہ اور امام خامنہ ای امیرالمؤمنین علیہ السلام کی راہ و روش پر گامزن رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز