چند جملے بھی خطے کی صورت حال پر عرض کرنا چاہوں گاپہلی بات یہ ہے کہ جو واقعات شمالی افریقہ اور ہمارے خطے میں رونما ہوئے ہیں، بہت ہی اہم اور تاریخ ساز واقعات ہیں۔ جو واقعات مصر میں رونما ہوئے، جو واقعات تیونس میں رونما ہوئے، یہ عظیم اسلامی بیداری جو اسلامی ممالک میں رونما ہوئی ہے، ان واقعات میں سے ہے جو کبھی دو تین صدیاں گذر جاتی ہیں تا کہ اس طرح کا کوئی واقعہ رونما ہو؛ یہ بہت ہی اہم، تأثیر گذار اور تاریخ ساز واقعات میں سے ہیں۔ البتہ مصری قوم کامیاب ہوگئی، تیونس کی قوم کامیاب ہوگئی؛ خاص طور پر انقلاب مصر کی کامیابی بہت ہی درخشاں اور تابناک ہے؛ بہت عظیم کارنامہ ہے۔ لیبیا، یمن اور بحرین کے مظلوم عوام جدوجہد کررہے ہیں؛ ان تین ملکوں کی جدوجہد کے بارے میں الگ الگ بات کی جاسکتی ہے۔ عوام کی تحریکوں کی کامیابی یقینی ہے؛ جلدی یا بدیر لیکن کامیابی یقینی ہے۔ جب لوگ بیدار ہوجاتے ہیں، جب ایک قوم اپنے اندر قوت و طاقت اور صلاحیت محسوس کرتی ہے، کوئی بھی چیز اس کا راستہ بند نہیں کرسکتی۔ گو کہ اقوام کے دشمن ـ یعنی تسلط پسند عالمی نظام، شیطان کبیر امریکہ، غدار اور درندہ صفت صہیونی ـ اپنی سازشوں میں مصروف ہیں وہ یہ نہیں چاہتے کہ یہ کامیابیاں لوگوں کے ذائقے کو مٹھاس بخشیں اور وہ نہیں چاہتے کہ یہ تحریکیں حقیقی معنوں میں کامیابی تک پہنجیں؛ تاہم اگر ہم مسلم اقوام بیدار ہوں، قرآن کی ندا کو ـ جو ہمیں صبر، استقامت اور ثابت قدمی کی دعوت دے رہی ہے اور ہمیں امید بخشتی ہے ـ توجہ دیں۔ خدائے متعال پر بدظن نہ ہوں، اللہ کے وعدوں پر یقین اور امید رکھیں اور مقصد کے حصول کے لئے جدوجہد کریں، اس میں شک نہیں ہے کہ یہ اقوام کامیاب ہوں گی۔ البتہ لیبیا میں مغربی ممالک کی پالیسی یہ ہے کہ لیبیا کو کمزور کردیں، اس کا خون کم کردیں؛ یہ ان کی پالیسی ہے کہ خانہ جنگی جاری رہے تا کہ یہ ملک مکمل طور پر کمزور پڑ جائے اور بعد میں وہ بلاواسطہ یا بالواسطہ طور پر آئیں اور اس حساس ملک کے معاملات کو اپنے ہاتھ میں لیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ لیبیا تیل کے ذخائر سے مالامال ملک ہے۔ دوسری بات یہ ہی کہ لیبیا یورپ سے چند ہی قدموں کے فاصلی پر واقع ہے؛ لہذا عالمی مستکبرین، امریکہ اور مغربی یورپ کے لئے یہ ملک بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ وہ آسانی سے اس ملک سے ہاتھ نہیں کھینچنا چاہتے۔ وہ اس ملک کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ اگر مغربی قوتیں اس ملک کو اپنے حال پر چھوڑتیں تو عوام غلبہ پاسکتے تھے؛ اس صورت میں لیبیا میں اسلامی اور عوامی حکومت قائم ہوتی، یہ ان کے لئے خطرہ اور چیلنج تھا؛ چنانچہ وہ وہاں ایسا نہیں ہونے دینا چاہتے۔ یمن کی صورت حال بھی تقریباً ایسی ہی ہے۔ یمن سوق الجیشی [تزویری یا Strategic] حوالے سے بھی اہم ہے، امریکہ سے ملے ہوئے بعض ملکوں کے پڑوس میں واقع ہونے اور سیاسی جغرافیئے (Geopolitical) کے لحاظ سے بھی؛ امریکہ اور مغرب کی پالیسی یہ ہے کہ ان دو ملکوں میں عوام کامیاب نہ ہوں۔ انقلاب بحرینبحرینی عوام بھی مطلق مظلومیت میں مبتلا ہیں۔ وہاں بھی ـ اس لئے کہ عوام شیعہ ہیں ـ انقلاب کو فرقہ وارانہ اور مذہبی قرار دینا چاہتے ہیں؛ جبکہ حقیقت یہ نہیں ہے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ بحرین کے عوام شیعہ ہیں، پوری تاریخ میں شیعہ تھے؛ اکثریت شیعہ ہے؛ لیکن مسئلہ شیعہ اور سنی کا نہیں ہے؛ مسئلہ یہ ہے کہ یہ قوم مظلوم ہے؛ یہ ملت اپنی مٹی پر، اپنے ملک میں، اپنی سرزمین پر تمام بنیادی شہری حقوق سے محروم ہے۔ اپنا حق مانگ رہی ہے، اپنا حق رائے دہی طلب کررہی ہے؛ بحرین کی ملت کہتی ہے: مجھے ووٹ دینے کا حق ملنا چاہئے؛ مجھے حکومت کے قیام میں کردار ادا کرنے کا حق ملنا چاہئے؛ یہ تو جرم نہیں ہے! یہ ایک قانونی حق ہے۔ اس کے باوجود جھوٹے، ریاکار اور مکار امریکی ـ جو انسانی حقوق اور جمہوریت کا دعوی کرتے ہیں ـ بحرین کے قضیئے میں عوام کے خلاف میدان میں اترے ہیں۔ البتہ وہ اس حقیقت کا انکار کرتے ہیں، کہتے ہیں "ہم نہیں ہیں بلکہ سعودیوں نے مداخلت کی ہے"، لیکن [حقیقت یہ ہے کہ] سعودی امریکہ کے گرین سگنل کے بغیر بحرین میں داخل نہیں ہوسکتے تھے اور اس طرح کے تلخ اور خونبار حادثات رقم نہیں کرسکتے تھے لہذا امریکی بھی ذمہ دار ہیں۔ ہم امریکہ و صہیونی مخالف تحریکوں کے ساتھ ہیںمصر، تیونس، لیبیا، یمن اور بحرین کے انقلابات کی حمایتمیں یہاں دو تین نکات عرض کرتا ہوں؛ وقت ختم ہوگیا ہے۔ پہلا نکتہ یہ ہے کہ ان ممالک کی عوامی تحریکوں کے تین بنیادی معیار ہیں: ایک اسلامی ہونا، دو امریکہ و صہیونیت مخالف ہونا اور تین عوامی ہونا۔ یہ معیار سارے ممالک میں مشترک ہے۔ ملت مصر جو عالم عرب اور عالم اسلام میں ایک جانی پہچانی قوم ہے، ایسی قوم ہے جس نے یہ تحریک اپنے ملک میں شروع کررکھی ہے، اس انقلاب کو اپنے ملک میں معرض وجود میں لائی ہے، جو اسلامی بھی ہے اور عوامی بھی ہے؛ واضح طور پر امریکہ مخالف اور صہیونیت مخالف بھی ہے۔ دیگر ممالک کی تحریکیں بھی ایسی ہی ہیں۔ ان عوامی تحریکوں کے حوالے سے ہمارا موقف واضح ہے: جہاں بھی اسلامی تحریک ہے، جو عوامی بھی ہے اور امریکہ مخالف بھی ہے، ہم اس تحریک کے ساتھ ہیں۔ لیکن اگر ہم نے کہیں دیکھا کہ کوئی تحریک امریکیوں اور صہیونیوں کے اکسانے پر معرض وجود میں آئی ہے، ہم اس تحریک کا ساتھ نہیں دیتے۔ ہم امریکہ مخالف اور صہیونیت مخالف تحریکوں کے ساتھ ہیں۔ جس جگہ امریکی اور صہیونی بذات خود میدان میں اترتے ہیں کہ کسی حکومت کا تختہ الٹ دیں ایک ملک پر قبضہ کرلیں، وہاں ہم امریکیوں کے مدمقابل محاذ میں قرار پاتے ہیں۔ امریکہ اس ملک کی اقوام کے فائدے میں کوئی بھی بات اور کوئی بھی کام نہیں کرسکتا۔ جو کام بھی وہ کرتا ہے اور جو کام بھی اس نے آج تک سرانجام دیا ہے، علاقے کی اقوام کے مفادات کے خلاف ہی تھا۔ یہ ہمارا موقف ہے۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ان ممالک ـ جو بحمداللہ کامیاب ہوگئے ہیں خاص طور پر مصر، جو ایک بڑا اور بہت بھرپور اسلامی، معنوی اور تہذیبی ورثے کا نقیب ہے ـ کو محتاط رہنا چاہئے کہ جو دشمن دروازے سے نکل کر چلاگیا ہے کہیں کھڑکی سے دوبارہ نہ گھس آئے۔ یہ امداد جو کہتے ہیں کہ امریکہ ممکن ہے کہ مصر یا کسی بھی دوسرے ملک کو دے دے۔ بذات خود مشکلات اور مسائل کا منبع ہے۔ امریکی اسی مالی امداد اور ان ہی ڈالروں کے سہارے ملکوں کے اوپر اپنا تسلط جمالیتے ہیں، اپنی توقعات ممالک پر ٹھونس دیتے ہیں؛ جس قوم نے آزادی حاصل کرلی ہے اسے اسی مالی امداد کے ذریعے دوبارہ اپنی ظالمانہ طاقت کے پنجے میں جکڑ لیتے ہیں۔ سب کو بیدار رہنا چاہئے۔ البتہ ملت مصر بیدار ہے۔ یہ عظیم اقدامات جو ملت مصر نے اس ملک کی سابقہ حکومت کے خلاف فلسطین، غزہ اور رفح پاس کے حوالے سے سرانجام دیئے ہیں، بہت ہی قابل قدر اقدامات ہیں؛ ان اقدامات کو جاری رہنا چاہئے۔ مصر دنیائے عرب میں ایک مؤثر ملک ہے؛ اسی بنا پر وہ لوگ جو عرب ممالک کو غاصب صہیونی ریاست کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا چاہتے تھے، وہ مصر کی طرف متوجہ ہوگئے ہیں۔ انھوں نے کیمپ ڈیویڈ کا شرمناک معاہدہ مصر پر مسلط کردیا۔ جب مصر میں کیمپ ڈیویڈ معاہدے کو قبول کیا گیا تو رفتہ رفتہ دوسرے عرب ممالک نے بھی سر تسلیم خم کیا، امریکہ کے سامنے جھک گئے؛ فلسطین کا مسئلہ عرب ممالک کی فیصلہ سازی کے میدان سے کلی طور پر خارج ہوگیا۔ سب کو محتاط رہنا چاہئے۔ مصر کے سلسلے میں [مغربی قوتیں اور صہیونی حلقے] حساسیت رکھتے ہیں۔ یہ قوتیں جمال عبدالناصر کے [انتقال] کے ایک دن بعد ـ جن کے زمانے میں مغربی اور استکباری قوتیں نکال باہر کی گئی تھیں ـ دوبارہ لوٹ آئیں۔ یہ تجربہ مصر میں دہرایا نہیں جانا چاہئے۔ ملت مصر بیدار ہے، ہوشیار ہے اور ہمیں امید ہے کہ خداوند متعال اس سلسلے میں بھی ان کی مدد فرمائے۔ ملتوں کو کچل کر خاموش نہیں کیا جاسکتاتیسرا نکتہ یہ ہے کہ جبر کو بروئے کار لاکر ملتوں کی سرکوبی کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اقوام جب بیدار ہوجاتی ہیں، جب اقوام اپنی قوت سے آگاہ ہوجاتی ہیں، وہ اس راستے پر گامزن رہتی ہیں اور ان شاء اللہ خطے کی اقوام کی تحریکیں ـ خواہ ان ملکوں میں جہاں پہلے سے تحریکیں جاری ہیں خواہ ان ممالک میں جہاں ایسی تحریکیں شروع ہونے کے لئے ماحول تیار ہے ـ کامیاب ہوہی جائیں گی۔ عوام ان ممالک میں کامیاب ہوجائیں گے؛ تاہم انہیں دشمنوں کے اختلاف انگیز اور تفرقہ انگیز اقدامات سے ہوشیار رہنا چاہئے۔ آج مصر میں بھی، تیونس میں بھی، شمالی افریقہ میں، دیگر اسلامی ممالک میں، دشمن قوتیں تفرقہ ڈالنے کی سازشیں کررہے ہیں۔ خاص طور پر چونکہ اسلامی ایران استکبار کے خلاف جدوجہد کا مرکز و محور ہے، دشمنوں کی کوشش ہے کہ اسلامی ایران اور دوسرے ممالک کے درمیان اختلاف ڈال دیں؛ قومی اختلافات، مذہبی اختلافات، حتی ان ممالک کے اندر بھی تفرقہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ آج مصر میں بعض تکفیری اور وہابی ٹولوں کی کوشش ہے کہ مختلف حیلوں بہانوں سے مصری عوام کے درمیان اختلاف پیدا کریں؛ ان اختلاف اندازیوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ فلسطین کے سلسلے میں بھی ہمارا موقف واضح ہے۔ ہماری رائے یہ ہے کہ سرزمیں فلسطین، مملکت فلسطین، پورا کا پورا فلسطینی عوام کا ہے۔ جن لوگوں نے فلسطین کا نقشہ عالمی جغرافئے سے حذف کرنے کی کوششیں کیں، وہ غلطی کے مرتکب ہوئے؛ ایسا کبھی بھی نہیں ہوگا۔ فلسطین رہے گا۔ چند عشروں تک غاصبوں نے اسے غصب کیا؛ لیکن بلا شک ایک بار پھر فلسطینی عوام اور اسلام کی آغوش میں لوٹ کر آئے گا؛ اور یہ ہوکر رہے گا۔ فلسطینی عوام بھی بیدار ہیں۔ فلسطین قابل تقسیم نہیں ہے؛ پورا فلسطین فلسطینیوں کا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے چند سال قبل ایک راہ حل پیش کی ہے۔ یہ مسئلہ فلسطین کا راہ حل ہے۔ یہ امریکیوں اور ان جیسوں کا راہ حل نہیں ہے۔ ان کا راہ حل کسی نتیجے پر نہیں پہنچے گا۔ راہ حل یہ ہے کہ فلسطینی عوام ایک ریفرینڈم منعقد کریں؛ فلسطینی عوام جس قسم کی حکومت کو ریفرینڈم میں رائے دیں گے اسی حکومت کو فلسطین پر حاکم ہونا چاہئے۔ اس کے بعد وہ خود ہی فیصلہ کریں گے کہ بیرونی ممالک سے فلسطین میں آئے ہوئے صہیونیوں کے ساتھ کیا معاملہ کریں؛ ان کے ساتھ معاملہ اس حکومت کے فیصلے پر منحصر ہوگا جو فلسطینی عوام کی رائے سے منتخب ہوگئی ہو۔ پروردگارا! مسلم اقوام، ملت مصر، ملت تیونس، ملت ليبیا، ملت يمن، ملت بحرين، فلسطین کی مظلوم ملت کو اپنی عنایات کے سائے میں مکمل کامیابی عطا فرما۔ پروردگارا! ایران کی ملت عزیز پر اپنی برکتیں روز افزوں فرما۔پروردگارا! امام بزرگورا اور شہداء کی پاک روحوں کو بہشت کے اعلی درجات میں اپنی نعمتوں سے بہرہ مند فرما۔پروردگارا! ہمیں حضرت بقیة اللہ (ارواحنا فداہ) کی دعاؤں میں شامل فرما۔ والسّلام عليكم و رحمةاللَّہ و بركاتہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
- مکتب امام خمینی (رحمۃاللہ علیہ) امام خامنہ ای (مدظلہ) کے زبانی
-